Thursday, 5 September 2019

معاویہ کا دور اقتدار (١) 

" معاویہ کا دور اقتدار (١)  "
ایک مختصر سا جائزہ پیش ہے کہ معاویہ نےاقتدار تک پہنچنے میں کیسے سیاست کی ۔
اسلام کے نظام کے اپنے اصول و ضوابط ہیں ، جو ہمیشہ سچائی ، انصاف اور بنیادی حقوق کی ضمانت ہوتے ہیں ۔ اقتدار کیلئے کسی کو زچ کر دینا یا تخت کیلئے ایسا جال بن دینا کہ اقتدار ہر حال میں اپنی ہی جھولی میں گرے ، اسلام کا طریقہ نہیں ۔ صاحبان کردار پر مشتمل شوریٰ فیصلہ کرتی ہے کہ کون رہبری کے لائق ہے اور کون نہیں ۔ مگر سیاست ان تمام صورتوں میں متضاد کوشش کا نام ہے ۔ سیاست میں اقتدار تک رسائی کے کوئی اصول وضع نہیں ہوتے ۔ طاقت استعمال کی جائے ، خوشامد کی جائے ، گمراہ کیا جائے یا کسی کے حقوق سلب کرنے پڑیں ، سیاسی قابلیت کہلاتی ہے ۔ اسی لئے تاریخ معاویہ کے سیاسی تدبر کی قائل ہے ۔ معاویہ کے اقتدار تک پہنچنے سے پہلے کی کوششوں کو ایک سرسری سے نظر سے بھی دیکھا جائے تو موصوف کہنہ مشق ، ذہین سیاستدان ثابت ہوتے ہیں ۔ اسلامی نظام کے جتنے بھی ضوابط تھے ، موصوف ان سب سے بہت دور رہے ۔
اب چند سیاسی حیلوں کو دیکھتے ہیں جو تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہیں ۔
١۔ معاویہ نے  اعلان کیا تھا کہ اسکی علیؑ سے مخالفت خلافت کیلئے نہیں ہے۔ جو کسی بھی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی تھی ۔ اس نے خلافت کا خواب اسوقت دیکھ لیا تھا ، جب اسے شام کی امارت ملی ۔ جب معاویہ کے بڑے بھائی کا انتقال ہوا ، جو اسوقت عراق کے گورنر تھے تو معاویہ کو عراق کی گورنری کے ساتھ عراق پر بھی تسلط مل گیا ۔ یہ سیاسی اعتبار سے ایک بڑی کامیابی تھی ۔
٢۔ معاویہ  نے جنگ جمل سے پہلے زبیر بن عوام کو قائل کرنے کیلئے لکھا :۔ اس نے شام کے لوگوں سے بیعت لے لی ہے اگر عراق انکا ساتھ دے تو شام کی طرف سے کوئی مشکل نہیں ہے۔
٣۔ معاویہ کی ساری سعی ملوکیت کیلئے تھی اور خلفاء راشدین کے کے بعد ملوکیت کا یہ نیا تجربہ تھا ۔ جس میں دینی و سیاسی، قبائلی اور علاقائی اختلافات کو  زور اور سیاسی حیلوں کے توسط سے حل کیا گیا ۔ معاویہ کے اپنے الفاظ میں ہے  کہ
" میں  نے یہ خلافت  لوگوں کی محبت، دوستی اور انکی رضایت سے نہیں بلکہ تلوار کے زور سے حاصل کی ہے۔"
۴۔ امام حسنؑ سے جو معاہدہ کیا گیا ، اسکی تمام شرائط سے انحراف کر دینا ، معاویہ کہ اقتدار پرستی اور ہوس کے ساتھ ساتھ ، بالکل واضع ہے کہ یہ تمام چالیں اسلام کے اس طرز حکومت سے متضاد تھیں جو رسول اللہ اور اسکے بعد خلفاء کیطرف رائج ہوئیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ آج کے سیاستدان جس طرح حکومت رانی تک پہنچ رہے ہیں اور جن سے صاحبان بصیرت نالاں نظر آتے ہیں ،  یہ سب وہی نقشہ ہے جو معاویہ نے قائم کیا ۔
آزاد ھاشمی
٣ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment