Sunday, 21 January 2018

اب مان لو

" اب مان لو "
پچھلے ستر سال میں ، ہر طرح کے حکمران آئے ۔ سیاسی دنیا کے بڑے بڑے سورما ، فوج کے حب الوطنی سے سرشار جنرل ، وکیل ، تاجر ، صنعتکار اور جاگیردار آتے رہے جاتے رہے ۔ جمہوریت کی ناو نے کئی بار ہچکولے بھی کھائے اور کئی بار جمہوریت کا سورج بڑی آب وتاب سے چمکا بھی ۔ سیاسی جماعتوں کو دوتہائی سے زیادہ اکثریت بھی ملی ۔ نہ معیشت سدھری ، نہ امن قائم ہوا ، نہ عدل کو فروغ ملا اور نہ ہی ہم اپنی یگانگت دکھا سکے ۔ امن کیلئے اداروں پہ ادارے قائم کئے ۔ تھانے اہلکاروں سے بھر دئے ۔ ڈاکو ، چور ، قاتل اور کردار باختہ لوگ روز بروز بڑھتے رہے ۔ تمام کوششیں اکارت گئیں ۔ بے راہروی اور بےلگامی کی انتہا ہو گئی کہ اب معصوم بچے انسانوں کے اس جنگل میں ، درندوں نے چیرنے پھاڑنے شروع کردئیے  ۔ یہ انسان کے روپ میں درندے نہ پکڑے گئے ، نہ سزا ہوئی ۔ بے حسی کی حد ہے کہ امراء کمزور اور بےبس لوگوں کو سڑکوں پر کچلنے لگے ۔ عدالتوں نے انہیں باعزت بری کیا اور وہ پھولوں کے ہار پہنے ، فتح کا نشان بناتے باہر نکلنے لگے ۔ معیشت کی بربادی ہوگئی ، صنعتیں ناکارہ ہوئیں ، زمینیں بانجھ ہونے کو پہنچ گئیں ۔
کیا یہ مان لینا ، قرین قیاس نہ ہوگا کہ جمہوریت ہمیں اہل اور باکردار قیادت دینے میں ناکام ہوگئی ۔  کیا یہ حقیقت مسلم نہیں کہ جمہوریت نے غنڈے اور بدمعاشوں معتبر کردیا ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ جمہوریت کی بساط پر تمام انتخابات ڈھونگ رہے ۔ کیا جعلی ووٹوں ، برادری کی پذیرائی اور خفیہ طاقتیں انتخابات کے نتائج مرتب کرتی ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں کی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت " امریکہ " میں ایک مخبوط الحواس شخص آ بیٹھا ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ بھارت کا حکمران ایک انسانیت کا دشمن متعصب شخص ہے ۔ اسی طرح پوری دنیا میں یہی کھیل جاری ہے ۔
اب تو مان لیا جائے کہ اسلام کا نظام ضروری ہے ۔ یہی مسائل کا حل ہے ۔ برائی روکنے کا بہترین قانون صرف اسلام کے نظام میں ہے ۔ اسلام سے بہتر معاشی حل کسی دوسرے نظام میں نہیں ۔ اب مان لو اور اپنی راہ تعین کرتے وقت تقابل ضرور کرو ۔ اسلام ہر ذی نفس کو اسکے حقوق کی ضمانت دیتا ہے ۔ عقیدے ، رنگ ، نسل یا جغرافیائی حدود بھی دیوار نہیں بنتیں ۔
مان لو کہ ہم نے جمہوریت کی راہ پہ بہت نقصان کر لیا ہے ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment