" یزید اور یہود (3 )"
معاویہ اور یزید کے بعد کا تسلسل ، جس میں اہل بیت کے تمام امام نشانہ ستم بنائے جاتے رہے ، ظاہر کرتا ہے کہ یہود و نصاریٰ پوری طرح سے اسلام کے پیغام کو بدل دینے کے درپے تھے ۔ یہی وہ مقصد تھا ، جس وجہ سے بنو امیہ کو اقتدار میں لانے کیلئے یہود و نصاریٰ ہر طرح سے معاون تھے ۔ مسالک کی بنیاد کو دیکھ لیں ، احادیث کی بھرمار کو دیکھ لیں ، فلسفہ ، منطق اور اجتہاد کو دیکھ لیں ، اسلام پر لکھی جانے والی تاریخ کو دیکھ لیں ، یہ سب بہت تیزی کے ساتھ بنو امیہ کے بادشاہوں کے دور میں ہوا ۔ چند محققین کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ امام حسینؑ کے دور میں نصاریٰ کا ایک گروہ جو خود کو سخت دیندار ظاہر کرتا تھا اور اپنے دین کے لئے انتہائی متعصب تھا ، یہ وہ گروہ تھا جو عیسائیوں کی ممتاز شخصیتوں پر مشتمل تھا۔ یہ وہ گروہ تھا جو بظاہر مسلمانوں کو آزار و اذیت نہیں پہنچاتا تھا اور ظاہر کرتا تھا کہ وہ اللہ کے آخری نبیؐ کا بہت احترام کرتے ہیں ۔ مگر اس گروہ کے سرکردہ افراد نے جب بھی اللہ کے رسولؐ کے پاس آنے کی خواہش کی ، آپ نے ہر بار منع فرمایا ۔ کیونکہ یہ زرق برق لباس زیب تن کرتے تھے اور اسلام کی تعلیمات پر بھی رائے دینا چاہتے تھے ۔تاکہ کوئی تضاد پیدا کر سکیں ۔
دوسرا گروہ وہ عیسائی تھے جو دنیا کے حریص تھے انہیں زیادہ تر اپنی دنیا داری سے مطلب تھا وہ اسلام کی مخالفت بھی کرتے تھے تو اپنے دنیوی مفاد کی خاطر لیکن جب ان کے دنیوی مفادات خطرے میں پڑ جاتے تو اسلام کے مقابلے سے ہاتھ کھینچ لیتے جیسے نجراں کے نصاریٰ، مباہلے میں انہوں نے جب محسوس کیا کہ اگر پیغمبر اسلامؐ کے مقابلے میں ڈٹے رہیں گے تو ان کی نابودی یقینی ہو جائے گی تو مباہلے کے بغیر فرار کر گئے۔اس گروہ میں سے کچھ افراد ایسے تھے جو مسلمانوں کے اندر گہرا نفوذ رکھتے تھے ان کا مقصد اسلام کو مٹانا نہیں تھا بلکہ اسلام میں تحریف ایجاد کرنا تھا اسلام کو اس کے اصلی راستے سے منحرف کرنا تھا اسی وجہ سے انہوں نے پیغمبر اکرمؐ کے بعض اکابر صحابہؓ کے درمیان اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا شروع کردیا اور کربلا کا واقعہ انہی سازشوں کا نتیجہ نکلا.
تیسرا گروہ عیسائیوں اور یہودیوں کا مشترکہ گروہ تھا۔ یہ پیغمبر اسلامؐ کو اپنا دشمن اور یہودیت و عیسائیت کی نابودی کا باعث سمجھتا تھا۔ یہ مشرکین مکہ کو پیغمبر اکرمؐ کے خلاف جنگوں کے لئے ابھارتے رہتے ، اسی گروہ کے کچھ عناصر امیر شام کے مشیر تھے جو انہیں امیر المومنین علی علیہ السلام کے خلاف بغاوت پر اکساتے اور جنگوں میں امیر شام کی پشت پناہی کرتے تھے یزید بن معاویہ کی تربیت میں ان کا گہرا کردار تھا اور اسی طرح واقعہ کربلا کے پسِ پردہ اور اصلی مہرے یہی لوگ تھے۔
چونکہ یہود و نصاری کے نزدیک قوم پرستی اور نسل پرستی کا مسئلہ اہم مسئلہ ہے۔ وہ قوم جو نسلی حکومت کی قائل ہے اور کسی دوسری نسل کی حکمرانی کو قبول نہیں کر سکتی۔ یقینا اگر آخری پیغمبر حضرت اسحاقؑ کی نسل سے ہوتے تو اس دور کے نسل پرست یہود و نصاریٰ دوسرے انداز میں ان تاریخی واقعات کے ساتھ پیش آتے۔ اس صورت میں وہ جنگیں اور وہ کینہ و حسد نہ ہوتا۔
قرآن کریم میں چھ ہزار آیتوں میں سے تقریبا ۲ ہزار آیتیں یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہیں۔ تاکہ مسلمان ان سے محتاط رہیں ۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری تاکید کے باوجود ’سرجیوس‘ دربار معاویہ میں اہم کیوں رہا ؟ جب پیغمبر اکرمؐ کے گرانقدر صحابی حضرت ابوذر غفاریؓ نے اعتراض کیا تو جلاوطن کر کے ربذہ بھیج دیا جاتا ہے؟
معاویہ کے دور حکومت میں خزانہ دار کون شخص تھا؟
کیوں عبید اللہ بن زیاد کو سرجیوس یا سرجون کے مشورے کے مطابق کوفہ کا گورنر بنایا جاتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ ۔
یہ تاریخی وضاحت اسلئے ضروری تھی کہ کربلا کا سانحہ صرف یزید کی بیعت نہ کرنے کے سبب سے نہیں تھا بلکہ اس کے پس پردہ وہ تمام عوامل شامل تھے ، جو بعد میں اسلامی یکجہتی کو فروعی اختلافات میں الجھانے کیلئے کئے جانے تھے ۔ دو شہزادوں کی باہمی چپقلش کہنے والوں کو جہاں بیشمار ایسی احادیث مل جاتی ہیں ، جن نے اہل بیت کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو جنت واجب ہے ۔ وہاں یہ تاریخی حقائق نظروں سے اوجھل کیوں ہو جاتے ہیں ؟
آزاد ھاشمی
یکم ستمبر ٢٠١٩
Saturday, 31 August 2019
یزید اور یہود (3 )"
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment