Friday, 6 September 2019

معاویہ کا دور اقتدار (٢) "

" معاویہ کا دور اقتدار (٢) "
حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد ، اغلب امکان تھا کہ جید مسلمان امام حسنؑ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے ۔ اگر ایسا ہو جاتا تو معاویہ کا اقتدار پر قبضے کا خواب پورا نہ ہوتا ۔ اسکے لئے جو آثار نظر آ رہے تھے ، اس میں مسلمان دو حصوں میں اسطرح تقسیم ہو جاتے کہ قتل و غارتگری کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ۔ مگر امام حسنؑ نے معاویہ کے ارادوں کو دیکھتے ہوئے ، اپنے حق سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ۔ معاویہ کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہونے کے باعث معاویہ کسی بھی شرط کو وقتی طور پر قبول کرنے کو تیار تھا ۔ اسکے ساتھ ساتھ اس نے مختلف محاذوں پر لڑائی کی بھی پوری تیاری شروع کر دی تھی ۔ جس میں  مدائن میں امام پر ہونے والے حملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا  ۔ حالانکہ صلح نامے کی بات امام کی طرف سے نہیں بلکہ یہ بات معاویہ کی سازش کا حصہ تھا جو اس نے مدائن میں بروئے کار لایا تھا۔ معاویہ کے کارندوں نے مدائن میں یہ پروپیگنڈا مہم چلائی کہ امام حسنؑ نے صلح کی پیش کش کی ہے۔ ہوا کچھ اسطرح سے کہ معاویہ ،  امام سے مذاکرات کے بہانے مغیرہ بن شعبہ اور عبداللہ بن عامر کو مدائن بھیجتا ہے اورجب یہ دونوں امام کے خیمے سے باہر آتے ہیں تو یہ افواہ پھیلاتے ہیں کہ امام نے معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کو قبول کیا ہے۔ اس خبر سے لوگ ناراض ہو جاتے ہیں اوراسی دوران ایک گروہ امام پر حملہ آور ہوتا ہے ۔
اسی دوران معاویہ نے عبیداللہ بن عباس کو یہ پیغام بھیجا کہ مدائن میں امام حسنؑ نے صلح کرنے کو قبول کیا ہے اور میری بیعت کرنے کیلئے آمادہ ہوا ہے اور اگر تم بھی ابھی مجھ سے ملحق ہوتے ہو تو میں تمہیں دس لاکھ درہم دوں گا۔ عبیداللہ نے معاویہ کی اس تجویز کو قبول کیا اور راتوں رات معاویہ کی طرف چلا گیا۔ 
ان جیسے بیشمار سیاسی لالچ دیکر معاویہ نے اقتدار کیلئے راہ ہموار کرنے کے حربے استعمال کئے ۔ جن کو آج کے سیاسی دور میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ جو  اسلامی نظام کے تحت ایک برا اور معیوب اقدام ہے اور نہ ہی آج کے دور میں مستحسن ہے ۔
جب ہم امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان معاہدے کی شرائط پر تاریخی حوالہ جات دیکھیں گے تو بلاشبہ اس رائے کو تقویت ملے گی کہ معاویہ کے ہاتھ پر جن لوگوں نے بیعت کی انکے ساتھ کون کون سے عوامل درپیش تھے ۔ اور کس کس مزاج کے لوگ معاویہ کے ساتھ تھے ۔ ایسی صورت میں " امیر المومنین " کہنا کسی طور مناسب دکھائی نہیں دیتا ، اور نہ ہی وہ طرز حکومت نظر آتا ہے ، جسے خلافت کہا جائے ۔
آزاد ھاشمی
٦ ستمبر ٢٠١٩

  

Thursday, 5 September 2019

معاویہ کا دور اقتدار (١) 

" معاویہ کا دور اقتدار (١)  "
ایک مختصر سا جائزہ پیش ہے کہ معاویہ نےاقتدار تک پہنچنے میں کیسے سیاست کی ۔
اسلام کے نظام کے اپنے اصول و ضوابط ہیں ، جو ہمیشہ سچائی ، انصاف اور بنیادی حقوق کی ضمانت ہوتے ہیں ۔ اقتدار کیلئے کسی کو زچ کر دینا یا تخت کیلئے ایسا جال بن دینا کہ اقتدار ہر حال میں اپنی ہی جھولی میں گرے ، اسلام کا طریقہ نہیں ۔ صاحبان کردار پر مشتمل شوریٰ فیصلہ کرتی ہے کہ کون رہبری کے لائق ہے اور کون نہیں ۔ مگر سیاست ان تمام صورتوں میں متضاد کوشش کا نام ہے ۔ سیاست میں اقتدار تک رسائی کے کوئی اصول وضع نہیں ہوتے ۔ طاقت استعمال کی جائے ، خوشامد کی جائے ، گمراہ کیا جائے یا کسی کے حقوق سلب کرنے پڑیں ، سیاسی قابلیت کہلاتی ہے ۔ اسی لئے تاریخ معاویہ کے سیاسی تدبر کی قائل ہے ۔ معاویہ کے اقتدار تک پہنچنے سے پہلے کی کوششوں کو ایک سرسری سے نظر سے بھی دیکھا جائے تو موصوف کہنہ مشق ، ذہین سیاستدان ثابت ہوتے ہیں ۔ اسلامی نظام کے جتنے بھی ضوابط تھے ، موصوف ان سب سے بہت دور رہے ۔
اب چند سیاسی حیلوں کو دیکھتے ہیں جو تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہیں ۔
١۔ معاویہ نے  اعلان کیا تھا کہ اسکی علیؑ سے مخالفت خلافت کیلئے نہیں ہے۔ جو کسی بھی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ۔ اس نے خلافت کا خواب اسوقت دیکھ لیا تھا ، جب اسے شام کی امارت ملی ۔ جب معاویہ کے بڑے بھائی کا انتقال ہوا ، جو اسوقت عراق کے گورنر تھے تو معاویہ کو عراق کی گورنری کے ساتھ عراق پر بھی تسلط مل گیا ۔ یہ سیاسی اعتبار سے ایک بڑی کامیابی تھی ۔
٢۔ معاویہ  نے جنگ جمل سے پہلے زبیر بن عوام کو قائل کرنے کیلئے لکھا :۔ اس نے شام کے لوگوں سے بیعت لے لی ہے اگر عراق انکا ساتھ دے تو شام کی طرف سے کوئی مشکل نہیں ہے۔
٣۔ معاویہ کی ساری سعی ملوکیت کیلئے تھی اور خلفاء راشدین کے کے بعد ملوکیت کا یہ نیا تجربہ تھا ۔ جس میں دینی و سیاسی، قبائلی اور علاقائی اختلافات کو  زور اور سیاسی حیلوں کے توسط سے حل کیا گیا ۔ معاویہ کے اپنے الفاظ میں ہے  کہ
" میں  نے یہ خلافت  لوگوں کی محبت، دوستی اور انکی رضایت سے نہیں بلکہ تلوار کے زور سے حاصل کی ہے۔"
۴۔ امام حسنؑ سے جو معاہدہ کیا گیا ، اسکی تمام شرائط سے انحراف کر دینا ، معاویہ کہ اقتدار پرستی اور ہوس کے ساتھ ساتھ ، بالکل واضع ہے کہ یہ تمام چالیں اسلام کے اس طرز حکومت سے متضاد تھیں جو رسول اللہ اور اسکے بعد خلفاء کیطرف رائج ہوئیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ آج کے سیاستدان جس طرح حکومت رانی تک پہنچ رہے ہیں اور جن سے صاحبان بصیرت نالاں نظر آتے ہیں ،  یہ سب وہی نقشہ ہے جو معاویہ نے قائم کیا ۔
آزاد ھاشمی
٣ ستمبر ٢٠١٩

Tuesday, 3 September 2019

سجدہ

" سجدہ "
ابلیس کو بہت زعم تھا کہ اسکی جبین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر سجدے کئے ۔ کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ اللہ کی تسبیح و تمحید سے غافل ہوا ہو ۔ آدمؑ کو سجدہ اس کے مزاج پر گراں تھا کہ وہ آدم جو اسکی نظروں کے سامنے کھنکتی مٹی سے بنایا گیا ہے ، اسے اس جبین سے سجدہ کرے جو اللہ کے سامنے جھکنے کی عادی ہے ۔ شیطان کو دوسرا اعتراض یہ تھا کہ جس نئی خلقت کو اتنی توقیر دی جارہی ہے ، یہ زمین پر جاتے ہی فساد کرے گی ۔ اپنے ہی ہم خلقت کا خون بہائے گی ۔ زمین کے سکون کو برباد  کرے گی ۔ ابلیس کو تیسرا اعتراض تھا کہ اگر یہ تخلیق تمحید و تقدیس کیلئے ہے تو ہم جن اور فرشتے اسکے لئے بہت ہیں ۔ کیونکہ یہ تخلیق جب فساد میں مصروف ہوگی تب عبادت ، تسبیح و تقدیس سے غافل ہو جائے گی ۔
کائنات کے خالق نے دو ٹوک فرمایا ۔
" جو میں جانتا ہوں ، اس سے تم سب لا علم ہو "
کئی ہزار سال گذر گئے ۔ وہ راز راز ہی رہا کہ آخر اس سجدے کے اصرار میں کونسا راز پوشیدہ ہے ۔ کئی انبیاء تشریف لائے ۔ کئی رسول مبعوث ہوئے ۔ کہ زمین پر فساد نہ ہو ۔ بھلائی اور نیکی پھیلے ۔ مگر ابن آدم نے وہ سب کچھ کیا جو ابلیس نے خدشات ظاہر کئے تھے ۔ آخر اس راز سے پردہ اٹھنے کا وقت آگیا ۔ ایک طرف شیطان کے چالیس ہزار چیلے ، تیر بھالے کے ساتھ فساد کی انتہاء کرنے کو کھڑے ہیں ۔ دوسری طرف ہر " حی علی الصلاح " پر بچے ، بوڑھے ، جوان جماعت کے ساتھ صفیں باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ہر کوئی اس انہماک سے سجدہ کر رہا ہے جو فرشتوں کو بھی نصیب نہ ہوا ہوگا ۔ کوئی ایک نماز قضاء نہیں ہوتی ۔ پیاس سے ہونٹ خشک ہیں ، گلے سوکھ گئے ہیں ، زبانوں میں جنبش کرتے ہوئے تکیلف ہو رہی ہے ، مگر اللہ کی تسبیح ، تمحید اور تقدیس میں فرق دکھائی نہیں دے رہا ۔ فرشتوں کے سجدے تو معمول رہتا ہے ۔ نہ جان کا خوف ، نہ امت کی امامت کی ذمہ داری ۔ یہاں سب وہ چھن رہا ہے جو ابن آدم کی ضرورت ہے ۔ شیطان بھی سوچ میں پڑا ہے اور شیطان کے چیلے بھی دیکھ رہے ہیں کہ اللہ نے سجدے کا حکم کیوں دیا ۔ وہ راز آج کھل رہا تھا ۔ پھر وہ لمحہ بھی " کہنہ سال " فلک نے دیکھا ۔ جب خنجر گردن پہ رکھا ہے ، ملعون شیطان کا ملعون پرستار کمر پہ بیٹھا ہے اور سجدے کا محافظ اللہ کے سامنے شکر کا سجدہ کر رہا ہے ۔ نہ اللہ سے شکایت ہے نہ زندگی کیلئے دعا ہے نہ التجا ۔ سجدے میں انہماک کا عالم کہ قاتل اپنے خنجر کو بار بار کند کرتا ہے اور بار بار چلاتاہے تاکہ تکلیف کا اظہار سن سکے ۔ جسم کو تڑپتا دیکھے اور جبیں سجدے سے ہٹے ۔ یہ وہ وقت ہے جو اللہ نے کہا تھا ۔
" جو میں جانتا ہوں ، تم نہیں جانتے "
شیطان فساد کی انتہاء پر تھا ۔ اور سجدہ اپنے عروج کی انتہا پر ۔
سلام اس پاک جبین کو جس نے سجدے کو دوام بخشا۔
آزاد ھاشمی
٣ ستمبر ٢٠١٩

Monday, 2 September 2019

مومنین کی امارت یا بادشاہت ؟"

" مومنین کی امارت یا بادشاہت ؟"
خلفاء راشدین کے حکمرانی کے دوران ہی اسلام کے ازلی دشمن یہود ،  عرب کے شدت پسند نصاریٰ  اور مشرکین عرب نے فتنہ اور فساد کی جڑیں مضبوط کرنے کی سازشیں جاری رکھیں ۔ ان سازشوں میں بنو امیہ کسی نہ کسی طور شامل رہے ۔ تین خلفاء کی شہادت کے سیاق و سباق میں جائیں تو قطعی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ بنو امیہ کو حکمرانی کا شوق بھی ان تمام سازشوں میں اساسی کردار ادا کرتا رہا. جب حضرت علیؑ سے کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کی رہنمائی کیلئے خلافت قبول کریں تو آپؑ نے انکار کیا ۔ مسلمان اکابرین کے مسلسل اصرار کے بعد جب خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو معاویہ کے حسد کی دبی ہوئی آگ بھڑک اٹھی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ بنو امیہ کو حضرت علیؑ سے جو عناد تھا ، وہ کھل کر سامنے آگیا ۔ اولین تینوں خلفاء کو تو وہ کسی نہ کسی مصلحت کے تحت قبول کر ہی رہے تھے ۔ مگر حضرت علیؑ کی خلافت براہ راست بنو ہاشم میں جاتی نظر آ رہی تھی ۔ اور اسکے بعد بھی اہل بیت کا مسلمانوں کی رہبری کیلئے راستہ کھلتا نظر آرہا تھا ۔
حضرت علیؑ کے دور رہبری میں مسلمانوں میں گروہی شورش زور پکڑ گئی ، مسلمان آپس میں دو بار آمنے سامنے جنگ کیلئے بھی کھڑے ہوگئے ۔ اس ساری ہنگامہ بازی کے پیچھے معاویہ ہی رہا ۔ آج اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان جو دیوار معاویہ نے کھڑی کی وہ صرف اقتدار کیلئے تھی ۔ اسکا مسلمانوں کی رہبری یا اسلام کی خدمت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا ۔ جب یزید کو ولی عہد نامزد کیا اور اسکے لئے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا ، دھونس اور جبر بھی کیا ، ضد اور ہٹ دھرمی بھی ۔ یہ نامزدگی محض بنو امیہ کا اقتدار پر قبضہ کرنے کی اوچھی حرکت تھی ۔ اسکے لئے اہل بیت کا قتال بھی کیا اور دوسرے مخالفین کو بھی جبر کا شکار بنایا ۔
اس سارے تاریخی حقائق کو سمجھ لینے کے بعد یہ کہنا کہ معاویہ اور اسکے سابقین مومنین کی امارت کر رہے تھے ۔ یا انہیں امیرالمومنین کہنا ، نہ قرین قیاس ہے ، نہ تاریخی حقیقت اور نہ ہی کوئی عملی ثبوت نظر آتا ہے ۔ اگر ہم انتہائی محتاط طریقے سے جائزہ لیں کہ معاویہ اور اسکے سابقین کی طاقت کے پیچھے کتنے مسلم اکابرین موجود تھے اور کتنے موقع پرست تو انکار ممکن نہیں کہ معاویہ نے اپنے اقتدار کو طول انہی موقع پرست طاقت کے ساتھ برقرار رکھا ۔
سارے دور حکومت میں وہی قیصر و کسریٰ والی شان و شوکت اور جاہ و جلال نظر آتا ہے ۔ نہ سادگی نظر آتی ہے اور نہ انصاف دکھائی دیتا ہے ۔ بیت المال ذاتی من مرضی پر استعمال ہوتا ہے ۔ کسی کو حق نہیں کہ خلیفہ سے سوال کر سکے ۔ اہل بیت کے وارثین پر جبر جاری رہتا ہے کہ سر نہ اٹھا سکیں ۔ دربار بن جاتے ہیں ۔ دربان رکھ لئے جاتے ہیں ۔ امیر المومنین مسجد سے اٹھ کر تخت پہ بیٹھ جاتا ہے اور خوشامدیوں کو درباری کرسیاں مل جاتی ہیں اور حق گوئی کرنے والوں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ طاقت مکہ اور مدینہ سے شام اور عراق میں چلی جاتی ہے ۔ خلیفہ کسی بھی احتساب سے بلند ہو جاتا ہے ۔
ان تمام تر حقائق کے بعد اسے مومنین کی امارت کہنا ، مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ۔ تاریخ نے دیکھا کہ یہی چالیس ہزار مومنین ، کسطرح اہل بیت کو کربلا میں شہید کرتے ہیں ۔ کیسے انکے جسموں پر گھوڑے دوڑاتے ہیں ، کیسے پردہ دار خواتین سے چادریں چھینتے ہیں ، کیسے بھرے درباروں میں آل رسولؐ کی تضحیک کی جاتی ہے ۔
سارے مومنین تھے جو اس لٹے پھٹے قافلے کا تماشا کر رہے تھے ۔ 
کیا درست نہیں کہ اسے بادشاہت کہا جائے اور اس پر بیٹھے ، انا پرست کو بادشاہ کہیں ۔ دلائل کی روشنی میں اسے امیر المومنین کہنا کس حد تک درست ہے ؟
آزاد ھاشمی
٢ ستمبر ٢٠١٩