" اب کیسا شور "
کیا یہ حکمران بھارتیوں نے منتخب کئے ؟ اسرائیل نے بھیجے یا امریکہ نے ؟
یہ گناہ ہم سب نے مل کر کیا ۔ یہ پھل جمہوریت کے درخت کی سوغات ہیں ۔ ہم نے اللہ کے نظام کو رد کر دیا ۔ مذاق اڑایا ، مذہبی اقدار کا ۔ اللہ کے احکامات سے سرکشی کی ۔ انسان کے شعور کو اللہ کی قدرت پر فوقیت دے دی ۔ اسلام کو اپنے دل و دماغ سے نکال کر مغربیت کا بھس اپنے دماغوں میں ٹھونس لیا ۔ سلطنت کے امور اور مذہب کو الگ الگ دیکھنے لگے ۔
سیاست کے مداریوں نے ہماری یکجہتی کا شیرازہ بکھیر دیا ۔ ہم ان مداریوں کو پوجنے لگے ۔ ان زندہ بتوں کی پرستش شروع کر دی ۔
ہمیں کسی نے مجبور نہیں کیا کہ ہم چودہ سو سال والی روشنی سے منہ موڑ لیں ۔ مولوی بھی راستہ بھول گیا اور ہم نے بھی راستہ ڈھونڈھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اپنی اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہو کر ، الزام دھرنے کی ریت اختیار کر لی ۔ خالی دل سے دعائیں مانگ کر قبولیت کی آس میں رہے ۔
ہم سب نے مل کر کیکر بوئے ہیں ، کیکر پر کانٹے ہی لگتے ہیں انگور نہیں ۔ یا تو کیکر کاٹو یا پھر شور بند کرو اور کانٹوں کیلئے پاوں تیار رکھو ۔ جو کانٹا آج کسی دوسرے کے پاوں میں چبھا ہے ، کل میرے یا آپکے پاوں میں بھی چبھ سکتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Thursday, 25 January 2018
اب کیسا شور
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment