" پارلیمنٹ ، کعبہ تو نہیں "
سٹیج پہ کھڑا ہونے کے بعد جب مقرر کی آواز گونجتی ہے اور سامعین میں جوش نظر آئے تو مقرر اس چوہے کیطرح اکڑ جاتا ہے ۔ جس نے شراب پی لی تھی اور اکڑ میں بول رہا تھا " بلی کو ہمارے حضور پیش کیا جائے "
کچھ ایسا ہی ہمارے سیاسی مفکروں کے ساتھ ہے ۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ منہ سے جھاگ اور کانوں سے دھواں نکلتا ہے ۔ جب رد عمل کو پتہ چلتا ہے تو ادھر ادھر کی ہانکنے لگتے ہیں ۔
حقیقت ہے کہ الفاظ کے معنے ہوتے ہیں اور انکی خبر رکھنا تدبر ہے ۔ بد قسمتی ہے کہ ہمارے سیاستدان تدبر سے نا بلد ہیں ۔ کسی نے اسی جوش خطابت میں پارلیمنٹ پر لعنت بھیج دی ۔
اداروں کا تقدس پامال نہیں کرنا چاہئیے ، کیونکہ اداروں کو چلانے والے غلط ہو سکتے ہیں مگر اداروں کا مقصد اور ضرورت اہم ہوتی ہے ۔ اس لعنت بھیجنے سے مقصد حل نہیں ہوتا ، یہ تدبر کی کمی ہے ۔ اسکی اصلاح کی ضرورت ہے ، اس پر عمل کرنا لازم ہے ۔
اب کچھ سیاستدانوں اور انکے حواریوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے اور اسے سیاسی ایشو بنا کر عوام میں ایسا تاثر قائم کرنے کی کوشش جاری ہے کہ پارلیمنٹ کوئی متبرک جگہ ہے ۔ جہاں ایمان کو جلا ملتی ہے ۔ جہاں سے نیکی کی شعائیں نکلتی ہیں ۔ اس پارلیمنٹ سے جو کچھ قوم کو ملا ہے ، اگر اس کو ملحوظ رکھا جائے تو اسکے لئے لعنت بہت چھوٹا لفظ ہے ۔ یہاں زانی ، شرابی اور بد کردار بیٹھ کر اسلام کے منافی قانون بناتے ہیں ۔ یہاں بیٹھ کر ملکی معیشت کو لوٹا جاتا ہے ۔ یہاں بیٹھ کر غریبوں کے خون پسینے کی کمائی پر عیاشی کی جاتی ہے ۔ کونسا نیک کام ہے جو اس اسمبلی میں ہوتا ہے ۔ کیا یہاں چیمبرز میں شراب نوشی نہیں ہوتی ۔ یا اسکے ہوسٹلز میں زنا نہیں ہوتا ۔ ایسی جگہ کے ماتھے پر کلمہ لکھنا ، کلمے کی توہین نہیں تو کیا ہے ۔ کیا اسی جگہ سے ہمارے اوپر زانی شرابی حکمران نہیں بنے ۔ اسے صرف اسمبلی رہنے دیں کعبہ مت بنائیں ۔
آزاد ھاشمی
Sunday, 21 January 2018
پارلیمنٹ ، کعبہ تو نہیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment