" معاویہ کا دور اقتدار (٢) "
حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد ، اغلب امکان تھا کہ جید مسلمان امام حسنؑ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے ۔ اگر ایسا ہو جاتا تو معاویہ کا اقتدار پر قبضے کا خواب پورا نہ ہوتا ۔ اسکے لئے جو آثار نظر آ رہے تھے ، اس میں مسلمان دو حصوں میں اسطرح تقسیم ہو جاتے کہ قتل و غارتگری کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ۔ مگر امام حسنؑ نے معاویہ کے ارادوں کو دیکھتے ہوئے ، اپنے حق سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ۔ معاویہ کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہونے کے باعث معاویہ کسی بھی شرط کو وقتی طور پر قبول کرنے کو تیار تھا ۔ اسکے ساتھ ساتھ اس نے مختلف محاذوں پر لڑائی کی بھی پوری تیاری شروع کر دی تھی ۔ جس میں مدائن میں امام پر ہونے والے حملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ حالانکہ صلح نامے کی بات امام کی طرف سے نہیں بلکہ یہ بات معاویہ کی سازش کا حصہ تھا جو اس نے مدائن میں بروئے کار لایا تھا۔ معاویہ کے کارندوں نے مدائن میں یہ پروپیگنڈا مہم چلائی کہ امام حسنؑ نے صلح کی پیش کش کی ہے۔ ہوا کچھ اسطرح سے کہ معاویہ ، امام سے مذاکرات کے بہانے مغیرہ بن شعبہ اور عبداللہ بن عامر کو مدائن بھیجتا ہے اورجب یہ دونوں امام کے خیمے سے باہر آتے ہیں تو یہ افواہ پھیلاتے ہیں کہ امام نے معاویہ کے ساتھ صلح کرنے کو قبول کیا ہے۔ اس خبر سے لوگ ناراض ہو جاتے ہیں اوراسی دوران ایک گروہ امام پر حملہ آور ہوتا ہے ۔
اسی دوران معاویہ نے عبیداللہ بن عباس کو یہ پیغام بھیجا کہ مدائن میں امام حسنؑ نے صلح کرنے کو قبول کیا ہے اور میری بیعت کرنے کیلئے آمادہ ہوا ہے اور اگر تم بھی ابھی مجھ سے ملحق ہوتے ہو تو میں تمہیں دس لاکھ درہم دوں گا۔ عبیداللہ نے معاویہ کی اس تجویز کو قبول کیا اور راتوں رات معاویہ کی طرف چلا گیا۔
ان جیسے بیشمار سیاسی لالچ دیکر معاویہ نے اقتدار کیلئے راہ ہموار کرنے کے حربے استعمال کئے ۔ جن کو آج کے سیاسی دور میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ جو اسلامی نظام کے تحت ایک برا اور معیوب اقدام ہے اور نہ ہی آج کے دور میں مستحسن ہے ۔
جب ہم امام حسنؑ اور معاویہ کے درمیان معاہدے کی شرائط پر تاریخی حوالہ جات دیکھیں گے تو بلاشبہ اس رائے کو تقویت ملے گی کہ معاویہ کے ہاتھ پر جن لوگوں نے بیعت کی انکے ساتھ کون کون سے عوامل درپیش تھے ۔ اور کس کس مزاج کے لوگ معاویہ کے ساتھ تھے ۔ ایسی صورت میں " امیر المومنین " کہنا کسی طور مناسب دکھائی نہیں دیتا ، اور نہ ہی وہ طرز حکومت نظر آتا ہے ، جسے خلافت کہا جائے ۔
آزاد ھاشمی
٦ ستمبر ٢٠١٩