Tuesday, 23 January 2018

صرف حسینؑ ابن علیؑ کا راستہ

" صرف حسین ؑ ابن علی ؑ کا راستہ "
اچھائی اور برائی دو متضاد خصلتیں ہیں ۔ درندے کو کتنا بھی سمجھا لو وہ اپنی درندگی پر قائم رہے گا ۔ کیونکہ اسکی خصلت میں لکھا ہے کہ ہر کمزور پر حملہ کرے ۔ یزید ایک ایسے ہی بد خصلت درندے کا نام ہے ۔ جو اپنے اقتدار کی ہوس میں کسی بھی حد سے گذر جانے پر آمادہ رہتا تھا ۔ اسکے نزدیک اقتدار کا حصول ہی عبادت تھا ۔ یہ وہ خصلت ہے جو یزیدیت بنی ۔ اسے روکنا ، ایک معرکہ تھا جو کسی عام انسان کی بساط سے باہر تھا ۔ یزیدیت ایک برائی تھی جو اسلام کے نظام کے  لئے ایک رکاوٹ تھی ۔ عرب کا وہ خطہ جہاں رشد و ہدایت کا سورج طلوع ہوا ، پھر سے ظلمت کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ کتنے مسلمان تھے جو یزید کے خلاف تھے مگر کسی کو جرات نہیں ہو رہی تھی کہ اسکے خلاف اٹھ کر اسکی راہ روکے ۔ ان مسلمانوں میں نمازی بھی تھے ، حفاظ بھی ، عالم بھی ، مفسر بھی اور مفکر بھی ۔ مگر ایمان ایک خاص حد میں مقید تھا ۔ جرات کا فقدان ، ہمیشہ دوسروں کو بھی مصلحت اور بزدلی کیطرف راغب کرتا ہے ۔ یہی حال تھا مسلمانوں کا ۔ ایسے حالات میں یزیدیت کا راستہ روکنے کا قصد ، حسینؑ ابن علیؑ نے کیا ۔ تاریخ میں جو صفحات  اپنے خون سے لکھے ، وہ حسینیت ہے ۔ اب ہمارے وطن میں اقتدار کی ہوس میں اندھے ، یزیدیت کی راہ پر گامزن ہیں ۔ اور ہم اہل عرب کی طرح چھپے بیٹھے ہیں ۔ خوفزدہ ہیں اور  یزیدیت کے ساتھ مصلحت کی راہ پر چل رہے ہیں ۔ اسکا راستہ روکنے کیلئے " حسینیت " کی راہ کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ 
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment