" آیت الکرسی ٥ "
یعلم ما بین ایدیھم و ما خلفھم ۔ ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بماشاء ۔
( اللہ جانتا ہے مخلوقات کے حالات جو سامنے ہیں اور جو اوجھل ہیں ۔ انسان اللہ کے علم کا بالکل احاطہ نہیں کرسکتا ، تا وقتیکہ اللہ خود نہ چاھے ۔ )
انسانی شعور کی ایک حد ہے ۔ مگر اللہ سبحانہ تعالی کی شان ہے کہ وہ ہر انسان کا ماضی ، حال اور مستقبل جانتا ہے ۔ اسکے ایک ایک لمحے اور ایک ایک سانس کا کنٹرول اللہ کے پاس ہے ۔
ہم ایک غلط فہمی کا شکار ہو چکے ہیں کہ مغرب کے طاغوت سائینس کے علم میں ترقی کی معراج پر ہیں ۔ اس میں انکی ذہانت اور تحقیق کا ہاتھ ہے ۔ وہ آنے والے وقت کی نبض پہ ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں ۔ سب درست مگر پوری سائنس صرف یہ ثابت کر سکی ہے کہ اللہ نے جو جو قران میں کہا ، وہ سب درست تھا ۔ پورا سائنسی عروج آج بھی زمین کے جھٹکوں ، سمندروں کے بپھرنے کو نہیں روک سکا ۔ پوری سائینس موت کی گھڑی کو ایک ثانیہ آگے پیچھے نہیں کر سکی ۔ ہر پھل کا ذائقہ دوسرے پھل میں منتقل نہیں ہو سکا ۔ اللہ نے انسانی شعور کو بتدریج ترقی اسی لئے دی ، کہ انسان اسکی ہستی کو پہچان سکے ۔ اسکا مطلب ہے کہ انسان اتنا ہی سیکھتا ہے ، جتنا اللہ چاہے ۔ اور جتنا بھی دیکھتا ہے محدود ہوتا ہے کیونکہ علیم و خبیر صرف اللہ کی پاک ذات ہے ۔
ازاد ھاشمی
Tuesday, 23 January 2018
آیت الکرسی 5
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment