Friday, 26 January 2018

پیر صاحب سیالوی کے نام

" پیر صاحب سیالوی کے نام "
محترم پیر صاحب ! اللہ آپ کے ایمان میں اضافہ فرمائے ۔
اتفاق سے میں اس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں ، جس میں بہت سارے اسی پیر گردی کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور اپنی اپنی استطاعت سے بڑے اور چھوٹے پیر ہیں ۔ آپ چونکہ بڑی گدی پر بیٹھے ہیں اور آپکے سامنے دوزانو ہونے والے کثرت میں ہونگے ۔ اپنے لئے برکت کی تلاش میں آپ کو چڑھاوے بھی دیتے ہونگے ۔ خیر یہ تو مالک و مختار کی مرضی ہے ، جیسے چاہے رزق کی راہ کھول دے ۔
ایک الجھن سی ہے ، آپ سے حل چاہتا ہوں ۔ آپ بتا سکتے ہیں کہ اس جمہوریت کا اسلام سے کیا رشتہ ہے ، جس کیلئے آپ اللہ والے ہو کر دنیا کی شہرت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ آپ جس اسمبلی میں بیٹھتے ہیں ، کتنی بار اسلام کے قوانین کی آواز بلند کی ۔ آپ ایک باغی ختم نبوت کے خلاف احتجاج کو جہاد سمجھ رہے تھے ۔ کیا ہوا شریعت بدل گئی یا آپ کو حکمران سے خوف آگیا ۔
آپ تو اسوقت اللہ کی دی ہوئی زندگی میں بونس حاصل کئے بیٹھے ہیں ۔ کیا پتہ کب حکم ہو جائے " خاموش " اور آپ رخت سفر باندھ لیں ۔ آپ کے مریدین کا اعتماد تو آپ کی استقامت مانگتا ہے ۔ آپ اسطرح فیصلے بدلتے ہیں ۔ کیا سادہ لوح لوگوں سے مذاق نہیں کیا آپ نے ۔ کیا یہ تصوف کا ڈھونگ نہیں ۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ ایسا احتجاج کیا جائے جو فساد کی راہ ہموار کرے ۔ مگر آپ سے سوال ہے کہ آپ سے سیاست کے میدان میں پہلوانی کی توقع کس نے کر رکھی ہے ۔ مریدین کو اللہ کا دین پڑھائیں ۔ لاکھوں لوگ آپ کے حکم پر یہودی کے نظام سے الگ ہو سکتے ہیں ۔ اسلام کے نظام کیلئے کھڑے ہو کر جمہوریت کی راہ روکیں ۔ حضرت یہ دنیا سب سکندر و دارا کو خالی ہاتھ دفن کرتی ہے ۔ رخت سفر باندھیں جو عاقبت سنوارے ۔
تلخ و ترش اور آداب پیری مریدی سے مختلف لہجے پہ معذرت چاہتا ہوں ۔
والسلام
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment