Wednesday, 28 March 2018

تماشے اور تماش بین

" تماشے اور تماش بین "
معلوم نہیں کہ ہم شعور کی کس پستی میں چلے گئے ہیں ۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ حقیقت کیا ہے اور تماشا کیا ۔ کبھی دہشت گردوں کی کمر توڑی جاتی ہے ، اور ہمیں واقعی طور ٹوٹنے کی کڑکڑاہٹ سنائی دیتی ہے ۔ ہم تالیاں بھی بجاتے ہیں اور جی بھر کے داد بھی دیتے ہیں ۔ پھر ہلکا سا وقفہ ہوتا ہے اور ٹوٹی کمر والے صحیح سلامت دکھائی دیتے ہیں ۔
ترقی کا تماشا بھی دیکھا ، ترقی نظر بھی آتی ہے کہ ہر طرف جدت کے نشانات ابھر آئے ہیں ۔ ترقی کی رونق دکھانے والوں پر واری واری بھی جاتے ہیں ، پھر پتہ چلتا ہے کہ اس ترقی کے نام پر تو ہماری نسلیں بیچ ڈالی ہیں ۔
ایک تماشا تو ہمارے ایمان اور دین سے بھی ہورہا ہے کہ کچھ لوگ مذہب کی عبا پہنے اعلان کرتے ہیں کہ ہم تمہارے لئے فلاح کا نظام لانے کی کوشش میں ہیں ، ہمارا ساتھ دو ۔ ہماری گردنیں عقیدت سے جھک جاتی ہیں ، پتہ چلتا ہے کہ یہ تو یہودی کے نظام کی آبیاری کرنے والے خاص کارکن ہیں ۔
عدل کی کرسی سے گٹر ، سبزی منڈیاں ، صاف پانی اور کرپشن کے خلاف جہاد کھڑا ہو گیا ۔ ہم خوش ہیں کہ قاضی جاگ اٹھا ۔ اب جرم کی جڑیں کٹ جائیں گی ۔ مگر سالہا سال سے بےقصور قیدی ابھی تک اسی حال میں ہیں ۔ عدالتوں میں آج بھی ویسے ہی عدل برائے فروخت ہے ۔ قاتل کو آج بھی پروٹوکول ہے اور مقتول آج بھی کیڑا مکوڑا ہے ۔ عدل کی کرسی کے نیچے دیکھا ہی نہیں جا رہا ۔
ایسے کتنے تماشے ہیں جو ہم دیکھتے رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں ۔ تماش بین ہوں تو تماشے لگتے ہیں ۔ ناچنے والے ہوں تو ڈگڈگی بجتی رہتی ہے ۔ تماشہ ہمیشہ تماش بین کا مرہون منت ہوتا ہے ۔ وطن انکے ہاتھ میں دے رکھا ہے جن کے کاروبار ، اثاثے وطن سے باہر ہیں ۔ تعلیم انکا حق جن کی جیب بھاری ، غریب کا بچہ وہی ٹاٹ ، وہی معیار کہ بہت لائق ہوا تو کلرک ، فوجی یا پولیس کا سپاہی ۔ خائن کو خزانوں پہ بٹھانے کا وہی تماشا ۔ یہ سب تماش بین کی مستقل پسند کے باعث ہے  ۔ جب تک تماش بین کی سوچ تبدیل نہ ہوئی ، تماشے ہوتے رہیں گے اور میڈیا کے میراثی  ، تماشوں کا ساز بجا بجا کر ہمیں راغب کرتے رہیں گے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment