" سیاست کے میراثی "
میراثی ایک کردار کی بات کر رہا ہوں ، بظاہر ایک مخصوص طبقے کو میراثی کہا جاتا ہے ۔ دیہاتوں میں ناچنے گانے ،بیاہ شادیوں پہ طنز و مزاح کرنے والوں اور خوشامدی طبیعت کے لوگوں کیلئے یہ لفظ عام فہم ہے ۔
اس مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے ، یہ تمام افعال و اطوار سیاست میں عام ہو گئے ہیں ۔ بڑے بڑے قد کاٹھ کے خاندانی روایات والے بھی ، میراثی نظر آنے لگتے ہیں ۔ کسی بھی چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے لوگوں کا ایک جم غفیر ، سیاسی قائدین کے گرد طواف کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اپنے آقا کو خوش کرنے کیلئے کوئی بھی لطیفہ چھوڑ دیتے ہیں ، کوئی بھی قلابازی لگا دیتے ہیں ، کوئی بھی یاوہ گوئی کر دیتے ہیں ۔ مجال ہے کہ اپنے مفادات کے مرکز کی کسی بھی نازیبا حرکت پر چوں بھی کریں ۔ بلکہ غیر اخلاقی حرکات پر بھی واہ واہ کرتے نظر آئیں گے ۔ اگر ہم سیاست کے ان تمام کھلاڑیوں کا جائزہ لیں ، تو جو آج چودہراہٹ کی کرسی پہ بیٹھے ہیں ، وہ سب ماضی میں کسی نہ کسی کے میراثی تھے ۔ آج کے سیاسی میراثیوں میں بڑے بڑے جاگیر دار ، گدی نشین ، خانان ، روساء اور دانشور نظر آئیں گے ۔ دیانتداری سے تجزیہ کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ آج کے بیشتر سیاسی قائدین ، ماضی میں کسی نہ کسی کرسی پر بیٹھے چوہدری کے میراثی ہی تھے ۔
جس قوم کی سیاسی قیادت کا یہ حال ہو گا ، وہاں کا سیاسی کارکن بھی تو اسی نقش قدم پہ چلے گا ۔ گویا سیاست میں شامل ہونے کیلئے میراثی ہونا پڑتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 28 March 2018
سیاست کے میراثی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment