Friday, 26 January 2018

نماز کی نئی تشریح ایک نیا فتنہ

" نماز کی نئی تشریح  ۔ ایک نیا فتنہ "
آج ایک موصوف کا نماز کے بارے میں درج ذیل دلائل کی روشنی میں مضمون پڑھا ۔ بیشتر اسکے کہ میں اپنی ذاتی رائے اور جواب لکھتا ۔ علماء ، شیوخ ، مفسرین سے گزارش ہے کہ وہ اس فتنے کا رد کرنے کی سعی کریں ۔ موصوف کے ان خیالات کو سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی مل رہی ہے ۔ موصوف کے دلائل حاضر ہیں ۔ واضع کرتا چلوں کہ موصوف کا قیام ارکنساس امریکہ میں ہے ۔
بہت شکریہ
ملاحظہ فرمائیں ۔۔۔۔
(١ ۔ پورے قران میں نماز ، روزہ ، حج وغیرہ کو کہیں پر بھی عبادات نہی کہا گیا
٢-جہاں تک نماز کا تعلق ہے تو نماز کا لفظ پورے قران میں نہی ۔ یہ ایرانی زر تشت مذہب میں جو ان کا طریقہ پرستش تھا اسکے لیے استعمال کرتے تھے ۔
٣۔ اسلام میں اللہ اگے اگے چل رھا ہے مطلب اس کے قوانین اور احکام اور بندہ اسکا غلام ، مسلم پیچھے پیچھے اسکے قوانین کا اتباع کرتا چلا جا رھا ہے ، یہ هو گی صلواة ، اب اس کو قائم کیسے کرنا گو گا اس کے لیے جو قوانین اور اصول مرتب کیے جائیں گہ اور جو نظام ذندگی قائم کیا جاے گا جس میں اللہ کی کبرئیائی ہو گی اور اطاعت صرف اسکی قران ، قوانین کے احکام کی ہو گی وہ ہو گا نظام صلواة
. اب اس نظام ميں وقتا فوقتا چاہے دن میں ایک دفعہ یا تین دفعہ یا پانچ دفعہ اور چاہے ھفتے میں ایک دفعہ ھدایات اور احکام دینے کی ضرورت پیش اے گی تو اس مقصد کے لئے جو اجتماعات چاہے مختلف جگہوں پر چھوٹی پیمانے پر یا ایک معاشرے میں ایک جگہ بڑے پیمانے پر اکھٹے کیے جائں گے ان کو صلواة كے اجتماعات کہا جاے گا۔
٥۔ دوسری اہم بات يه كه قران ميں متعدد بار صلوة اور زكوة كے متعلق احکام یا اصول بیان کیے گیے ہیں مگر پورے قران میں ایک دفعہ بھی اس کو فرض نہی کہا گیا کہئں پر اسکا زکر ،”کُتب”یا کتابًا" سے نہی کیا گیا ۔ نہی کہا گیا اللہ تمہیں اسکو قائم کرنے یا ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ، یا یہ تم پر فرض ہے جیسا کہ صوم یا جہاد یا حج کا بھت کم زکر ہوا مگر ان کا زکر حکم کے طور پر آیا یہاں تک کہ وصیت نکاح وراثت وغیرہ کو حکم کے طور پر فرض قرار دیا گیا ۔
٦-  لیکن قران نے اسکے لیے لفظ فرض نهي استعمال كيا اس لئے یہ ایک انسان کے جذبات کا إظهار كا طريقه هو گا اور اسکو کسی وقت اور کسی شکل میں ادا کیا جا سکتا ہے ۔
٧ ۔ مگر چونکہ مروجہ طریقہ ایک تو ساری مسلم امت نے اپنایا ہے اور اللہ کے حضور شکرانے کا اس سے بہتر طریقہ ہو کوئی نہی سکتا اس لیے اسکو کرتے رھنا چاہیے ۔ لیکن یہ بات زہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ نماز مقصود بالذات نہی
٨۔  قران میں ، ا قیمو الصلواة واتوازكوة" كا حكم كثرت سے آیا ہے اسکا مطلب ہی یہ نکلتا ہے کہ دین کا مقصود یہ ہے کہ اللہ کے احکام کے مطابق ایسا نظام قائم کیا ھات جس میں تمام امور کے معاملات کے فیصلے اوع عمل قوانین الہی کی رو سے ئوں اور مقصود اس اطاعت سے یہ ہو کہ تمام نوع انسانی کو سامان و اسباب نشو نما فراہم کیے جائیں .
٩-الله قران میں کہتا ہے کہ عیسی علیہ سلام کو صلوة  زكوة كا حکم دیا گیا 
مگر ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیت میں جسے وہ Pryer عبادت کہتے ہیں وہ نماز نہی ہے ۔
١٠ ۔ حضرت اسماعيل اپنے اہل کو صلوة كا حكم ديتے تھے ،  مگر قران کہیں یہ نہی بتاتا کہ وہ کیسے نماز (صلاة) ادا كرتے تھے ۔
١١ ۔ تقریباً ہر رسول بمع رسول اللہ ،لقمان سب اپنے اہل خانه كو صلاة پر چلنے کا حکم دیتے رہے مگر کہیں یہ نہی کہ وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے ۔
١٢ ۔ صلاة كا مقصد " شعيب عليه اسلام كى صلاة سے مکمل طور ہر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ کسی نظام كى بات هے ناکہ نماز کی۔
١٣  ۔ مگر قران کی رو سے نا تو فرض ہے اور اسلام کا پہلا رکن ۔ چونکہ قران ارکان یا ستونوں کی بات نہی کرتا اور نا پرستش اور اس عبادت کی جسکو ہم عبادت کہتے ہیں ۔)
آزاد ہاشمی


No comments:

Post a Comment