" تمہارا لیڈر جیت گیا "
چند روز بعد بہت سارے قسمت کے دھنی ہونگے ، جن کے لیڈر جیت جائیں گے ۔ مٹھائیاں تقسیم ہونگی ، بھنگڑے ڈالے جائیں گے ، ہار پہنائے جائیں گے ۔ ان گھروں میں بھی عید جیسی خوشی ہوگی ، جن کے بچے صبح اٹھ کر کسی ورکشاپ پر گاڑیوں کی کالک منہ پہ ملنے کو نکلتے ہونگے ۔ وہ لوگ بھی پھولے نہیں سمائیں گے ، جن کا چولہا اسی روز جلتا ہے ، جس روز مزدوری مل جاتی ہے ۔ بیماری میں دوائی کو ترسنے والے بھی ایسے ناچیں گے جیسے لاٹری نکل آئی ہو ۔ کئی اسلئے بھی چہک رہے ہونگے کہ اس بار انکا ایم اے پاس بیٹا کہیں نہ کہیں کلرک تو لگ ہی جائے گا ۔ جس سے انکی قسمت کے دروازے کھل جائیں گے ۔ کئی بدقماش بغیر سلوٹ کے لباس میں اکڑ کر باہر نکلیں گے ، کہ اب انکی غنڈہ گردی پر پکڑنے کی کسی تھانیدار کو جرات نہیں ہوگی ۔ چھابڑی لگانے والے قہقہے لگائیں گے کہ اب اسکی چھابڑی کو ہٹانے کوئی نہیں آئے گا ۔
ان سب خوش بخت کارکنوں کو بہت بہت مبارک ہو ۔
ان سب کو مبارک ہو ، جن کی برادری کا آدمی اسمبلی کی کرسی پہ بیٹھ گیا ۔ بھاڑ میں گیا نظریہ ، تف ہو کردار کی فکر پر ، اچھا ہوا ضمیر ہار گیا اور امید جیت گئی ۔
کردار سے کیا لینا دینا ۔ ایسے امیدوار کا ہارنا ہی بہتر تھا ، جس کو ایمانداری ، اللہ کا خوف ، غریب پروری کا خبط ہو ۔ جو صرف جائز کام کیلئے مدد کرے ، ایسے امیدوار کا ہار جانا ہی بہتر تھا ۔ آخر معاشرے میں حق گوئی چاہنے والے ہوتے ہی کتنے ہیں ۔ اصل ضرورت تو ہوتی ہی بدقماشوں کو ہے ، جن کی عمر تھانوں اور کچہریوں میں گذرتی ہے ۔ شریف آدمی کا کیا لینا دینا ، کون جیتا ، کون ہارا ۔ اصل خوشی تو انکی بنتی ہے ، جنہوں نے بجلی چوری کرنی ہے ، بنکوں سے قرضے معاف کروانے ہیں ، پچھلے مقدمے ختم کرانے ہیں ، ٹھیکے لینے ہیں ، چھوٹے چھوٹے گلی محلے کے الیکشن لڑنے ہیں ۔ شرفاء کو دھونس میں رکھنا ہے ۔ ایم این اے کی تصویر گھر میں لگانی ہے ، تاکہ ثواب بھی ملے اور ضرورت کے وقت کام بھی آئے ۔
کچھ ایسے بھی بغلیں بجائیں گے ، جن کو زعم ہے کہ انکا لیڈر نظریاتی ہے ۔ اب کے ملک میں خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی ۔ مجرم کالے پانی کی سزا پائیں گے ۔ انکا جذبہ تو چند ماہ بڑے زور شور سے چلے گا ۔ پھر یہ دانشور کندھے پہ تنقید کا کلہاڑا رکھ لیں گے ۔ ندامت سے دامن بچا کر بولنا شروع کریں گے کہ " ہم تو پہلے ہی جانتے تھے ، یہ لیڈر خبیث تھا ۔ جو ہار گیا وہ اچھا تھا "
کیا ہوا ، اللہ کے دین کے متوازی نظام جیت گیا ۔ اسلام کا تعلق تو مسجد تک ہے ، حج ، روزے ، نماز اور زکوٰة کا نام اسلام ہے ۔ اصل تو جمہوریت ہے ، جس سے دین اور دنیا روشن ہو جاتی ہے ۔
چلو ! ہم کیوں دماغ کی چٹنی بنائیں ۔ ہم بھی منافقت کی سیڑھی پہ کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ جو جیت گیا مبارک ہو ۔ جو ہار گیا " بہت برا ہوا " دونوں خوش ۔ ہم پہلے بھی منافقت کے ساتھ تھے ، جمہوریت کی کشتی میں سوار تھے ۔ اللہ تو کریم ہے ، دو چار بار معافی مانگیں گے ، معاف کر دے گا ۔ مگر ممبر صاحب کی دشمنی ٹھیک نہیں ۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، کہیں یتیم ہی نہ کر دئیے جائیں ۔ اسی میں عافیت ہے کہ جیتنے والے کی خوشی میں بھنگڑہ ڈال لیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٠ جولائی ٢٠١٨
Friday, 20 July 2018
تمہارا لیڈر جیت گیا
Tuesday, 17 July 2018
میری قبر پہ لکھوا دینا
" میری قبر پہ لکھوا دینا "
ناداں تھا
مر گیا ہے ، چاہت کی سیاحی میں
دوسروں کے درد میں
رہا ہے بیمار اکثر
خلوص کے مرض نے
لی ہے جان اسکی
ہر کسی کے درد کو
بانٹنے کا مرض بھی لاحق تھا اسکو
لکھوا دینا
اس سیارے کی مخلوق نہیں تھا یہ
پتھر کے زمانے کی باتیں کیا کرتا تھا
جاہل تھا
کچھ بھی تو نہیں جانتا تھا
محبت کو ایمان بنائے بیٹھا تھا
دو لمحے جو ہنس لیتا تھا اس سے
اس کو اپنا ہی مان لیتا تھا
جو سنا یقین کر لیا اس نے
لاکھ سمجھاو کہ
زو معنے ہیں لفظ یہاں پہ
خنجر ہیں آستینوں میں
مطلب کے ہیں سب رشتے ناطے
نہ سنتا تھا نہ مانتا تھا
لکھوا دینا
یہی سوچتے چلا گیا ہے دنیا سے
کہ اک روز بدلے گا نظام دنیا
اک روز کھلیں کے محبت کے گلاب
اک روز فضاوں میں خوشبو ہوگی
اک روز چھائے گا چاہت کا خمار
اک روز جینے کا مزہ آئے گا
لکھوا دینا
جو یہاں سویا ہے
کوئی نہیں تھا اسکا
نہ کوئی نام تھا اسکا
نہ کوئی پہچان تھی اسکی
نہ کوئی پریتم تھا اسکا
نہ کوئی جان تھی اسکی
کسی اور نگر سے آیا تھا
کسی اور نگر کو چلا گیا
آزاد ھاشمی
١٨ جولائی ٢٠١٨
Monday, 16 July 2018
بھونکنا کتے کی خصلت ہے
" بھونکنا کتے کی خصلت ہے "
ہم اشرف المخلوقات کیوں ہیں ؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسان کو شعور دیا ، صحیح اور غلط کی تمیز بخشی اور حدود مقرر کر دیں کہ گفتگو کیسے کرنی ہے ، دوسرے انسان کو اخلاقیات کی حدود کے اندر رہ کر کیسے برتاو کرنا ہے ۔
صحیح اور غلط کی تمیز ، اپنے اور دوسرے کے حقوق پر پابند رہنے کا وصف صرف انسان کو ملا ۔
آج یہ دیکھ کر کہ خود کو تعلیم یافتہ ، مہذب اور باشعور سمجھنے والا یہی انسان ، اخلاقیات کی پستی کے اس مقام پر پہنچ گیا ہے ۔ کہ اسی نوے سال کی بوڑھی ماں کو ، محض سیاسی وابستگی کی بناء پر " گشتی " کہنے پر بضد ہے ۔ وہ بھول گیا کہ جانوروں میں رشتوں کا کوئی تقدس نہیں ہوتا ۔ مگر انسانوں میں یہی تقدس اسے اشرف المخلوقات بناتا ہے ۔ ایک سیاسی لیڈر اس قدر کردار سے عاری ہے کہ عوام کو مخالف سیاسی خیا لات رکھنے والوں کو " گدھا " کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا ۔ کتا بھی بھونکتے ہوئے ، خیال رکھتا ہے کہ کس پر بھونکنا ہے اور کس پر نہیں ۔ سانپ بھی معصوم بچے کو آزار نہیں پہنچاتا ۔ کیا ایسی تقاریر اور ایسی تحاریر ، جس میں دوسروں کی تحقیر کی حد پھلانگ دی جائے ۔ بیٹی ، ماں اور بہن کی تمیز ختم ہو جائے ۔ یہ تو اشرف المخلوقات کا مقام نہیں ۔ بھونکنا تو کتے کی فطرت ہے ، انسان کی نہیں ۔
کیا ایسے لوگوں پر واہ واہ کرنا قرین قیاس ہے یا تھو تھو کرنا؟ بھونکتے کتے کو چپ کرانے کا جتن کرنا چاہئیے یا اسے مزید بھونکنے کی ترغیب دینی چاہئیے ؟
یہ کونسا سیاسی منشور ہے ، جس میں مخالف نظریات والے گدھے ہو جاتے ہیں اور مخالفین کی ماوں ، بہنوں اور بیٹیوں کو " گشتیاں " کہا جانے لگے ۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ یہ رحجان رکنا چاہئیے یا اسے جاری رکھنے پر اسکا ساتھ دیا جائے ؟
آزاد ھاشمی
١٧ جولائی ٢٠١٨
Sunday, 15 July 2018
سب کو ایک جماعت کیوں نہیں بنایا
" سب کو ایک جماعت کیوں نہیں بنایا "
"اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا ۔ لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے ۔ اور جو ظالم لوگ ہیں انکا نہ کوئی رکھوالا ہے نہ کوئی مددگار " (سورہ الشوریٰ ٨ )
اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاک کلام کا اعزاز ہے ، کہ اہم ترین مسائل سے بہت آسان الفاظ میں پردہ اٹھا دیا جاتا ہے ۔ اللہ نے اس آیت مبارکہ میں فرمایا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک جماعت بنا ڈالتا ۔ مگر ایسا کیوں نہیں ہوا ۔ کیونکہ اللہ پاک اپنے اس کرم سے صرف اسی کو نوازتا ہے ، جسے وہ چاہتا ہے ۔ جو اسکی اطاعت کرتا ہے ، جو اسکی رضا پر راضی رہتا ہے ، اور جو اسکے احکامات پر پابند رہتا ۔ جو ایسا نہیں کرتا اسے اللہ سبحانہ تعالیٰ کھلا چھوڑ دیتا ہے ، کیونکہ اللہ کے احکامات سے سرتابی ایسا عمل ہے جو ظلم کے زمرے میں آتا ہے ۔ ظالموں کو بے لگام چھوڑ دینا ، انکے اعمال کی سزا ہے ۔ ظالم جنگل کے درندوں کیطرح ہوتے ہیں ، جس میں ایک طاقتور دوسرے کمزور کو چیر پھاڑ دیتا ہے ۔ کمزور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بجائے ظالم کے ظلم اور مظلوم کو ظلم کا شکار ہوتے دیکھتے رہتے ہیں ۔ نہ کوئی نگہبانی کرتا ہے اور نہ کوئی مدد گار ہوتا ہے ۔ ایسی ہی کیفیت کیطرف اشارہ ہے کہ انسان ٹولیوں میں اسلئے بٹ گیا کہ وہ ظالم ہو گیا ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انکو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ۔ اب طاقتور ، کمزور کے بخئے ادھیڑ رہا ہے اور کمزور مل کر تماشا دیکھ رہے ہیں ۔
جب مجھے اس آیت مبارکہ پر غور کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تو بدن میں عجیب سی سرسراہٹ محسوس ہوئی ۔ یقین ہوگیا کہ ہماری تفریق کا سبب تو واضع ہے ، اللہ نے ہم مسلمانوں کو یوں بے یارومددگار چھوڑ دیا ، ہماری بیشمار دعاوں اور التجاوں کے باوجود ہماری مدد کو نہ آنا ، تو کھلا اشارہ ہے کہ ہم ظالم ہو گئے ہیں ۔ تفریق کا یہ عالم کہ مسالک کے نام پر ، زبان کے نام پر ، سیاست کے نام پر ، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ، غربت اور امارت کے امتیاز سے ہم ایک ایک ہو کر جی رہے ہیں ۔ یہ تو بڑا ظلم تھا ، جس وجہ سے اللہ کی نصرت سے محروم ہوگئے ہیں ۔
اللہ کی نصرت حاصل کرنے کیلئے ، لازم ہے کہ اس منزل کیطرف مڑ جائیں ، جہاں اللہ کی رضا شامل ہوتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٥ جولائی ٢٠١٨