" پارلیمنٹ ، قوم سے مذاق "
شاید کسی جمہوریت کے پروانے کو سمجھ آیا ہو اور وہ بتا سکے کہ ہمارے ملک میں پارلیمنٹ کا کیا کردار ہے ؟
اپنے ممبران کو لاکھوں روپے کی مراعات کس خدمت کے عوض دی جاتی ہیں ؟
اگر تو انکی ذمہ داری قانون سازی کرنا ہے ، تو ان محترم ممبران کی فوج نے کونسی ایسی قانون سازی کی ہے ، جو قوم اور وطن کے مفاد میں ہے اور جس گھمبیر مسائل حل ہوئے ۔ ان میں سے کتنے ممبران ہیں جو قانون سازی کرنے کے اہل ہیں اور کتنے صرف ہاتھ اٹھانے والے ہیں ۔
اگر انکی ذمہ داری ملکی مفاد کے خلاف ہر کام کو روکنا ہے تو کتنے بل پاس ہوئے اور کتنے قانون بنے ۔ یہ ملکی سرمایہ ملک سے باہر کیسے جاتا رہا ، ان ممبران نے کیا اقدام کیا اس ملک دشمنی کو روکنے کا ۔ پولیس بے لگام ہے ، اسکے کونسے واضع قوانین مرتب کئے کہ عوام کو تحفظ مل جاتا ۔ ملکی ترقی کا کوئی بھی پراجیکٹ کرنے سے پہلے پارلیمنٹ منظوری دیتی ہے ۔ کیا جتنے پراجیکٹ بنے ان پر پارلیمنٹ سے منظوری لی گئی ، ان پر بحث ہوئی ، انکے حسابات پارلیمنٹ میں پیش ہوئے ، حسابات پر آڈٹ ہوا ؟ یقینی طور پر ایسا کچھ نہیں ہوا ہوگا ۔ کیوں اور کیسے ، یہ من مانی ہو رہی ہے ۔
چونکہ پارلیمنٹ کے ممبران کو ترقیاتی فنڈز بطور حصہ مل جاتے ہیں ، جن سے یہ ممبران اگلے انتخابات کیلئے تیاری کرتے ہیں ۔ جبکہ ترقیاتی کام قانون بنانے والوں کے فرائض کا حصہ ہی نہیں ۔ یہ کام انتظامیہ کا ہوتا ہے ، جسکے لئے بیشمار ادارے ملکی وسائل ہڑپ کرتے ہیں ۔ جبکہ انہیں انکے کام تفویض ہی نہیں کئے جاتے ، اور وہ دفاتر میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں ۔
آخر یہ پارلیمنٹ کا ہاتھی کس لئے پال رکھا ہے ۔ جب کوئی مشکل آ پڑتی ہے تو فوج کو بلا کر یہ محکمے دے دئیے جاتے ہیں ۔ رینجرز جس کی ذمہ داری سرحدوں کی نگرانی ہے ، وہ پولیس کا کام کر رہی ہے اور پولیس بھتہ خوری ، پولیس مقابلے اور شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے میں لگی ہے ۔ جسٹس صاحب ایکشن لے رہے ہیں جبکہ عدالتوں میں لاکھوں کیس زیر التوا ہیں ۔ کیا یہ سب کام پارلیمنٹ کے تھے کہ نہیں ؟ کہ ان تمام الجھنوں کی راہ نکالتے ؟ تین بار وزیر اعظم بننے والا پارلیمنٹیرین سڑکوں پر دھائی دے رہا ہے کہ عدالتیں جانبدار ہیں ۔ آئی جی پولیس کا کنٹرول ایک ایس پی پہ نہیں تو اس سے زیادہ اصلاح و قانون سازی کی ضرورت کیا ہو گی ۔ پارلیمنٹ کے ماتھے پہ کلمہ لکھ لینے سے کلمے کی توقیر نہیں بنتی ، کلمے کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔
میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ یہ بڑی سی عمارت قوم کے ساتھ مذاق کیلئے بنائی گئی ہے ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 24 January 2018
پارلیمنٹ ، قوم سے مذاق
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment