" کیسی گدی ، کونسی ولایت "
مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ تمام گدی نشینوں کے اجداد میں سے کوئی ایک ایسا ہوگا ۔ جس نے اللہ احکامات کے مطابق زندگی گزاری ۔ دین کی خدمت کی اور اللہ کے قرب سے سرفراز ہوا ۔ یہ اعمال ہیں جو کرتا ہے اسی کو صلہ ملتا ہے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ باپ صالحہ عمل کرے اور بد کردار بیٹے کو بھی باپ کی وجہ سے معافی مل جائے ۔ یہ گدی نشینی کی رسم اگر درست ہوتی تو جنت البقیع میں کتنی بے نشان قبروں پر بڑے بڑے مزار ہوتے اور بڑے بڑے پیر ہوتے ۔ اللہ کے ولی اور اللہ کے پیارے سب کیلئے ہوتے ہیں ، صرف پوتے اور پڑپوتوں کا حق نہیں ہوتا ۔ لاکھوں مریدوں کی رہنمائی کرنے والے کتنے ہیں جو ولایت کے درجے پر ہیں ۔ کتنے ہیں جو سیاست میں بیٹھے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ کبھی گدیوں پر چڑھنے والے نذرانے یتیموں ، مسکینوں اور مستحقین میں تقسیم ہوئے ۔ کتنے گدی نشین ہیں جو وضع قطع سے اسلام کی شرائط پوری کرتے ہیں ۔ کتنے ہیں جو دین ابلاغ کیلئے نکلتے ہیں ۔ کتنے ہیں جو زر اور دولت کو دنیا کا مال سمجھ کر تیاگ دیتے ہیں ۔ وہ کونسا فیض ہے ، جو مریدین کو دیا جاتا ہے ۔ کتنے ہیں جو گمراہوں کو راہ دکھاتے ہیں ۔ کتنے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔ اسلام کو چھوڑ کر کفر کے نظام سے جڑے لوگ ، اللہ کو کیونکر مجبوب ہونگے ۔ سب ڈھونگ ہے اور سادہ لوح لوگوں سے کھلواڑ ہے ۔ کبھی غور تو کریں کہ ان گدی نشینوں کو دنیا داری کے علاوہ کونسا شوق باقی ہے ۔ شجرہ رسول پاک کے خاندان سے ملا لینا کونسا بڑا کام ہے ۔ جیب میں پیسے ہوں تو کیا نہیں مل جاتا ۔ پیر ہونے کیلئے ولی اللہ ہونا لازم ہے ۔ کتنے گدی نشین ولایت کے درجے پہ بیٹھے ہیں ۔ اے مسلمانوں ! اللہ کو پوجو گے تو نجات ملے گی ۔ جو حقیقی آل رسولؐ کو مانتے ہیں انہیں کافر کہتے ہو ۔
آزاد ھاشمی
Saturday, 27 January 2018
کیسی گدی ، کونسی ولایت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment