" چیف صاحب کا ایکشن "
چیف جسٹس آف پاکستان نے بیگناہ نوجوان کے قتل پر از خود ایکشن لیا ۔ احسن اقدام ہے ۔ میں پختون قوم کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس قتل پر اپنا حق مانگ لیا ۔ کہ چیف جسٹس کو بھی بیدار ہونا پڑا ۔ اس پولیس افسر نے کتنے لوگ موت کے گھاٹ اتارے ، شاید شمار میں بھی نہیں ۔ ایک ہی علاقے میں ایس ایچ او سے ایس ایس پی بن کر بیٹھے رہنا ۔ اسکی پشت پناہی کی مضبوطی ظاہر کرتا ہے ۔ کسی مگر مچھ کا پالا ہوا یہ بھیڑیا اس قدر خونخوار ہو گیا ، کہ جس کو چاہے ، جہاں سے چاہے ، بغیر کسی وارنٹ کے اٹھا لے اور چند دن بعد ہتھکڑیوں میں بندھے لوگوں کو بھون ڈالے ۔ نہ پولیس کے اعلی افسران نے پوچھا ، نہ سندھ اسمبلی میں بیٹھے عوام کی بہی خواہ نمائیدوں نے سوال کیا ، نہ میڈیا کے کان پر جوں رینگی اور نہ لبرلز کو جرات ہوئی ۔ مہاجروں کے کتنے بیگناہ سپوت مار ڈالے ، بیچارے چیختے تو وطن دشمن کہہ کر طوفان اٹھا لیا جاتا ۔ حیرانی تو یہ ہے دو روز پہلے ایک عمر رسیدہ پروفیسر مار دیا ، کتنا اچھا ہوتا اسی روز ہی ایکشن لے لیا جاتا تو شاید یہ نوجوان بچ بھی جاتا اور مہاجر قوم کو ڈھارس بھی مل جاتی کہ چلو کوئی تو آیا جو حق کی زبان بولتا ہے ۔ مہاجر کراچی کی اکثریت ہے اور وہ کب سے چیخ رہے تھے کہ یہ درندہ بلا وجہ قتل و غارتگری کر رہا ہے ۔ اس طرح کی خاموشی احساس محرومی کو جنم دیتی ہے اور ذہنوں میں بغاوت جنم لیتی ہے ۔ قتل کوئی بھی ہو ایک انسان ہے ۔ اسے انصاف ملنا چاہئیے ۔ زبان ، رنگ ، علاقہ اور سٹیٹس کے بغیر ۔ کوئی بھی قتل ہو اگر سب یونہی اٹھتے رہیں گے تو چیف جسٹس اور دیگر چیف بھی ایکشن لیتے رہیں گے ۔
ازاد ھاشمی
Sunday, 21 January 2018
چیف صاحب کا ایکشن
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment