" طاہر القادری کے نام "
محترم قادری صاحب ! آپ کی ایک وضاحت جمہوریت کے حق میں سننے کا اتفاق ہوا ۔ مجھے آپ کی ذات سے نہ کوئی عناد ہے اور نہ آپکی علمیت کو چیلینج کر سکتا ہوں ۔ مذکورہ بحث میں آپ سے سوال کیا گیا کہ اسلام میں جمہوریت کا کیا مقام ہے ۔ تو آپ نے فرمایا کہ جمہوریت کی اصل بنیاد اسلام میں اللہ کے پیارے حبیب ؐ نے رکھی ۔ اسکی دلیل کے طور پر آپ نے میثاق مدینہ کو بنیاد بنایا ۔ اسکے بعد نہایت بے سروپا کے دلائل دے کر اسے سچ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ مجھے یوں لگا کہ یا تو کتابوں کے بوجھ نے آپ کی سدھ بدھ کو بہت متاثر کیا ہے ۔ یا پھر آپ حق نمک ادا کر رہے تھے ۔ کوئی دلیل میں وزن نہیں تھا ، میثاق مدینہ کو جمہوریت بنانے کی ساری دلیل نہایت بھونڈی کوشش تھی ۔ میثاق مدینہ پر آپ نے اپنی لکھی کتاب کے حوالے بھی دئیے ۔ مجھے یوں لگا کہ آپ نہ تو عالم ہیں اور نہ شیخ الاسلام ۔ میثاق مدینہ میں ایک بھی شق ایسی نہیں ، جسے کسی بھی طور جمہوریت سے جوڑا جا سکے ۔ قوم کو بہکانے کے بہت سے راستے ہیں ، آپ وہ اختیار کریں ۔ کم از کم اسلام کی ترویجات کو تبدیل مت کریں ۔ لوگ آپ کی علمیت کے قائل ہیں ۔ اس علمیت سے بہکاوے کی راہ مت کھولیں ۔ جمہوریت کا آقا دو جہاں کی ذات سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں ۔ یہ یہود کی کوشش ہے اور صرف اسلامی نظام کی راہ روکنے کی جدوجہد ہے ۔
مودب طریقے سے اتنا کہنا چاہوں گا ۔ کہ بہت سارے دوسرے معاملات ہیں جن پر آپ منہ سے جھاگ اگل سکتے ہیں ۔ اسلام کے تصور پر اپنی رائے ٹھونسنے کی کوشش مت کریں ۔ احسان ہو گا ۔
والسلام
آزاد ھاشمی
Wednesday, 28 March 2018
طاہر القادری کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment