Saturday, 27 January 2018

دلچسپ انگریزی

٭دلچسپ انگریزی٭

1۔ انگلش زبان کے جس بھی لفظ کے شروع یا درمیان میں "q" ہوگا تو اُسکے بعد ہمیشہ "u" آئے گا۔

2۔ "Dreamt" انگلش میں وہ واحد ایسا لفظ ہے جو "mt" پر ختم ہوتا ہے
اس کے علاوہ انگلش میں کوئی ایسا لفظ نہیں

3۔ "Underground" انگلش زبان میں واحد لفظ ہے جو "Und" سے شروع اور "Und" پر ہی ختم ہوتا ہے۔

4۔ پوری انگلش زبان میں صرف چار الفاظ ایسے ہیں جو "dous" پر ختم ہوتے ہیں
Tremendous, Horrendous, Stupendous, & Hazardous

5۔ آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق انگلش زبان کا سب سے بڑا لفظ۔۔!
"pneumonoultramicroscopicsilicovolcanoconiosis" یہ ہے جو کہ پھیپھڑے کی ایک بیماری کا نام ہے۔

6۔ "Therein" انگلش کا ایک ایسا لفظ ہے جس سے دس الفاظ نکل سکتے ہیں۔۔!
The, There, He, In, Rein, Her, Here, Ere, Therein, Herein

7۔ Key بورڈ پر صرف بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ٹائپ ہونے والا سب سے بڑا بامعنی لفظ "Stewardesses" ہے۔

8۔ ہم اپنی روزمرہ گفتگو میں (ok) کا لفظ بہت استعمال کرتے ہیں اِس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ ایک امریکی صدر "اینڈریو جیکسن" نے all correct کے غلط ہجے یعنی oll kurrect استعمال کرتے ہوئے اس کے ابتدائی حروف o.k کو پاپولر بنا دیا۔

9۔ اگر آپ دنیا کے براعظموں کے نام انگریزی میں لکھیں تو آپ پر انکشاف ہوگا کہ ہر براعظم کا نام جس حرف سے شروع ہوتا ہے، اسی پر ختم ہوتا ہے۔ سوائے America کے North اور South کے

1۔ Asia۔۔۔2۔ Africa۔۔۔3۔ America۔۔۔4۔ Antarctica۔۔۔5۔ Europe۔۔۔6۔ Australia

10۔ "Typewriter" کا لفظ ہی وہ واحد بامعنی لفظ ہے جو آپ Key بورڈ کی صرف پہلی قطار کے حروف کے اندر اندر ٹائپ کر سکتے ہیں۔

11۔ خدا حافظ کہنے کے لیے انگریزی کا لفظ "good bye" استعمال ہوتا ہے جس کی اصل "God be with you" ہے۔

12۔ انگریزی میں "Silver" اور "Orange" ہی دو ایسے الفاظ ہیں جن کا کوئی ہم قافیہ لفظ انگریزی میں موجود نہیں۔

13۔ انگریزی زبان میں صرف تین الفاظ ایسے ہیں جن میں دو "u" ایک ساتھ آتے ہیں Vacuum, Residuum, Continuum

کونسا سب سے زیادہ دلچسپ تھا۔۔؟

شرح سود 6 فیصد ہو گئی

" شرح سود ٦ فیصد ہوگئی "
سٹیٹ بنک آف اسلامی جمہوریہ پاکستان کا اخبارات میں اعلان ۔ سود ایسی برائی ہے ، جسے اللہ کے ساتھ براہ راست جنگ کہا گیا ہے ۔ گویا اللہ نے اس لعنت سے روکا اور پاکستان اسلامی جمہوریہ نے ماتھے پہ سجا لیا ۔ کہا جاتا ہے کہ سود ایسا کریہہ عمل ہے جیسے کوئی بد بخت اپنی ماں سے زنا کرے ۔
اتنی بڑی برائی کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اس ملک میں جسے پاک لوگوں کی  جگہ کہا جاتا ہے ۔ جسکی متبرک پارلیمنٹ میں جید علماء بھی بیٹھے ہیں ۔ اسلام کا ڈھول پیٹنے والے سیاسی پنڈت بھی براجمان ہیں ۔ جہاں بڑی بڑی گدیوں والے پیر بھی صوفی ازم کا پرچار کر رہے ہیں ۔ جہاں لاکھوں دین پڑھانے والے مدرسے عمل پیرا ہیں ۔ جہاں کے شیوخ کفار کے ملکوں میں اسلام کی شمع روشن کرنے کا جہاد کر رہے ہیں ۔ جہاں مذہب کے نام پر مہینوں روڈ بلاک ہو جاتی ہیں ۔ جہاں ناموس رسالت کیلئے لاکھوں سرفروش تیار ملتے ہیں ۔
اس سے بڑی اللہ کی نافرمانی اور رسول پاک ؐ کی کیا توہین ہو گی کہ " سود " کو اعلانیہ لاگو کیا جائے ۔ کیا اس ملک کو اسلامی کہنا مناسب ہو گا جہاں اللہ سے جنگ چھیڑ رکھی ہو ۔ کون ہے جو اللہ سے لڑائی کرے اور جیت جائے ۔ شکست ، بربادی ، رسوائی ، افلاس ، بدامنی اور عزت دری وہ نتائج ہیں جو ہم اس جنگ میں بھگت رہے ہیں ۔ ہے کوئی گدی نشین ولی اللہ ، ہے کوئی قران کی تفسیر لکھنے والا ، ہے کوئی مدرسہ جو اٹھ کھڑا ہو کہ ہم اللہ سے جنگ کے خلاف ہیں ۔ جو ببانگ دہل کہے , یہ پاکستان ہے اسے پاک رکھو ، سود کا متعفن ڈھیر مت لگاو یہاں ۔
کوئی نہیں ۔ میں بھی نہیں آپ بھی نہیں ۔ ہم سب اللہ خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اللہ کے خلاف کھڑے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ سود کے بغیر نظام معیشت چل ہی نہیں سکتا ۔
آزاد ھاشمی

کیسی گدی ، کونسی ولایت

" کیسی گدی ، کونسی ولایت "
مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ تمام گدی نشینوں کے اجداد میں سے کوئی ایک ایسا ہوگا ۔ جس نے اللہ احکامات کے مطابق زندگی گزاری ۔ دین کی خدمت کی اور اللہ کے قرب سے سرفراز ہوا ۔ یہ اعمال ہیں جو کرتا ہے اسی کو صلہ ملتا ہے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ باپ صالحہ عمل کرے اور بد کردار بیٹے کو بھی باپ کی وجہ سے معافی مل جائے ۔ یہ گدی نشینی کی رسم اگر درست ہوتی تو جنت البقیع میں کتنی بے نشان قبروں پر بڑے بڑے مزار ہوتے اور بڑے بڑے پیر ہوتے ۔ اللہ کے ولی اور اللہ کے پیارے سب کیلئے ہوتے ہیں ، صرف پوتے اور پڑپوتوں کا حق نہیں ہوتا ۔ لاکھوں مریدوں کی رہنمائی کرنے والے کتنے ہیں جو ولایت کے درجے پر ہیں ۔ کتنے ہیں جو سیاست میں بیٹھے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ کبھی گدیوں پر چڑھنے والے نذرانے یتیموں ، مسکینوں اور مستحقین میں تقسیم ہوئے ۔ کتنے گدی نشین ہیں جو وضع قطع سے اسلام کی شرائط پوری کرتے ہیں ۔ کتنے ہیں جو  دین ابلاغ کیلئے نکلتے ہیں ۔ کتنے ہیں جو زر اور دولت کو دنیا کا مال سمجھ کر تیاگ دیتے ہیں ۔ وہ کونسا فیض ہے  ، جو مریدین کو دیا جاتا ہے ۔ کتنے  ہیں جو گمراہوں کو راہ دکھاتے ہیں ۔ کتنے  امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔ اسلام کو چھوڑ کر کفر کے نظام سے جڑے لوگ ، اللہ کو کیونکر مجبوب ہونگے ۔ سب ڈھونگ ہے اور سادہ لوح لوگوں سے کھلواڑ ہے ۔ کبھی غور تو کریں کہ ان گدی نشینوں کو دنیا داری کے علاوہ کونسا شوق باقی ہے ۔ شجرہ رسول پاک کے خاندان سے ملا لینا کونسا بڑا کام ہے ۔ جیب میں پیسے ہوں تو کیا نہیں مل جاتا ۔ پیر ہونے کیلئے ولی اللہ ہونا لازم ہے ۔ کتنے گدی نشین ولایت کے درجے پہ بیٹھے ہیں ۔ اے مسلمانوں ! اللہ کو پوجو گے تو نجات ملے گی ۔  جو حقیقی آل رسولؐ کو مانتے ہیں انہیں کافر کہتے ہو ۔
آزاد ھاشمی

Friday, 26 January 2018

پیر گردی

" پیر گردی "
آج ایک بڑے پیر صاحب ، جو کہ مخدوم بھی کہلاتے ہیں ۔ بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں ، نوجوان ہیں ۔ شاید مریدوں کی آمدن بھی کافی ہو گی ۔ پیر صاحب سیالوی پر لکھی گئی پوسٹ پر بہت تلملائے ۔ اخلاقیات کی زبان سے عاری ہر شخص کے ذرائع آمدن مشکوک ہوا کرتے ہیں ۔ خاندانی وجاہت ، عزت دو اور عزت لو کی بنیاد پر قائم رہتی ہے ۔ وگرنہ ہر شخص مرید نہیں ہوتا ۔ ہر شخص پابند نہیں کہ کسی پیر کی حرکتوں پر زبان بند رکھے ۔ مریدوں کے نذرانوں پہ پلنا ، یا انگریز کی دی گئی جاگیر پہ اکڑے رہنا الگ بات ہے اور اسلام سے وابستگی الگ معاملہ ۔ دین کا نمائیندہ  کردار باختہ ہو تو اس پر بولنا کوئی گناہ نہیں ۔ میں نے پوسٹ نہیں ، میڈیا پہ خط لکھا ہے اور براہ راست لکھا ہے ۔ اسکی ایک سطر بھی غلط نہیں ۔ چند پیروں کے سوا سب لوگ میرے خیال سے متفق ہیں ۔
سچ لکھا جانا ، آسان نہیں ۔ جرات سے لکھا جاتا ہے ۔
اگر کسی کے پاس جواب ہو تو دلیل۔سے جواب لکھے ۔
آزاد ہاشمی

خودکشی مت کرو

" خود کشی مت کرو "
بہت ہوگیا ۔ سیاسی رہنما نہ صرف بد کردار ہیں ، بلکہ انتہائی بد اخلاق ہیں ۔ انکے سامنے دو ہی ہدف ہیں کرسی اور پیسہ ۔ بھلے ایمان بیچنا پڑے ، قوم بیچنی پڑے یا وطن کا سودا کرنا پڑے ۔ جمہوریت کا راگ الاپ الاپ کر جعلی ووٹ ، ووٹوں کی خریداری ، غنڈہ گردی اور دھونس کو جمہوریت کا نام دے رکھا ۔ قوم نے دیکھ لیا جتنے بھی شیوخ ، پیر اور مذہبی سیاستدان اسمبلیوں میں آتے ہیں ، انہوں نے کبھی اسلامی نظام کی بات نہیں کی ، کبھی چوری چکاری پر احتجاج نہیں کیا ، کبھی نہیں کہا کہ اسمبلی سے لی جانے والی بیش بہا مراعات قوم پر بوجھ ہیں ۔ گدی نشین ، جو لاکھوں کی اصلاح پر مسندیں بچھائے بیٹھے ہیں ۔ انکے ایمان کی پختگی کا عالم بھی قوم دیکھ رہی ہے ۔ پولیس ، جسے قوم کی حفاظت کا فرض سونپا گیا تھا ، اسکا تجربہ بھی ہو چکا ۔ اینٹیلیجینس اداروں کی کارکردگی کی بھی ہوا نکلتے دیکھی ۔ عدالتوں میں لگی دوکانیں بھی سامنے ہیں ۔ کیا یہ سب کسی معجزے سے ٹھیک ہوںگی ، کیا کسی پیر کی دعا سے سب بدلے گا ۔ کیا کوئی مسیحا آسمان سے اترے گا ۔ قوم کیلئے فیصلے کا یہی وقت ہے ۔ کیا اب بھی مہاجر ، پنجابی ، سندھی ، بلوچ اور پٹھان بنے رہنا چاہتے ہو ۔ کیا شیعہ ، سنی دیوبندی وغیرہ کی تسبیح جاری رکھو گے ۔ کیا اب بھی سیاسی نام رکھ کر جینا چاہو گے ۔ کیا اب بھی برائی سے منہ نہیں موڑو گے ۔ کیا اب بھی اللہ کی رسی کو مضبوطی نہیں تھامو گے ۔
اگر ایسا نہیں کروگے ، ایک قوم بن کر نہیں سوچو گے ، برائی کے خلاف بلا امتیاز باہر نہیں نکلو گے ۔ تو یہ خود کشی ہوگی ۔
خودکشی مت کرو۔
آزاد ھاشمی

سنگھاڑا

سنگھاڑا
مفید پھل ہی نہیں دوا بھی
سنگھاڑا پانی میں کیچڑ کے نیچے اگنے والا مخروطی شکل کا پھل ہے اور اپنی اس شکل کی وجہ سے ناپسندیدہ لفظ کے طور پر بولا جاتا ہے۔اس پھل کو اردو میں سنگھاڑا اور انگریزی میں Water Chestnut کہتے ہیں۔سردیاں شروع ہوتے ہی منڈیوں اور بازار میں دکانوں پر گاہکوں کی نظر میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔جنوبی ایشیامیں عام طور پر اس میوے یا پھل کو سنگھاڑا کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ پانی پھل سمیت اس کے متعدد نام ہیں۔
سنگھاڑا پودے کی جڑوں میں اگتا ہے (آلو کی فصل کی طرح) اس کی سبز رنگ کی ٹہنیوں پر پتے نہیں اگتے اور یہ ٹہنیاں ایک سے پانچ میٹر اونچائی تک جاتی ہیں۔اس کے اندر کا گودا سفیدرنگ کا ہوتا ہے جسے عام طور پر کچا یا ابال کر کھایا جاتا ہے اور پیس کر آٹا بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چائنیز کھانوں میں سنگھاڑا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔
سنگھاڑے سردیوں میں منہ چلانے کے لیے بہترین چیز ہے۔ چونکہ یہ ہلکے بہتے پانیوں پر اُگتا ہے اس لیے پھل میں اس وقت کچھ نقصان دہ مواد ہوسکتا ہے جب اسے تازہ تازہ فروخت کیا جائے مگر مناسب طریقے سے دھونے کے بعد اس کا توازن بحال ہوجاتا ہے۔اس کے چھلکے اُتارنے یا کسی مشہے۔
میں ٹکڑے کرکے ڈالنے، سلاد میں اضافے، سوپ، سالن یا کری میں ڈالنے سے قبل سات منٹ تک اُبالا، بھونا یا بھاپ میں رکھا جائے تو بہتر ہے۔ اسے پیزا کی اوپری سجاوٹ کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ پورے چکن میں بھرا جاسکتا ہے، اسے پاؤڈر بناکر کیک اور پڈنگز بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ اچار کے طور پر ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔
سنگھاڑے میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اور کاپر بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اور خستہ ہوتا ہے جب کہ اُبلا ہوا سنگھاڑا اور بھی زیادہ مزیدار اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔ سنگھاڑے کا ذائقہ بالکل منفرد ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے بھوک میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ سنگھاڑے میں موجود کیلوریز دوسری سبزپتوں والی سبزیوں کی نسبت کم ہوتی ہیں تاہم اس میں موجود آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک اور فائبر کی مقدار اس کے استعمال میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔
سنگھاڑے کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہوتی اور جسم میں خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد عورت کے لیے سنگھاڑے کے آٹے کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ سنگھاڑے کے آٹے کو گوندھ کر جسم کی سوجھی ہوئی جگہ پر لیپ کرنے سے تکلیف رفع ہوتی ہے۔ سنگھاڑے کے گودے سے بنایا ہوا سفوف کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔ پانی میں ابال کر پینے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ معدے اور انتڑیوں کے زخم کے لیے مقوی ہے۔ سنگھاڑے کے استعمال سے بڑھاپے میں یادداشت کم ہونے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔
سنگھاڑا پوشیدہ امراض کے شکار مرد و خواتین کیلئے تحفہ خدا ہے۔یہ کمزور مردوں اور خواتین کے ماہانہ نظام کے لیے بھی مفید ہیں۔سنگھاڑے کے سفوف میں دودھ یا دہی ملا کر استعمال کرنے سے پیچش سے آرام آتا ہے۔ ان کے استعمال سے دانت چمکدار اور مسوڑھے صحت مند ہوتے ہیں۔
نومبر کے دوسرے ہفتے سے فروری تک سردی پڑتی ہے ، اس میں بھی سنگھاڑا زکام او ر سردی کا مقابلہ کرنے میں معاون بنتا ہے۔ پیشاب کی زیادتی بڑے بوڑھوں کو بہت تنگ کرتی ہے۔ خصوصاً سردی کے موسم میں بار بار اٹھنا بہت تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس کیفیت میں چھٹانک پھر ابلے ہوئے سنگھاڑے کھائیے ، آہستہ آہستہ مقدار بڑھا دیجیے مگر تین چھٹانک سے زیادہ نہ کھائیں۔ دو تین ہفتے تک کھا لیجیے۔ اس سے بدن میں طاقت آئے گی اور بار بار پیشاب کی حاجت ختم ہو جائے گی ، تازہ نہ ملیں تو تولہ بھر سوکھے سنگھاڑے کا سفوف کھائیے۔
آج کل نوجون لڑکے چٹ پٹے بازاری کھانے اور بھنا گوشت بہت کھاتے ہیں۔ اس سے ان کا معدہ خراب ہوتا اور جسم میں گرمی بھی بڑھ جاتی ہے۔ پھر وہ جعلی حکیموں کے پاس جا کر علاج کراتے ہیں جس سے اور نقصان ہوتا ہے۔ جسمانی کمزوری بڑھتی جاتی ہے۔ طاقت بالکل نہیں رہتی۔ اعصاب ہر وقت تھکن کا شکار رہتے ہیں۔ کام کاج کرنے اور پڑھنے لکھنے میں دل نہیں لگتا بدن کھوکھلے کر دینے والے مادے صحت کو زنگ لگا دیتے ہیں۔ چڑ چڑا پن بڑھ جاتا ہے۔ نقاہت کسی کام کا نہیں چھوڑتی دماغی کمزوری کام نہیں کرنے دیتی۔ ان تمام خرابیوں کو دور کرنے کیلئے سنگھاڑا ایک نعمت ہے۔ صرف سات آٹھ دانے اُبلے ہوئے سنگھاڑے ناشتے میں کھائیے۔
سنگھاڑے کے دیگر فوائد
*سنگھاڑے کے استعمال سے دانت مضبوط اور چمک دار ہو جاتے ہیں۔ اس سے مسوڑھے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
*زخموں سے خون بہنے کو روکتا ہے۔ اسے اندرونی اور بیرونی طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بیرونی طور پر سفوف سنگھاڑا زخموں پر چھڑکا جاتا ہے۔
*گردے کی خرابی کی وجہ سے کھانسی کو فوراً روکتا ہے اور گردے کی اصلاح کرتا ہے۔
*دودھ بیچنے والے سنگھاڑے کے آٹے کو دودھ میں ملا کرابالتے ہیں تاکہ ملائی زیادہ آئے۔
* سنگھاڑے کا آٹا تین تولے، گھی چھ تولے لے کر آٹے کو اچھی طرح گھی میں بھون لیں۔ بعد ازاں چھ تولہ چینی پانی میں حل کرکے چاشنی بنائیں اور بھنے ہوئے آٹے میں ملا دیں۔ بس سنگھاڑے کا حلوہ تیار ہے۔ جو بے حد مقوی باہ ہوتا ہے۔
*نشے اور خمار کو سنگھاڑاادرست کرتا ہے۔
*جریان کے علاج میں سنگھاڑے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
*اسے زیادہ مقدار میں کھانے کی صورت میں قولنج یا درد شکم کی شکایت ہو جاتی ہے۔
*حلق کی خشکی کو دور کرتاہے۔
*امراض قلب میں سنگھاڑے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
* جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے اور جسم کو فربہ کرتا ہے۔
*گردہ اور مثانہ کی پتھری کو توڑتا ہے۔
* صفراوی بخار میں چھ ماشہ سفوف سنگھاڑا ہمراہ پانی کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
* تپ دق، سل کو روکنے اور بیماری کی صورت میں سنگھاڑا کھانا مفید ہوتا ہے۔
*خونی پیچش آنے کی صورت میں سنگھاڑے کا استعمال بے حد مفید ہے۔ اگر تازہ نہ ملے تو خشک سنگھاڑا ایک تولہ رگڑ کر صبح دوپہر اور شام ہمراہ پانی لینے سے فوراً فائدہ ہوتا ہے۔ اسے دہی کے ساتھ بھی کھایاجا سکتا ہے۔

نماز کی نئی تشریح ایک نیا فتنہ

" نماز کی نئی تشریح  ۔ ایک نیا فتنہ "
آج ایک موصوف کا نماز کے بارے میں درج ذیل دلائل کی روشنی میں مضمون پڑھا ۔ بیشتر اسکے کہ میں اپنی ذاتی رائے اور جواب لکھتا ۔ علماء ، شیوخ ، مفسرین سے گزارش ہے کہ وہ اس فتنے کا رد کرنے کی سعی کریں ۔ موصوف کے ان خیالات کو سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی مل رہی ہے ۔ موصوف کے دلائل حاضر ہیں ۔ واضع کرتا چلوں کہ موصوف کا قیام ارکنساس امریکہ میں ہے ۔
بہت شکریہ
ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
(١ ۔ پورے قران میں نماز ، روزہ ، حج وغیرہ کو کہیں پر بھی عبادات نہی کہا گیا
٢-جہاں تک نماز کا تعلق ہے تو نماز کا لفظ پورے قران میں نہی ۔ یہ ایرانی زر تشت مذہب میں جو ان کا طریقہ پرستش تھا اسکے لیے استعمال کرتے تھے ۔
٣۔ اسلام میں اللہ اگے اگے چل رھا ہے مطلب اس کے قوانین اور احکام اور بندہ اسکا غلام ، مسلم پیچھے پیچھے اسکے قوانین کا اتباع کرتا چلا جا رھا ہے ، یہ هو گی صلواة ، اب اس کو قائم کیسے کرنا گو گا اس کے لیے جو قوانین اور اصول مرتب کیے جائیں گہ اور جو نظام ذندگی قائم کیا جاے گا جس میں اللہ کی کبرئیائی ہو گی اور اطاعت صرف اسکی قران ، قوانین کے احکام کی ہو گی وہ ہو گا نظام صلواة
. اب اس نظام ميں وقتا فوقتا چاہے دن میں ایک دفعہ یا تین دفعہ یا پانچ دفعہ اور چاہے ھفتے میں ایک دفعہ ھدایات اور احکام دینے کی ضرورت پیش اے گی تو اس مقصد کے لئے جو اجتماعات چاہے مختلف جگہوں پر چھوٹی پیمانے پر یا ایک معاشرے میں ایک جگہ بڑے پیمانے پر اکھٹے کیے جائں گے ان کو صلواة كے اجتماعات کہا جاے گا۔
٥۔ دوسری اہم بات يه كه قران ميں متعدد بار صلوة اور زكوة كے متعلق احکام یا اصول بیان کیے گیے ہیں مگر پورے قران میں ایک دفعہ بھی اس کو فرض نہی کہا گیا کہئں پر اسکا زکر ،”کُتب”یا کتابًا" سے نہی کیا گیا ۔ نہی کہا گیا اللہ تمہیں اسکو قائم کرنے یا ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ، یا یہ تم پر فرض ہے جیسا کہ صوم یا جہاد یا حج کا بھت کم زکر ہوا مگر ان کا زکر حکم کے طور پر آیا یہاں تک کہ وصیت نکاح وراثت وغیرہ کو حکم کے طور پر فرض قرار دیا گیا ۔
٦-  لیکن قران نے اسکے لیے لفظ فرض نهي استعمال كيا اس لئے یہ ایک انسان کے جذبات کا إظهار كا طريقه هو گا اور اسکو کسی وقت اور کسی شکل میں ادا کیا جا سکتا ہے ۔
٧ ۔ مگر چونکہ مروجہ طریقہ ایک تو ساری مسلم امت نے اپنایا ہے اور اللہ کے حضور شکرانے کا اس سے بہتر طریقہ ہو کوئی نہی سکتا اس لیے اسکو کرتے رھنا چاہیے ۔ لیکن یہ بات زہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ نماز مقصود بالذات نہی
٨۔  قران میں ، ا قیمو الصلواة واتوازكوة" كا حكم كثرت سے آیا ہے اسکا مطلب ہی یہ نکلتا ہے کہ دین کا مقصود یہ ہے کہ اللہ کے احکام کے مطابق ایسا نظام قائم کیا ھات جس میں تمام امور کے معاملات کے فیصلے اوع عمل قوانین الہی کی رو سے ئوں اور مقصود اس اطاعت سے یہ ہو کہ تمام نوع انسانی کو سامان و اسباب نشو نما فراہم کیے جائیں .
٩-الله قران میں کہتا ہے کہ عیسی علیہ سلام کو صلوة  زكوة كا حکم دیا گیا 
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیت میں جسے وہ Pryer عبادت کہتے ہیں وہ نماز نہی ہے ۔
١٠ ۔ حضرت اسماعيل اپنے اہل کو صلوة كا حكم ديتے تھے ،  مگر قران کہیں یہ نہی بتاتا کہ وہ کیسے نماز (صلاة) ادا كرتے تھے ۔
١١ ۔ تقریباً ہر رسول بمع رسول اللہ ،لقمان سب اپنے اہل خانه كو صلاة پر چلنے کا حکم دیتے رہے مگر کہیں یہ نہی کہ وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے ۔
١٢ ۔ صلاة كا مقصد " شعيب عليه اسلام كى صلاة سے مکمل طور ہر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ کسی نظام كى بات هے ناکہ نماز کی۔
١٣  ۔ مگر قران کی رو سے نا تو فرض ہے اور اسلام کا پہلا رکن ۔ چونکہ قران ارکان یا ستونوں کی بات نہی کرتا اور نا پرستش اور اس عبادت کی جسکو ہم عبادت کہتے ہیں ۔)
آزاد ہاشمی


علماء اور لبرلز کا کردار

" علماء اور لبرلز کا کردار "
لبرلز یعنی آزاد خیالی کے نام پر ، مسلمانوں کا وہ طبقہ بھی فعال ہے ، جو یا تو مغربی تہذیب میں بیٹھے ہیں ، یا جن کو مغربی معاشرہ میں آشیرباد حاصل ہے ۔ وہ لوگ بھی ہیں جن کے دماغ دھو ڈالے گئے ہیں اور ان پر نئی تحریر اسلام کی خامیاں  لکھ دی گئی ہیں ۔  علماء نے اسلام کی تعلیمات کی تبلیغ چھوڑ کر مسالک کی تحقیق شروع کر رکھی ہے اور بیشتر لوگ مسالک کے پرچار کو اصل اسلام سمجھ چکے ہیں ۔
یہ دونوں رویئے ایسے ہیں ، جس نے اسلام کو بہت بڑی زک پہنچائی ہے ۔ لبرلز اسقدر منہ زور ہوچکے ہیں کہ  سوشل میڈیا پر ، عام مجالس میں اور اب تو باقاعدہ اسلامی اقدار پ
کے خلاف اجلاس منعقد کر رہے ہیں ۔ ابھی کل ہی ایک لبرل نے نماز پر ایک لمبی تحقیق سوشل میڈیا پہ لکھ ڈالی ۔ جس کی رو سے یہ پنج وقتہ نماز ، نماز کا طریقہ اسلام کی تعلیم ہے ہی نہیں ۔ یہ ایرانی مذہب زرتشت کی نماز ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ نماز کو روزانہ ادا کیا جائے ۔ یہ اللہ کے حضور پیشی ہے ، جب کبھی دل کرے ادا کیا جا سکتا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
میں نے یہ پوسٹ بہت سارے دوستوں کو بھی بھیجی ، اکثریت نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ کچھ نے انکی ہدایت کی دعا فرمادی  گویا فرض ادا ہوگیا ۔ اور کچھ نے کہا ایسی پوسٹ کو اہم نہ سمجھ کر فراموش کر دیا جائے ۔
یہی وہ رحجان تھا ، علماء کی خاموشی اور اہم معاملات کو غیر اہم سمجھ کر چھوڑ دینا ۔ ایک فساد کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ لبرلز کی حمایت بڑھتی جارہی ہے اور مذہب سے دوری ایک تسلسل سے جاری ہے ۔ ہم سیاسی معاملات پر سینکڑوں پوسٹ لکھتے اور پڑھتے ہیں ۔ لمبے لمبے تاثرات بھی لکھتے ہیں ۔ مگر اسلام کے خلاف سازشوں کو غیر اہم کہہ کر ٹالتے رہتے ہیں ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسی تحریکیں ہماری ناسمجھ نسلوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں  ۔
نہ صرف علماء کو  ، بلکہ ہمیں بھی ایسے لوگوں کے خلاف جہاد سمجھ کر اقدام کرنے کی ضرورت ہے ۔ 
آزاد ھاشمی

پیر صاحب سیالوی کے نام

" پیر صاحب سیالوی کے نام "
محترم پیر صاحب ! اللہ آپ کے ایمان میں اضافہ فرمائے ۔
اتفاق سے میں اس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں ، جس میں بہت سارے اسی پیر گردی کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور اپنی اپنی استطاعت سے بڑے اور چھوٹے پیر ہیں ۔ آپ چونکہ بڑی گدی پر بیٹھے ہیں اور آپکے سامنے دوزانو ہونے والے کثرت میں ہونگے ۔ اپنے لئے برکت کی تلاش میں آپ کو چڑھاوے بھی دیتے ہونگے ۔ خیر یہ تو مالک و مختار کی مرضی ہے ، جیسے چاہے رزق کی راہ کھول دے ۔
ایک الجھن سی ہے ، آپ سے حل چاہتا ہوں ۔ آپ بتا سکتے ہیں کہ اس جمہوریت کا اسلام سے کیا رشتہ ہے ، جس کیلئے آپ اللہ والے ہو کر دنیا کی شہرت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ آپ جس اسمبلی میں بیٹھتے ہیں ، کتنی بار اسلام کے قوانین کی آواز بلند کی ۔ آپ ایک باغی ختم نبوت کے خلاف احتجاج کو جہاد سمجھ رہے تھے ۔ کیا ہوا شریعت بدل گئی یا آپ کو حکمران سے خوف آگیا ۔
آپ تو اسوقت اللہ کی دی ہوئی زندگی میں بونس حاصل کئے بیٹھے ہیں ۔ کیا پتہ کب حکم ہو جائے " خاموش " اور آپ رخت سفر باندھ لیں ۔ آپ کے مریدین کا اعتماد تو آپ کی استقامت مانگتا ہے ۔ آپ اسطرح فیصلے بدلتے ہیں ۔ کیا سادہ لوح لوگوں سے مذاق نہیں کیا آپ نے ۔ کیا یہ تصوف کا ڈھونگ نہیں ۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ ایسا احتجاج کیا جائے جو فساد کی راہ ہموار کرے ۔ مگر آپ سے سوال ہے کہ آپ سے سیاست کے میدان میں پہلوانی کی توقع کس نے کر رکھی ہے ۔ مریدین کو اللہ کا دین پڑھائیں ۔ لاکھوں لوگ آپ کے حکم پر یہودی کے نظام سے الگ ہو سکتے ہیں ۔ اسلام کے نظام کیلئے کھڑے ہو کر جمہوریت کی راہ روکیں ۔ حضرت یہ دنیا سب سکندر و دارا کو خالی ہاتھ دفن کرتی ہے ۔ رخت سفر باندھیں جو عاقبت سنوارے ۔
تلخ و ترش اور آداب پیری مریدی سے مختلف لہجے پہ معذرت چاہتا ہوں ۔
والسلام
آزاد ھاشمی