" علماء اور لبرلز کا کردار "
لبرلز یعنی آزاد خیالی کے نام پر ، مسلمانوں کا وہ طبقہ بھی فعال ہے ، جو یا تو مغربی تہذیب میں بیٹھے ہیں ، یا جن کو مغربی معاشرہ میں آشیرباد حاصل ہے ۔ وہ لوگ بھی ہیں جن کے دماغ دھو ڈالے گئے ہیں اور ان پر نئی تحریر اسلام کی خامیاں لکھ دی گئی ہیں ۔ علماء نے اسلام کی تعلیمات کی تبلیغ چھوڑ کر مسالک کی تحقیق شروع کر رکھی ہے اور بیشتر لوگ مسالک کے پرچار کو اصل اسلام سمجھ چکے ہیں ۔
یہ دونوں رویئے ایسے ہیں ، جس نے اسلام کو بہت بڑی زک پہنچائی ہے ۔ لبرلز اسقدر منہ زور ہوچکے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ، عام مجالس میں اور اب تو باقاعدہ اسلامی اقدار پ
کے خلاف اجلاس منعقد کر رہے ہیں ۔ ابھی کل ہی ایک لبرل نے نماز پر ایک لمبی تحقیق سوشل میڈیا پہ لکھ ڈالی ۔ جس کی رو سے یہ پنج وقتہ نماز ، نماز کا طریقہ اسلام کی تعلیم ہے ہی نہیں ۔ یہ ایرانی مذہب زرتشت کی نماز ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ نماز کو روزانہ ادا کیا جائے ۔ یہ اللہ کے حضور پیشی ہے ، جب کبھی دل کرے ادا کیا جا سکتا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
میں نے یہ پوسٹ بہت سارے دوستوں کو بھی بھیجی ، اکثریت نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ کچھ نے انکی ہدایت کی دعا فرمادی گویا فرض ادا ہوگیا ۔ اور کچھ نے کہا ایسی پوسٹ کو اہم نہ سمجھ کر فراموش کر دیا جائے ۔
یہی وہ رحجان تھا ، علماء کی خاموشی اور اہم معاملات کو غیر اہم سمجھ کر چھوڑ دینا ۔ ایک فساد کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ لبرلز کی حمایت بڑھتی جارہی ہے اور مذہب سے دوری ایک تسلسل سے جاری ہے ۔ ہم سیاسی معاملات پر سینکڑوں پوسٹ لکھتے اور پڑھتے ہیں ۔ لمبے لمبے تاثرات بھی لکھتے ہیں ۔ مگر اسلام کے خلاف سازشوں کو غیر اہم کہہ کر ٹالتے رہتے ہیں ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسی تحریکیں ہماری ناسمجھ نسلوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں ۔
نہ صرف علماء کو ، بلکہ ہمیں بھی ایسے لوگوں کے خلاف جہاد سمجھ کر اقدام کرنے کی ضرورت ہے ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 26 January 2018
علماء اور لبرلز کا کردار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment