Friday, 30 August 2019

یزید اور یہود (2) "

یزید اور یہود (2) "
گذشتہ تحریر میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ یزید کی کیسے ماحول میں تربیت کی جاتی ہے ۔ وہ محققین جو یہ ثابت کرنے پہ کوشاں ہیں کہ کربلا کی لڑائی دو شہزادوں کے درمیان اقتدار کی لڑائی تھی ۔ حالانکہ کربلا کا سانحہ لڑائی نہیں تھا ۔ کیونکہ آل رسولؐ کا مختصر سا قافلہ تو مسلمانوں کی گذارشات پر اسلام کی ابلاغ و اشاعت کیلئے روانہ ہوا تھا  اور بحیثیت امام کے نواسہ رسولؐ پر لازم تھا کہ جب مسلمان کسی دینی مشکل میں ہوں اور انہیں رہبری کی ضرورت ہو تو امام اس پر خاموشی سے نہ بیٹھے رہیں ۔ سالار قافلہ نے بارہا کوشش کی کہ نفاق کی اس بنیاد کو قائم نہ ہونے دیا جائے اور وہ تمام حجتیں پوری کیں ، جن سے اس خون آشام واقعہ کو روکا جا سکتا تھا ۔ مگر یزید کی تربیت کے بہت سارے ایسے پہلو ہیں ، جس بناء پر اسے سوائے آل رسولؐ کو ختم کرنے کے دوسرا راستہ نظر ہی نہیں آ رہا تھا ۔ اسکی تربیت میں  عیسائی پادریوں ’’یوحنا‘‘ اور ’’سرجیوس‘‘ کا کردار بہت اہم تھا ۔  وہ چاہتے تھے کہ یزید اسلام کا لبادہ اوڑھ کر خلافت کی مسند پر بیٹھ جائے لیکن خلافت کی اصلی لگام یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں میں رہے اور وہ جیسے چاہیں  خلافت  اسلامیہ کا رخ موڑتے رہیں ۔ انہوں نے جب دیکھا کہ مرگ معاویہ کے بعد اسلامی حکومت کی لگام  اہل بیت  کے ہاتھ میں جا رہی ہے اور کوفیوں نے امام  حسینؑ علیہ السلام کو اسلامی معاشرے کی رہبری کی دعوت دے دی ہے تو انہوں نے یزید کو امام حسینؑ کے قتل پر آمادہ کر دیا اور کوفے کے پرآشوب  ماحول کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے یزید کو راضی کیا گیا کہ عبید اللہ بن زیاد کو کوفے کا گورنر مقرر کرے۔ یہود اور نصرانی اسلام کے خلاف ہر سازش میں متحد رہے ہیں اور قرآن کریم کی روشنی میں مسلمانوں کے  سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی ہیں پھر مشرک اور نصرانی یعنی عیسائی۔ یہ سب اس سازش کے محرک تھے ۔اگر نہایت مزید تحقیق کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یزید کی فوج کے تمام سالار ،  تمام اکابرین یہود اور عیسائیوں سے بہت متاثر نظر آتے ہیں ۔ انہوں امام
حسینؑ کو جس طرح قتل کیا ، آپ کے ساتھیوں پہ جو ظلم کئے ، شہداء کے جسموں کو جس طرح پامال کیا اور اسکے بعد جسطرح پردہ دار خواتین کو ننگے سر بازاروں میں گھمایا ، وہ کوئی مسلمان کر ہی نہیں سکتا ۔ عام ہوش و حواس میں اتنی درندگی کا تصور ممکن ہی نہیں ۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ یا تو اسلام سے انتہاء کی دشمنی تھی ، یا پھر اشقیاء نشے کی حالت میں تھے ۔ یہ دونوں کیفیات یہود سے گہرا تعلق اور اسلام سے گہری دشمنی ظاہر کرتی ہیں ۔
( اگلی تحریر میں ہم ان گروہوں کا ذکر کریں گے ، جو یزید کی پشت پر تھے اور  امام حسینؑ سے  دشمنی کر رہے تھے )
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٣٠ اگست ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment