" سیاست یا ذاتیات "
کوئی ایک صاحب علم و فراست ، وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان میں مروج موجودہ دھما چوکڑی میں شرافت کا کوئی پہلو موجود ہے ۔ کوئی با عزت شخص اس غلاظت کو اپنے ماتھے پر تھوپنے کو تیار نہیں ملے گا ۔ یہی حقیقت ہے کہ چھیاسٹھ فیصد لوگ انتخابی جھنجھٹ سے دور رہتے ہیں ۔ بقایا چونتیس فیصد لوگوں میں بھی دس سے پندرہ فیصد ووٹ جعلی ہوتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ بیس پچیس فیصد لوگ جو جمہوریت کو ایمان بنا بیٹھے ہیں ، اس گندے کھیل کا حصہ ہیں ۔ ان میں یا تو وہ لوگ شامل ہیں جن کو مفادات حاصل کرنا ہیں ۔ یا وہ لوگ جو قبائلی ، خاندانی اور برادری ازم میں بندھے ہیں ، اس ساری معرکہ آرائی کا حصہ ہیں ۔ سیاست کے میدان میں اسوقت کوئی ایک لیڈر ایسا نہیں ، جو صاحب کردار ہو ۔ کوئی ایک ایسا نہیں جو نظریات کی بنیاد پر متحرک ہو ، کوئی ایک ایسا نہیں جو وطن کی خدمت کے نظرئیے کے ساتھ مخلص ہو ۔ سب کے سامنے ایک ہی نظریہ ہے کہ اقتدار کی کرسی تک کیسے پہنچا جائے ۔ سب سے زیادہ گھناونا کردار ان لوگوں کاہے ، جو مذہب کو بنیاد بنا کر سیاست کی اس دلدل میں اترے ہوئے ہیں ۔ اب اگر سیاسی کارکنوں کا حال دیکھیں تو گھن آتی ہے جو اخلاقیات کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔ ایک دوسرے کے قائدین کی کردار کشی سے آگے بڑھ کر انکی بہو بیٹیوں تک رقیق حملے کئے جاتے ہیں ۔ ہر کوئی اپنے اپنے لیڈر کی پرستش میں مگن ہے ۔ ذاتیات پر زور ہے نظریات کا نہ کسی کو علم ہے اور نہ کسی کو دلچسپی ۔
اکثر ایسے جملے سننے میں آتے ہیں ، جو گلی ، محلے کے اوباش بھی استعمال نہیں کرتے ۔ سیاسی کارکن بے خوف سوشل میڈیا پہ لکھ رہے ہوتے ہیں ۔ ان قائدین کی عقل اور غیرت پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے جو اپنے جلو میں خواتین کو لیکر چلتے ہیں ۔ ان شریف زادیوں پر بھی تف ہے ، جو سیاست کے اس گندے ماحول میں گھروں سے نکل کر ایسی ایسی شرمناک آوازیں سنتی ہیں اور پھر بھی اس ماحول سے باہر نہیں نکلتیں ۔ ذاتیات کا یہ ماحول نہ تو سیاست ہے اور نہ ہی قوم کی خدمت ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 28 March 2018
سیاست یا ذاتیات
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment