" خود کشی مت کرو "
بہت ہوگیا ۔ سیاسی رہنما نہ صرف بد کردار ہیں ، بلکہ انتہائی بد اخلاق ہیں ۔ انکے سامنے دو ہی ہدف ہیں کرسی اور پیسہ ۔ بھلے ایمان بیچنا پڑے ، قوم بیچنی پڑے یا وطن کا سودا کرنا پڑے ۔ جمہوریت کا راگ الاپ الاپ کر جعلی ووٹ ، ووٹوں کی خریداری ، غنڈہ گردی اور دھونس کو جمہوریت کا نام دے رکھا ۔ قوم نے دیکھ لیا جتنے بھی شیوخ ، پیر اور مذہبی سیاستدان اسمبلیوں میں آتے ہیں ، انہوں نے کبھی اسلامی نظام کی بات نہیں کی ، کبھی چوری چکاری پر احتجاج نہیں کیا ، کبھی نہیں کہا کہ اسمبلی سے لی جانے والی بیش بہا مراعات قوم پر بوجھ ہیں ۔ گدی نشین ، جو لاکھوں کی اصلاح پر مسندیں بچھائے بیٹھے ہیں ۔ انکے ایمان کی پختگی کا عالم بھی قوم دیکھ رہی ہے ۔ پولیس ، جسے قوم کی حفاظت کا فرض سونپا گیا تھا ، اسکا تجربہ بھی ہو چکا ۔ اینٹیلیجینس اداروں کی کارکردگی کی بھی ہوا نکلتے دیکھی ۔ عدالتوں میں لگی دوکانیں بھی سامنے ہیں ۔ کیا یہ سب کسی معجزے سے ٹھیک ہوںگی ، کیا کسی پیر کی دعا سے سب بدلے گا ۔ کیا کوئی مسیحا آسمان سے اترے گا ۔ قوم کیلئے فیصلے کا یہی وقت ہے ۔ کیا اب بھی مہاجر ، پنجابی ، سندھی ، بلوچ اور پٹھان بنے رہنا چاہتے ہو ۔ کیا شیعہ ، سنی دیوبندی وغیرہ کی تسبیح جاری رکھو گے ۔ کیا اب بھی سیاسی نام رکھ کر جینا چاہو گے ۔ کیا اب بھی برائی سے منہ نہیں موڑو گے ۔ کیا اب بھی اللہ کی رسی کو مضبوطی نہیں تھامو گے ۔
اگر ایسا نہیں کروگے ، ایک قوم بن کر نہیں سوچو گے ، برائی کے خلاف بلا امتیاز باہر نہیں نکلو گے ۔ تو یہ خود کشی ہوگی ۔
خودکشی مت کرو۔
آزاد ھاشمی
Friday, 26 January 2018
خودکشی مت کرو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment