" صرف ایس ایس پی ؟؟ "
جب قومیں ظلم سہنے کی عادی ہو جاتی ہیں تو ظالم اپنے دانت مزید تیز کرتے چلے جاتے ہیں ۔
" حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ اگر چڑیاں متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ہیں "
ہم نے متحد ہونے کی رسم سے کنارہ کر لیا ، لسانی ، مسالکی ، علاقائی تعصبات کی دیواریں حائل کر لیں ۔ جس وجہ سے ایک پولیس افسر لاکھوں زندہ انسانوں کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر ہانکتا ہے ۔ کسی کو اپنے حقوق کی آواز اٹھانے کی جرات نہیں ہوتی ۔ ایک ایس ایس پی ، جسکی جرات اور بہادری کا یہ عالم ہے کہ مفروضہ پولیس مقابلہ بھی مقتول کو ہتھکڑیاں پہنا کر کرتا ہے ۔ اپنے اہل خانہ کی حفاظت سے خوفزدہ ہو کر انہیں ملک سے باہر بھیج رکھا ہے ۔ گھر سے بکتر بند میں نکلتا ہے ۔ اس جرات کا افسر کتنے قتل کر سکتا ہے ۔ اصل کہانی یہ نہیں ، کہ اس اکیلے نے تین سو ساٹھ لوگ موت کی نیند سلائے ۔ اس کے پیچھے ہاتھ اسے ایسا کرنے پر مجبور کئے ہوئے تھے ۔ کیا جتنے بھی وزراء داخلہ آئے ، جتنے بھی پولیس کے سربراہ آئے ، جتنی بھی ایجینسیاں متحرک ہیں ، اس قتل و غارت گری سے بے خبر تھیں ؟ وہ جو اسکے کندھوں پر سٹار بڑھا رہے تھے ، اسکے کس فعل پر قائل تھے ۔ اسکے ساتھ بھرتی ہونے والے کتنے اے ایس آئی ، ایس ایس پی بنے ۔ آخر بیگناہوں کے قتل کے علاوہ اسکی کونسی ایسی قابلیت ہے ، جو کسی دوسرے میں نہیں تھی ۔ یہ تو ایک مہرہ تھا ، جو عوام کے اتحاد کے سامنے پٹ گیا ۔ وگرنہ کھلاڑی ہاتھ نہ جانے کب تک اس درندے کو خون پلاتے رہتے ۔ اس کی سزا جو بھی ہو ، وہ بعد کا معاملہ ہے ۔ ایک تفصیل سامنے لانا ضروری ہے کہ خفیہ ہاتھ کون کون ہیں ۔ پھر سزا قانون دے یا عوام خود دیں ، حالات پر چھوڑ دیا جائے ۔
آزاد ھاشمی
Sunday, 21 January 2018
صرف ایس ایس پی ؟؟؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment