Monday, 2 September 2019

مومنین کی امارت یا بادشاہت ؟"

" مومنین کی امارت یا بادشاہت ؟"
خلفاء راشدین کے حکمرانی کے دوران ہی اسلام کے ازلی دشمن یہود ،  عرب کے شدت پسند نصاریٰ  اور مشرکین عرب نے فتنہ اور فساد کی جڑیں مضبوط کرنے کی سازشیں جاری رکھیں ۔ ان سازشوں میں بنو امیہ کسی نہ کسی طور شامل رہے ۔ تین خلفاء کی شہادت کے سیاق و سباق میں جائیں تو قطعی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ بنو امیہ کو حکمرانی کا شوق بھی ان تمام سازشوں میں اساسی کردار ادا کرتا رہا. جب حضرت علیؑ سے کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کی رہنمائی کیلئے خلافت قبول کریں تو آپؑ نے انکار کیا ۔ مسلمان اکابرین کے مسلسل اصرار کے بعد جب خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو معاویہ کے حسد کی دبی ہوئی آگ بھڑک اٹھی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ بنو امیہ کو حضرت علیؑ سے جو عناد تھا ، وہ کھل کر سامنے آگیا ۔ اولین تینوں خلفاء کو تو وہ کسی نہ کسی مصلحت کے تحت قبول کر ہی رہے تھے ۔ مگر حضرت علیؑ کی خلافت براہ راست بنو ہاشم میں جاتی نظر آ رہی تھی ۔ اور اسکے بعد بھی اہل بیت کا مسلمانوں کی رہبری کیلئے راستہ کھلتا نظر آرہا تھا ۔
حضرت علیؑ کے دور رہبری میں مسلمانوں میں گروہی شورش زور پکڑ گئی ، مسلمان آپس میں دو بار آمنے سامنے جنگ کیلئے بھی کھڑے ہوگئے ۔ اس ساری ہنگامہ بازی کے پیچھے معاویہ ہی رہا ۔ آج اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان جو دیوار معاویہ نے کھڑی کی وہ صرف اقتدار کیلئے تھی ۔ اسکا مسلمانوں کی رہبری یا اسلام کی خدمت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا ۔ جب یزید کو ولی عہد نامزد کیا اور اسکے لئے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا ، دھونس اور جبر بھی کیا ، ضد اور ہٹ دھرمی بھی ۔ یہ نامزدگی محض بنو امیہ کا اقتدار پر قبضہ کرنے کی اوچھی حرکت تھی ۔ اسکے لئے اہل بیت کا قتال بھی کیا اور دوسرے مخالفین کو بھی جبر کا شکار بنایا ۔
اس سارے تاریخی حقائق کو سمجھ لینے کے بعد یہ کہنا کہ معاویہ اور اسکے سابقین مومنین کی امارت کر رہے تھے ۔ یا انہیں امیرالمومنین کہنا ، نہ قرین قیاس ہے ، نہ تاریخی حقیقت اور نہ ہی کوئی عملی ثبوت نظر آتا ہے ۔ اگر ہم انتہائی محتاط طریقے سے جائزہ لیں کہ معاویہ اور اسکے سابقین کی طاقت کے پیچھے کتنے مسلم اکابرین موجود تھے اور کتنے موقع پرست تو انکار ممکن نہیں کہ معاویہ نے اپنے اقتدار کو طول انہی موقع پرست طاقت کے ساتھ برقرار رکھا ۔
سارے دور حکومت میں وہی قیصر و کسریٰ والی شان و شوکت اور جاہ و جلال نظر آتا ہے ۔ نہ سادگی نظر آتی ہے اور نہ انصاف دکھائی دیتا ہے ۔ بیت المال ذاتی من مرضی پر استعمال ہوتا ہے ۔ کسی کو حق نہیں کہ خلیفہ سے سوال کر سکے ۔ اہل بیت کے وارثین پر جبر جاری رہتا ہے کہ سر نہ اٹھا سکیں ۔ دربار بن جاتے ہیں ۔ دربان رکھ لئے جاتے ہیں ۔ امیر المومنین مسجد سے اٹھ کر تخت پہ بیٹھ جاتا ہے اور خوشامدیوں کو درباری کرسیاں مل جاتی ہیں اور حق گوئی کرنے والوں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ طاقت مکہ اور مدینہ سے شام اور عراق میں چلی جاتی ہے ۔ خلیفہ کسی بھی احتساب سے بلند ہو جاتا ہے ۔
ان تمام تر حقائق کے بعد اسے مومنین کی امارت کہنا ، مذاق سے زیادہ کچھ نہیں ۔ تاریخ نے دیکھا کہ یہی چالیس ہزار مومنین ، کسطرح اہل بیت کو کربلا میں شہید کرتے ہیں ۔ کیسے انکے جسموں پر گھوڑے دوڑاتے ہیں ، کیسے پردہ دار خواتین سے چادریں چھینتے ہیں ، کیسے بھرے درباروں میں آل رسولؐ کی تضحیک کی جاتی ہے ۔
سارے مومنین تھے جو اس لٹے پھٹے قافلے کا تماشا کر رہے تھے ۔ 
کیا درست نہیں کہ اسے بادشاہت کہا جائے اور اس پر بیٹھے ، انا پرست کو بادشاہ کہیں ۔ دلائل کی روشنی میں اسے امیر المومنین کہنا کس حد تک درست ہے ؟
آزاد ھاشمی
٢ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment