" پیر گردی "
آج ایک بڑے پیر صاحب ، جو کہ مخدوم بھی کہلاتے ہیں ۔ بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں ، نوجوان ہیں ۔ شاید مریدوں کی آمدن بھی کافی ہو گی ۔ پیر صاحب سیالوی پر لکھی گئی پوسٹ پر بہت تلملائے ۔ اخلاقیات کی زبان سے عاری ہر شخص کے ذرائع آمدن مشکوک ہوا کرتے ہیں ۔ خاندانی وجاہت ، عزت دو اور عزت لو کی بنیاد پر قائم رہتی ہے ۔ وگرنہ ہر شخص مرید نہیں ہوتا ۔ ہر شخص پابند نہیں کہ کسی پیر کی حرکتوں پر زبان بند رکھے ۔ مریدوں کے نذرانوں پہ پلنا ، یا انگریز کی دی گئی جاگیر پہ اکڑے رہنا الگ بات ہے اور اسلام سے وابستگی الگ معاملہ ۔ دین کا نمائیندہ کردار باختہ ہو تو اس پر بولنا کوئی گناہ نہیں ۔ میں نے پوسٹ نہیں ، میڈیا پہ خط لکھا ہے اور براہ راست لکھا ہے ۔ اسکی ایک سطر بھی غلط نہیں ۔ چند پیروں کے سوا سب لوگ میرے خیال سے متفق ہیں ۔
سچ لکھا جانا ، آسان نہیں ۔ جرات سے لکھا جاتا ہے ۔
اگر کسی کے پاس جواب ہو تو دلیل۔سے جواب لکھے ۔
آزاد ہاشمی
Friday, 26 January 2018
پیر گردی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment