" قرار داد پاکستان اور ہم "
اگر ہمیں یہ معلوم ہو جاتا کہ پاکستان کا وجود کیوں ضروری تھا ، ہمارے اکابرین کیا دیکھ رہے تھے کہ پاکستان کے وجود کیلئے ہر قربانی پر تیار تھے ۔ تو شاید جس بے خبری میں ہم پڑے ہوئے ہیں ، اس میں نہ پڑے ہوتے ۔ ہم نے اسے تاریخی واقعہ سے زیادہ اہمیت ہی نہیں دی ۔ بچوں کی تربیت میں اس عزم کو " قرار داد پاکستان " تک محدود کر دیا ۔ یہ بتا دیا کہ تئیس مارچ انیس سو چالیس کو لاہور میں مولوی فضل الحق نے یہ قرار داد پیش کی تھی کہ ہمیں الگ خطہ چاہئیے ۔ جس میں ہم اسلام کے مطابق زندگی گذار سکیں ۔ یہ بتا کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اپنا قومی فرض پورا کر دیا ۔ یہ تاریخ کا مختصر سا خاکہ ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔ ہر سال اپنی اپنی سطح پر پروگرام ترتیب دئیے جاتے ہیں ۔ تقاریر ہوتی ہیں ، اسکے بعد خورد نوش کی محفلیں سجتی ہیں اور " قرارداد " کے اصل مقصد پر اگلے سال تک چادر ڈال دی جاتی ہے ۔ یہ خصوصی اہتمام بیرون ملک شہری بھی کرتے ہیں اور ہمارے سفارتکار بھی ۔ اصل ضرورت کیا ہے ، نہ کوئی سوچتا ہے اور نہ کوئی بتاتا ہے ۔ ہم اسقدر غیر ذمہ دار قوم ہیں کہ ملک کے وقار کو ہر سطح پر پستی کیطرف آتے دیکھ رہے ہیں ۔ اس قرار داد پر ملک حاصل ہوا ، اور اس ملک کے حصول پر لاکھوں لوگوں کو سینوں میں برچھیاں کھانا پڑیں ۔ ان میں اکثریت ان پڑھ لوگ تھے ، جنہیں صرف یہ خوشی تھی کہ وہ وطن ملے گا ، جہاں انکو ہر آزادی ہو گی ۔ جہاں انکی نسلیں بھی اعلی مقام تک جا سکیں گے ، جہاں کوئی جبر اور زیادتی نہیں ہو گی ۔ جہاں سے دنیا بھر میں ہمیں ایک نام ملے گا ، ایک پہچان ملے گی ۔ مگر کیا ہوا ۔
جس روز ہمیں یہ وطن ملا ، اس سے ایک روز بعد ہمارے ساتھ دوسری قوم " ہندو " کو بھی ایک وطن ملا ۔ جو وطن ہمیں ملا اسکا دنیا میں کیا مقام ہے اور جو وطن " ہندو " کو ملا اسکا مقام کیا سے کیا ہو گیا ۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے آپ کو ایک ذمہ دار قوم کے سانچے میں ڈھالیں ۔ مگر ہم ایسا نہ سوچتے ہیں اور نہ کرتے ہیں ۔ ایک قرارداد آج بھی پیش ہو سکتی ہے ، اس پر اپنے اکابرین کا جذبہ بھی استوار ہو سکتا یے ۔ کہ ہم خود تسلیم کروائیں گے کہ ہم بھی زندہ قوم ہیں ۔ ہم بھی اپنے وطن کی ، اپنے جھنڈے کی شناخت کروا کر رہیں گے ۔ ہم اپنی حریت کو مرنے نہیں دیں گے ۔ یہ ہے وہ جذبی جس کی وطن کو ضرورت ہے ، قوم کو ضرورت ہے ۔ہم نے اختلافات کی خلیج کو اخوت سے ختم کرنا ہے ۔ یہ ہے تعلیم اور پیغام جو ہمیں اپنی نسلوں کو دینا ہے ۔
اے کاش ! ایسا ہو جائے۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 28 March 2018
قرارداد پاکستان اور ہم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment