Wednesday, 28 March 2018

بے اثر دعائیں

" بے اثر دعائیں "
عراق میں جو ہوا ، شاید کوئی ہاتھ ہو جو دعا کیلئے نہ اٹھا ہو ۔ ایسے لگا جیسے اللہ نے کوئی ایک دعا نہیں سنی ۔ برما میں مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹا جا رہا ہے ، کونسا اللہ کا گھر ہے جہاں سے دعائیں نہیں مانگی گئیں ۔ شام میں جو ہو رہا ہے ، کروڑوں ہاتھ دعا کیلئے اٹھ رہے ہیں ، اللہ کے گھر میں دعائیں مانگی گئیں ۔ مساجد میں دعاوں کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ دعائیں بے اثر کیوں ہو گئیں ۔ کیا ان کروڑوں لوگوں میں ایک بھی ایسا ہاتھ باقی نہیں رہا ، جو اٹھے اور اللہ کی رحمت جوش میں آ جائے ۔
چھوٹا سا اسرائیل ، چند لاکھ یہودی اتنی ساری دعائیں مانگنے والوں پر حاوی ۔ ہندو نے اس سرزمین پر بت لا کر رکھنا شروع کر دئیے ، جہاں سے چودہ سو سال پہلے بت توڑنے کا آغاز ہوا تھا ۔
آخر اللہ کو مسلمانوں کی حالت زار پر رحم کیوں نہیں آ رہا ۔ اللہ تو فرماتا ہے کہ میں شہ رگ سے قریب ہوں ، آخر اتنی ناراضگی کا کیا سبب ہو گیا کہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھنے والوں پر کفار اور مشرکین فتح مند ہونے لگے ہیں ۔ وہ شہ رگ سے قریب ہو کر بھی کوئی زاری ، کوئی دعا نہیں سن رہا ۔ ضرور کوئی ایسی بات ہے ، ضرور کوئی ایسی خطا ہے ، ضرور کوئی ایسی سرکشی ہے ، جس پر اللہ سبحانہ تعالی مسلمانوں سے راضی نہیں ۔
بہت سیدھی سی اور عام فہم بات ہے ، کہ ہم اللہ کے نہیں رہے ، اللہ ہمارا نہیں رہا ۔ جب تک ہم اللہ کے نہ ہوگئے ، تب تک یہ رسوائی ہوتی رہے گی ۔ جب اللہ کے احکامات مان لیں گے ، اسکی نصرت ہمارے ساتھ ہو گی ۔ ہم  اسلام کا لبادہ اوڑھ کر شرک کی راہ پر چل نکلے ہیں ۔ ہم نے اللہ سے مانگنے کی عادت کو رسمی بنا لیا ہے ، دل اور دماغ سے غیر اللہ کو مانتے ہیں ۔ ہم کافروں کی دہلیز پر دو زانو ہو گئے ہیں ۔ ہم کافروں سے مراسم کو نجات سمجھنے لگے ہیں ۔ اب انہی کے ہاتھوں رسوا بھی ہو رہے ہیں ۔
دعائیں کیسے سنی جائیں گے ۔ اور کیوں سنی جائیں گی ۔
آزاد ھاشمی

چھیالیس سال پہلے

" چھیالیس سال پہلے "
آج بائیس مارچ ، چھیالیس  سال پہلے  ، اللہ سبحانہ تعالی نے میرے کمزور  کندھوں پر ذمہ داریوں کا پہاڑ لاد دیا ۔ جب میرے والد اس جہان سے اگلے جہان روانہ ہوگئے ۔ یہ وہ دن تھے جو زندگی کے عروج کیطرف بڑھنے کے دن تھے ۔ اس پہاڑ سر صرف بیس روز پہلے  آرمی میڈیکل بورڈ نے میرے کندھوں کے پپس اتار لئے ۔ اس پاداش میں کہ میں نے ملک کیلئے لڑتے ٹانگ زخمی کروا لی ۔ ایماندار افسر کا خاموش جسم ، چارپائی پہ پڑا تھا ۔ میں اور میری عظیم ماں ( اللہ غریق رحمت کرے ) رو بھی نہیں سکے ۔ ایمانداری کا امتحان ہمارے سامنے تھا ۔ گھر میں کچھ نہیں تھا ۔ دو کمروں کا نامکمل گھر ، جس کا باورچی خانہ چھت کے بغیر تھا ۔ محکمہ ٹیلیفون کا اعلی افسر اور یہ سارا اثاثہ دفتر سے آئے ماتحت عملے کیلئے بھی حیران کن تھا ۔ میں گبھرایا ہوا ضرور تھا مگر شرمندہ نہیں تھا ۔ میرے لئے گردن اونچی کرنے کا سبب موجود تھا کہ میں ایماندار باپ کی اولاد ہوں ۔ مجھے یقین تھا کہ یہ عظیم باپ اللہ کے ہاں سرخرو ہے ۔ شاید یہ وہ ساری تسلیاں اور مجبوریاں تھیں ، جن کیوجہ سے آنسو خشک تھے ۔ شاید یہ بھی سبب تھا کہ میری پشت پہ ایک بہادر ماں ابھی موجود تھی ۔ مگر اب جب دونوں نہیں تو پوری زندگی کے آنسو جب بہنے لگتے ہیں تو روکنے کے باوجود روک نہیں پاتا ۔  دعا کرتا ہوں میرے اس عظیم باپ کو اللہ اپنی رحمت کی ٹھنڈی چھاوں نصیب کرے (آمین )
آج کے دن ، کسی خوشی کے دن سے کبھی بھی  محظوظ نہیں ہو سکا ۔ پچھلے چھیالیس سال یہی ہوتا رہا ، آج یہ شدت کچھ زیادہ ہے کہ آج وہ ماں بھی نہیں جو ماں بھی تھی اور باپ بھی ۔ جو میرے چہرے کی مسکراہٹ  کے پیچھے چھپا کرب بھی پڑھ لیتی تھی ۔ میں ہمیشہ اپنے باپ کی دیانت داری پر نازاں رہا ۔ علم کے میدان میں شاید کوئی ایسا شخص ہو گا جو اسوقت انکے ہم پلہ تھا ۔ سادگی اور انکساری کا شاندار امتزاج انکے وجود کا حصہ تھا ۔ اکثر بچے باپ سے ڈر محسوس کرتے ہیں مگر میرے والد بالکل مختلف تھے ۔ ڈانٹ ڈپٹ انکی لغت ہی میں نہیں تھی ۔ ہماری غلطیوں کی سرزنش مذاق میں کر دینا معمول تھا ۔
آزاد ھاشمی

قرارداد پاکستان اور ہم

" قرار داد پاکستان اور ہم "
اگر ہمیں یہ معلوم ہو جاتا کہ پاکستان کا وجود کیوں ضروری تھا ، ہمارے اکابرین کیا دیکھ رہے تھے کہ پاکستان کے وجود کیلئے ہر قربانی پر تیار تھے ۔ تو شاید جس بے خبری میں ہم پڑے ہوئے ہیں ، اس میں نہ پڑے ہوتے ۔ ہم نے اسے تاریخی واقعہ سے زیادہ اہمیت ہی نہیں دی ۔ بچوں کی تربیت میں اس عزم کو " قرار داد پاکستان " تک محدود کر دیا ۔ یہ بتا دیا کہ تئیس مارچ انیس سو چالیس کو لاہور میں مولوی فضل الحق نے یہ قرار داد پیش کی تھی کہ ہمیں الگ خطہ چاہئیے ۔ جس میں ہم اسلام کے مطابق زندگی گذار سکیں ۔ یہ بتا کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اپنا قومی فرض پورا کر دیا ۔ یہ تاریخ کا مختصر سا خاکہ ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔ ہر سال اپنی اپنی سطح پر پروگرام ترتیب دئیے جاتے ہیں ۔ تقاریر ہوتی ہیں ، اسکے بعد خورد نوش کی محفلیں سجتی ہیں اور " قرارداد " کے اصل مقصد پر اگلے سال تک چادر ڈال دی جاتی ہے ۔ یہ خصوصی اہتمام بیرون ملک شہری بھی کرتے ہیں اور ہمارے سفارتکار بھی ۔ اصل ضرورت کیا ہے ، نہ کوئی سوچتا ہے اور نہ کوئی بتاتا ہے ۔ ہم اسقدر غیر ذمہ دار قوم ہیں کہ ملک کے وقار کو ہر سطح پر پستی کیطرف آتے دیکھ رہے ہیں ۔ اس قرار داد پر ملک حاصل ہوا ، اور اس ملک کے حصول پر لاکھوں لوگوں کو سینوں میں برچھیاں کھانا پڑیں ۔ ان میں اکثریت ان پڑھ لوگ تھے ، جنہیں صرف یہ خوشی تھی کہ وہ وطن ملے گا ، جہاں انکو ہر آزادی ہو گی ۔ جہاں انکی نسلیں بھی اعلی مقام تک جا سکیں گے ، جہاں کوئی جبر اور زیادتی نہیں ہو گی ۔ جہاں سے دنیا بھر میں ہمیں ایک نام ملے گا ، ایک پہچان ملے گی ۔ مگر کیا ہوا ۔
جس روز ہمیں یہ وطن ملا ، اس سے ایک روز بعد ہمارے ساتھ دوسری قوم " ہندو " کو بھی ایک وطن ملا ۔ جو وطن ہمیں ملا اسکا دنیا میں کیا مقام ہے اور جو وطن " ہندو " کو ملا اسکا مقام کیا سے کیا ہو گیا ۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے آپ کو ایک ذمہ دار قوم کے سانچے میں ڈھالیں ۔ مگر ہم ایسا نہ سوچتے ہیں اور نہ کرتے ہیں ۔ ایک قرارداد آج بھی پیش ہو سکتی ہے ، اس پر اپنے اکابرین کا جذبہ بھی استوار ہو سکتا یے ۔ کہ ہم خود تسلیم کروائیں گے کہ ہم بھی زندہ قوم ہیں ۔ ہم بھی اپنے وطن کی ، اپنے جھنڈے کی شناخت کروا کر رہیں گے ۔ ہم اپنی حریت کو مرنے نہیں دیں گے ۔ یہ ہے وہ جذبی جس کی وطن کو ضرورت ہے ، قوم کو ضرورت ہے ۔ہم نے اختلافات کی خلیج کو اخوت سے ختم کرنا ہے ۔ یہ ہے تعلیم اور پیغام جو ہمیں اپنی نسلوں کو دینا ہے ۔
اے کاش ! ایسا ہو جائے۔
آزاد ھاشمی

اللہ کے فیصلے

" اللہ کے فیصلے "
اللہ سبحانہ تعالی ، جب کسی انسان پر آزمائش کا بوجھ ڈالتا ہے ، تو انسان کو بتدریج پرکھتا ہے اور اس بوجھ کو اس حد تک بڑھاتا ہے ، جس تک کسی سے کام لینے کا ارادہ فرما لیتا ہے ۔ ان آزمائش کے لمحوں میں اگر اللہ کی محبت بڑھتی رہے تو سمجھ لیں ، کہ امتحان کامیابی سے ادا ہو رہا ہے ۔ جسے چھوٹ دیتا ہے ، تو یہ کوئی عنایت نہیں ، پکڑ کی تیاری ہو رہی ہوتی ہے ۔ انسان کو پورا اختیار مل جاتا ہے کہ وہ اپنی منزل کا تعین از خود کر لے ۔ نمرود کو چھوٹ دی کہ اللہ کے خلیل ؑ کو آگ میں ڈال دے ۔ فرعون کو ڈھیل دی کہ خدا بن بیٹھا ، یزید کے ہاتھ کھولے کہ آل رسولؐ کو صفحہ ہستی سے مٹانے پہ تل گیا ۔ ایسے بیشمار واقعات تاریخ کے صفحات پہ محفوظ ہیں ۔ پھر اللہ نے ان تمام سرکشوں کی قسمت میں وہ رسوائی لکھ ڈالی ، کہ ایک ایک رسوائی مثال ہے ۔
آج ہم اگر کھلی آنکھ سے دیکھیں تو کتنے ہیں ، جو دوسروں کی عزت تار تار کرنے میں قادر تھے ، پھر در در پر دھتکارے گئے ۔
لوگ پریشان ہیں کہ مجرم چھوٹ جاتے ہیں ۔ کیونکہ انسانوں کی عدالت میں وہ طاقت رکھتے ہیں ، وسائل رکھتے ہیں ،  تعلقات رکھتے ہیں  اور انکے پیچھے طاقتور ہاتھ انہیں بچا لیتے ہیں ۔ یہ سب ایک مدت تک ہوتا ہے ، مگر اللہ ہر سرکش کو ، حقوق العباد کے قاتل کو اور تکبر میں اکڑے ہر فرعون کو اسی جہان میں رسوا کرتا ہے ، اسی دنیا میں عبرت کا نشان بناتا ہے ۔
ایمان لازم ہے کہ اللہ اپنا فیصلہ جلد یا بدیر ضرور سناتا ہے ۔ اگر ہم اپنے فیصلے اللہ سبحانہ تعالی کی عدالت میں لے جائیں ۔ تو عدل ضرور ملتا ہے ۔ یہ ہی مکافات عمل ہے ۔ یہی اللہ کے فیصلے ہیں ۔
آزاد ھاشمی

تماشے اور تماش بین

" تماشے اور تماش بین "
معلوم نہیں کہ ہم شعور کی کس پستی میں چلے گئے ہیں ۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ حقیقت کیا ہے اور تماشا کیا ۔ کبھی دہشت گردوں کی کمر توڑی جاتی ہے ، اور ہمیں واقعی طور ٹوٹنے کی کڑکڑاہٹ سنائی دیتی ہے ۔ ہم تالیاں بھی بجاتے ہیں اور جی بھر کے داد بھی دیتے ہیں ۔ پھر ہلکا سا وقفہ ہوتا ہے اور ٹوٹی کمر والے صحیح سلامت دکھائی دیتے ہیں ۔
ترقی کا تماشا بھی دیکھا ، ترقی نظر بھی آتی ہے کہ ہر طرف جدت کے نشانات ابھر آئے ہیں ۔ ترقی کی رونق دکھانے والوں پر واری واری بھی جاتے ہیں ، پھر پتہ چلتا ہے کہ اس ترقی کے نام پر تو ہماری نسلیں بیچ ڈالی ہیں ۔
ایک تماشا تو ہمارے ایمان اور دین سے بھی ہورہا ہے کہ کچھ لوگ مذہب کی عبا پہنے اعلان کرتے ہیں کہ ہم تمہارے لئے فلاح کا نظام لانے کی کوشش میں ہیں ، ہمارا ساتھ دو ۔ ہماری گردنیں عقیدت سے جھک جاتی ہیں ، پتہ چلتا ہے کہ یہ تو یہودی کے نظام کی آبیاری کرنے والے خاص کارکن ہیں ۔
عدل کی کرسی سے گٹر ، سبزی منڈیاں ، صاف پانی اور کرپشن کے خلاف جہاد کھڑا ہو گیا ۔ ہم خوش ہیں کہ قاضی جاگ اٹھا ۔ اب جرم کی جڑیں کٹ جائیں گی ۔ مگر سالہا سال سے بےقصور قیدی ابھی تک اسی حال میں ہیں ۔ عدالتوں میں آج بھی ویسے ہی عدل برائے فروخت ہے ۔ قاتل کو آج بھی پروٹوکول ہے اور مقتول آج بھی کیڑا مکوڑا ہے ۔ عدل کی کرسی کے نیچے دیکھا ہی نہیں جا رہا ۔
ایسے کتنے تماشے ہیں جو ہم دیکھتے رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں ۔ تماش بین ہوں تو تماشے لگتے ہیں ۔ ناچنے والے ہوں تو ڈگڈگی بجتی رہتی ہے ۔ تماشہ ہمیشہ تماش بین کا مرہون منت ہوتا ہے ۔ وطن انکے ہاتھ میں دے رکھا ہے جن کے کاروبار ، اثاثے وطن سے باہر ہیں ۔ تعلیم انکا حق جن کی جیب بھاری ، غریب کا بچہ وہی ٹاٹ ، وہی معیار کہ بہت لائق ہوا تو کلرک ، فوجی یا پولیس کا سپاہی ۔ خائن کو خزانوں پہ بٹھانے کا وہی تماشا ۔ یہ سب تماش بین کی مستقل پسند کے باعث ہے  ۔ جب تک تماش بین کی سوچ تبدیل نہ ہوئی ، تماشے ہوتے رہیں گے اور میڈیا کے میراثی  ، تماشوں کا ساز بجا بجا کر ہمیں راغب کرتے رہیں گے ۔
آزاد ھاشمی

دیکھو ! اللہ کیا کرتا ہے

" دیکھو ! اللہ کیا کرتا ہے "
سوشل میڈیا اور حقائق تو یہی بتاتے ہیں کہ راو انوار نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں ۔ کئی جانوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا ہے ۔ اس ساری خونریزی میں وہ اکیلا نہیں تھا ۔ اور نہ بھتہ گیری واحد وجہ تھی ۔ بہت سارے عوامل تھے جو اسے فرعونیت پر اکساتے رہے ۔ اسکے تعلقات کا چرچا اور اسے بہادر پولیس افسر کہنے والے اگاہ ہونگے کہ ظلم کی رات ایک روز ختم ہو کر رہتی ہے ۔
وہ بہادر افسر ہونے کو تو ثابت نہیں کر سکا ۔ یہ بزدلی تھی کہ چھپا رہا ۔ حکومت یا عدالت کا خوف نہیں جس نے اسے روپوش ہونے پر مجبور کیا ۔ یہ آخری مقتول کے ورثاء کا خوف تھا ، جس نے شیر کو بلی بنا دیا ۔
پوری قوم اس تذبذب میں ہے کہ اسے مضبوط ہاتھ بچا لیں گے ۔ اس کی تفتیش ویسے نہیں ہوگی ، جیسے ایک مجرم کی ہوتی ہے ۔ اسکے قبیلے کے سارے افسر یعنی پولیس والے اسے مہمان کیطرح رکھیں گے ۔  سب خدشات درست ۔ ایسا ہی ہوگا جیسے لوگ سوچتے ہیں ۔ مگر یاد رہے جب اللہ کی پکڑ آ جاتی ہے تو ساری دنیا بے بس ہو جاتی ہے ۔ ایمان رکھیں کہ اگر وہ سب سچ ہے جو ہر زبان سے بولا جا رہا ہے تو اللہ کی مقرر کی ہوئی سزا عدالتوں کی سزا سے کہیں زیادہ بھیانک ہو گی ۔ اسکی ساری عزت اور توقیر اسکے گلے کا طوق بن جائیگی ۔  یہاں کا حساب یہاں ہی چکایا جائے گا ۔ بس اللہ کے فیصلے کا انتظار کریں ۔ عدالتوں کے فیصلے مت دیکھیں ۔
آزاد ھاشمی

سیاست یا ذاتیات

" سیاست یا ذاتیات "
کوئی ایک صاحب علم و فراست ، وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان میں مروج موجودہ دھما چوکڑی  میں  شرافت کا کوئی پہلو موجود ہے ۔ کوئی با عزت شخص اس غلاظت کو اپنے ماتھے پر تھوپنے کو تیار نہیں ملے گا ۔ یہی حقیقت ہے کہ چھیاسٹھ فیصد لوگ انتخابی جھنجھٹ سے دور رہتے ہیں ۔ بقایا چونتیس فیصد لوگوں میں بھی دس سے پندرہ فیصد ووٹ جعلی ہوتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ بیس پچیس فیصد لوگ جو جمہوریت کو ایمان بنا بیٹھے ہیں ، اس گندے کھیل کا حصہ ہیں ۔ ان میں یا تو وہ لوگ شامل ہیں جن کو مفادات حاصل کرنا ہیں ۔ یا وہ لوگ جو قبائلی ، خاندانی اور برادری ازم میں بندھے ہیں ، اس ساری معرکہ آرائی کا حصہ ہیں ۔ سیاست کے میدان میں اسوقت کوئی ایک لیڈر ایسا نہیں ، جو صاحب کردار ہو ۔ کوئی ایک ایسا نہیں جو نظریات کی بنیاد پر متحرک ہو ، کوئی ایک ایسا نہیں جو وطن کی خدمت کے نظرئیے کے ساتھ مخلص ہو ۔ سب کے سامنے ایک ہی نظریہ ہے کہ اقتدار کی کرسی تک کیسے پہنچا جائے ۔ سب سے زیادہ گھناونا کردار ان لوگوں کاہے ، جو مذہب کو بنیاد بنا کر سیاست کی اس دلدل میں اترے ہوئے ہیں ۔ اب اگر سیاسی کارکنوں کا حال دیکھیں تو گھن آتی ہے جو اخلاقیات کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ ایک دوسرے کے قائدین کی کردار کشی سے آگے بڑھ کر انکی بہو بیٹیوں تک رقیق حملے کئے جاتے ہیں ۔ ہر کوئی اپنے اپنے لیڈر کی پرستش میں مگن ہے ۔ ذاتیات پر زور ہے نظریات کا نہ کسی کو علم ہے اور نہ کسی کو دلچسپی ۔
اکثر ایسے جملے سننے میں آتے ہیں ، جو گلی ، محلے کے اوباش بھی استعمال نہیں کرتے ۔ سیاسی کارکن بے خوف سوشل میڈیا پہ لکھ رہے ہوتے ہیں ۔ ان قائدین کی عقل اور غیرت پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے جو اپنے جلو میں خواتین کو لیکر چلتے ہیں ۔ ان شریف زادیوں پر بھی تف ہے ، جو سیاست کے اس گندے ماحول میں گھروں  سے نکل کر ایسی ایسی شرمناک آوازیں سنتی ہیں اور پھر بھی اس ماحول سے باہر نہیں نکلتیں ۔ ذاتیات کا یہ ماحول نہ تو سیاست ہے اور نہ ہی قوم کی خدمت ۔
آزاد ھاشمی

طاہر القادری کے نام

" طاہر القادری کے نام "
محترم قادری صاحب ! آپ کی ایک وضاحت جمہوریت کے حق میں سننے کا اتفاق ہوا ۔ مجھے آپ کی ذات سے نہ کوئی عناد ہے اور نہ آپکی علمیت کو چیلینج کر سکتا ہوں ۔ مذکورہ بحث میں آپ سے سوال کیا گیا کہ اسلام میں جمہوریت کا کیا مقام ہے ۔ تو آپ نے فرمایا کہ جمہوریت کی اصل بنیاد اسلام میں اللہ کے پیارے حبیب ؐ نے رکھی ۔ اسکی دلیل کے طور پر آپ نے میثاق مدینہ کو بنیاد بنایا ۔ اسکے بعد نہایت بے سروپا کے دلائل دے کر اسے سچ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ مجھے یوں لگا کہ یا تو کتابوں کے بوجھ نے آپ کی سدھ بدھ کو بہت متاثر کیا ہے ۔ یا پھر آپ حق نمک ادا کر رہے تھے ۔ کوئی دلیل میں وزن نہیں تھا ، میثاق مدینہ کو جمہوریت بنانے کی ساری دلیل نہایت بھونڈی کوشش تھی ۔ میثاق مدینہ پر آپ نے اپنی لکھی کتاب کے حوالے بھی دئیے ۔ مجھے یوں لگا کہ آپ نہ تو عالم ہیں اور نہ شیخ الاسلام ۔ میثاق مدینہ میں ایک بھی شق ایسی نہیں ، جسے کسی بھی طور جمہوریت سے جوڑا جا سکے ۔ قوم کو بہکانے کے بہت سے راستے ہیں ، آپ وہ اختیار کریں ۔ کم از کم اسلام کی ترویجات کو تبدیل مت کریں ۔ لوگ آپ کی علمیت کے قائل ہیں ۔ اس علمیت سے بہکاوے کی راہ مت کھولیں ۔ جمہوریت کا آقا دو جہاں کی ذات سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ۔ یہ یہود کی کوشش ہے اور صرف اسلامی نظام کی راہ روکنے کی جدوجہد ہے ۔
مودب طریقے سے اتنا کہنا چاہوں گا ۔ کہ بہت سارے دوسرے معاملات ہیں جن پر آپ منہ سے جھاگ اگل سکتے ہیں ۔ اسلام کے تصور پر اپنی رائے ٹھونسنے کی کوشش مت کریں ۔ احسان ہو گا ۔
والسلام
آزاد ھاشمی

بیچارہ کیپٹن صفدر

" بیچارہ کیپٹن صفدر "
معلوم نہیں کیوں ، میں جب بھی کیپٹن صفدر کی تصویر دیکھتا ہوں ۔ وہ پریڈ یاد آ جاتی ہے ، جو ہمارا ایک انسٹرکٹر کرواتے ہوئے ، کہا کرتا تھا۔
" اتنے زور سے پاوں کی ایڑھی مارو کہ مٹی پیچھے والے کے منہ پہ پڑے ۔ دیکھنے والے سمجھیں کہ یہاں سے انسان نہیں گھوڑے گزرے ہیں "
ظاہر ہے اتنے زور زور سے پاوں مارنے پڑیں اور سر پر ہیلمٹ بھی ہو تو " بیچارہ دماغ " آگے پیچھے بھی ہو سکتا ہے ۔ مجھے کیپٹن صاحب پر بہت ترس آتا ہے ۔ ایک عشق نے کیا مٹی خراب کردی  اسکی ۔ فوج کی نوکری جاری رہتی تو شان و شوکت برقرار رہتی ۔ اسوقت کندھوں پر کتنے ہی اعزاز چمک رہے ہوتے ۔ سینے پر بھی تمغے سجے ہوتے ۔ صحت بھی قابل رشک ہوتی ۔ اب غور سے دیکھیں تو ترس آتا ہے ۔ منہ سے بے اختیار نکل پڑتا ۔
" اللہ اسکی خطائیں معاف کردے ۔ اتنا رسوا نہ کر "
بیچارہ گھر میں جس حال میں ہو گا ، وہ بھی چہرے پر مظلومیت کی شکل میں ٹپک رہا ہوتا ہے ۔ لوگوں نے بھی اس پر تضحیک کے نشتر آزمانا شروع کر رکھے ہیں ۔ کتنا خوبصورت جوان ہو گا کہ وزیراعظم کا اے ڈی سی بنا دیا گیا ۔ اور اس پر امیر زادی نے دل وار دیا ۔ اب ایسے لگتا ہے کہ  جیسے تازہ تازہ چرس پینا شروع کردی ہو ۔  عجیب عجیب باتیں اسکی شخصیت کے کرب کی کھلی عکاسی کر رہی ہے ۔ اب ستم بالائے ستم ، حکومتی اداروں نے بیچارے کو کرپٹ ثابت کرنے کیلئے ڈنڈا اٹھا لیا  ہے ۔ کیا ہوا ، وہ تو بہتی گنگا کے کنارے بیٹھا تھا ، تھوڑے بہت ہاتھ دھو لئے ہونگے ۔ اتنی جرات تو کوئی بھی کر گذرے گا ۔ فوجی بھائی ہے ، اسکے کورس میٹ میں سے کوئی تو اسکی مدد کو پہنچے ۔ کوئی تو مسکراہٹ اسکے چہرے پہ آ جائے ۔
قوم اسکی حالت پر کچھ تو رحم کرے ۔
آزاد ھاشمی

محمود خان اچکزئی کے نام

" محمود خاں اچکزئی کے نام
"
محترم اچکزئی صاحب ! آپ کا فلسفہ ایمانی سوچ کے متضاد ہے ۔ آپ نے بیان کیا ہے کہ
‏“عوام کی طاقت کے بغیر پیغمبر بھی آگے نہیں بڑھ سکتا”
معلوم ہوتا ہے کہ سیاست کے زعم میں آپ نے خود کو فلاسفر سمجھ لیا ہے ۔ جبکہ یہ بیان اس بات کی غماضی ہے کہ آپ دین کے معاملے میں جہالت کا ثبوت دے رہے ہیں  ،  آپ کو پتہ ہی نہیں کی پیغمبر کے طاقت تائید خداوندی ہوتی ہے ۔  اگر آپ کو تاریخ کا علم ہوتا ، تو آپ یقینی طور پر جانتے کہ ہر پیغمبر کے خلاف اکثریت ہوا کرتی ہے ۔ کسی ایک پیغمبر کے ساتھ عوام کی طاقت نہیں تھی ۔ عوام کی طاقت سے فرعون نہیں بچ پایا ، نمرود ایک طویل عرصے تک دماغ میں گھسے مچھر کیلئے عوام سے جوتے کھاتا رہا ۔ ایسے لگتا ہے کہ آپ نے سکول میں بھی سیاست ہی پڑھی یا شاید سکول جانے کی زحمت نہیں کی ۔ آپ گمراہوں کے ایک مخصوص ٹولے کے ہمراہی ہیں ۔ آپ کو مبارک ہو ۔ کچھ سال بعد ، قبر کا بلاوا آ جائے گا ، تو یہی عوام کندھوں پر ڈال کر منوں مٹی تلے دبا آئیں گے ۔ اپنی عاقبت کو یاد کر لیا کرو ۔ خود ہی عقل آ جائے گی کہ کیا کہنا ہے اور کیا نہیں ۔
کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ نے عوام کیلئے کیا کیا ؟ وطن کیلئے کیا کیا؟ انسانیت کی کیا خدمت کی ؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ اپنے علاقے میں کتنے ووٹ لیتے ہیں ؟ یہی دس پندرہ فیصد ۔ کبھی بولتے ہوئے سوچا بھی کریں کہ آپ کے کردار کا کوئی مثبت پہلو بھی ہے یا تخریب ہی تخریب ہے ۔ یہ کردار تو ایک میراثی کا ہے کہ چوہدری کی چمچہ گیری کرکے اپنے مفادات حاصل کئے جائیں ۔ کیا آپ کا کردار بھی ایسا ہی نہیں ؟  اگر آپ نے اپنا جائزہ لے لیا تو شاید پھر کبھی ایسے احمقانہ بیانات نہیں دیں گے ۔ امید ہے آپ ضرور غور فرمائیں گے ۔
آزاد ھاشمی

سیاست کے میراثی

" سیاست کے میراثی "
میراثی ایک کردار کی بات کر رہا ہوں ،  بظاہر ایک مخصوص طبقے کو میراثی کہا جاتا ہے ۔ دیہاتوں میں ناچنے گانے ،بیاہ شادیوں پہ طنز و مزاح کرنے والوں اور خوشامدی طبیعت کے لوگوں کیلئے یہ لفظ عام فہم ہے ۔
اس مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے ، یہ تمام افعال و اطوار سیاست میں عام ہو گئے ہیں ۔ بڑے بڑے قد کاٹھ کے خاندانی روایات والے بھی ، میراثی نظر آنے لگتے ہیں ۔ کسی بھی چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے لوگوں کا ایک جم غفیر ، سیاسی قائدین کے گرد طواف کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اپنے آقا کو خوش کرنے کیلئے کوئی بھی لطیفہ چھوڑ دیتے ہیں ، کوئی بھی قلابازی لگا دیتے ہیں ، کوئی بھی یاوہ گوئی کر دیتے ہیں ۔ مجال ہے کہ اپنے مفادات کے مرکز کی کسی بھی نازیبا حرکت پر چوں بھی کریں ۔ بلکہ غیر اخلاقی حرکات پر بھی واہ واہ کرتے نظر آئیں گے ۔ اگر ہم سیاست کے ان تمام کھلاڑیوں کا جائزہ لیں ، تو جو آج چودہراہٹ کی کرسی پہ بیٹھے ہیں ، وہ سب ماضی میں کسی نہ کسی کے میراثی تھے ۔ آج کے سیاسی میراثیوں میں بڑے بڑے جاگیر دار ، گدی نشین ، خانان ، روساء اور دانشور نظر آئیں گے ۔ دیانتداری سے تجزیہ کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ آج کے بیشتر سیاسی قائدین ،  ماضی میں کسی نہ کسی کرسی پر بیٹھے چوہدری کے میراثی ہی تھے ۔
جس قوم کی سیاسی قیادت کا یہ حال ہو گا ، وہاں کا سیاسی کارکن بھی تو اسی نقش قدم پہ چلے گا ۔ گویا سیاست میں شامل ہونے کیلئے میراثی ہونا پڑتا ہے ۔
آزاد ھاشمی

ووٹ اور خیانت

" ووٹ اور خیانت  "
ووٹ کو عام فہم لفظوں میں " رائے " کہا جا سکتا ہے ۔ جو کوئی شخص دوسرے شخص کے حق میں استعمال کرتا ہے ۔ اس رائے کو قومی امانت بھی کہا جاتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہر شخص کو اپنی رائے استعمال کرنا لازم ہے کہ ملکی مفاد میں کون شخص ہے ۔ رائے استعمال کرنے والے کا صاحب الرائے ہونا لازم ہے ۔ یعنی اس میں یہ شعور ہونا چاہئیے کہ وہ جس کے حق میں اپنی رائے استعمال کر رہا ہے ۔ وہ عملی طور پر مسلمان ہے ۔ کسی بھی حکم ربی سے سرکشی تو نہیں کرتا ۔ اس پیمانے پر پورا اترتا ہے ، جو دین نے اور قانون و  دستور نے قائم کر رکھے ہیں ۔ کردار کے اعتبار اس قابل ہے کہ جو امانت اسے دی جائے گی ، قوم کو جاتے وقت اسی طرح واپس کرے گا ۔ عادی مجرم تو نہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ہر وہ شخص جو ان باتوں سے بخوبی اگاہ ہے ، اسی کو صاحب الرائے کہا جا سکتا ہے ۔ دوسرا کوئی بھی شخص اس قابل نہیں کہ وہ رائے دے ۔ کیا ہماری مروجہ جمہوریت میں یہ معیار قائم ہے ؟ اگر نہیں تو ہمارا ووٹ قوم کی امانت نہیں ، قوم سے خیانت کے زمرے میں آئے گا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار کتنے لوگ خیانت کرتے ہیں اور کتنے اسے امانت ثابت کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی