" شریعت سے دشمنی کے رنگ "
ایک مفکر فرماتے ہیں ۔
"شریعت کے نفاذ کامطالبہ قطعی ناجائز ہے کیونکہ شریعت واحد چیز ہے جو نفوذ سے آتی ہے نافذ کرنے سے نہیں , اس کا دل و دماغ میں نفوذ ہونا ضروری ہے "
اس دلیل پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ مفکر جمہوریت کو شریعت کے معنے ہی معلوم نہیں ۔ اور فتوی داغ دیا کہ شریعت کا مطالبہ ہی ناجائز ہے ۔ لگتا ہے جناب کی ارسطو اور سقراط سے گہری دوستی ہے ۔
پھر فرماتے ہیں ۔
" ہر حکم قرآن اور حدیث کی روشنی میں ہم سب تک پہنچ چکا اس پر عمل کروانا سٹیٹ کی ذمہ داری نہیں ہے "
کاش یہ قران اور حدیث کا علم آپ تک بھی پہنچ چکا ہوتا ۔ تو آپ یہ اول فول نہ بولتے ۔
اہم سوال ، جو اسوقت ہر اسلامی نظام کے مخالفین کے ذہنوں کو آلودہ کئے ہوئے ہے ۔
" فقہی احکامات کس مسلک کے لاگو ہونگے کیا ان کا ماننا سب کے لیے لازم ہو گا "
اسلام بہت واضع دین ہے ۔ اسلامی مملکت میں غیر مسلم شہریوں کو انکے مذہب اور ایمان کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہیں ، بشرطیکہ وہ اسلامی قوانین کی پاسداری کرتے رہیں ۔ جہاں تک فقہی مسائل کی الجھن ہے , ہر مسلک کے ماننے والے پر اسی کے مسلک کے مطابق حد لاگو کر دی جائے ۔ کوئی جھگڑا ہی نہیں ۔ اسلام کے بنیادی کلیے اور قاعدے واضع ہیں ، جس پر اکثریت متفق ہے ۔
ازاد ھاشمی
Sunday, 21 January 2018
شریعت سے دشمنی کے رنگ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment