Friday, 13 January 2017

نا ہنجار بیٹا



نا ہنجار بیٹا
ہسپتال کا عملہ پریشان تھا کہ وہ کیا کریں - بوڑھی عورت بضد تھی کہ لاش پہ صرف اسی کا حق ہے - خستہ حال میں وہ بار بار ایک ہی بات کہہ رہی
 " ہم دونوں کا کوئی وارث نہیں - میں اسکی وارث ہوں صرف میں - ہم دونوں کا اس دنیا میں کوئی رشتہ دار نہیں - کوئی نہیں ہمارا "
ادھر ایک خوش لباس نوجوان بار بار ہسپتال کے عملے کو دبا رہا تھا کہ کاروائی مکمل کر کے امبولینس اسکے سپرد کی جاے - میں نے بڑھیا کے قریب جا کر سرگوشی سے پوچھا -
" ماں جی !"
میرے الفاظ منہ سے نکلے تو اس نے میری طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا -
" میں کسی کی ماں نہیں ہوں - میرا کوئی بیٹا نہیں - مجھے اس رشتے سے نفرت ہے , گالی لگتی ہے جب کوئی مجھے ماں کہے "
دکھ کی شدت کا اندازہ نا ممکن تھا - بیچاری کے پاس کفن دفن کے لئے بھی کچھ  نہیں تھا -
" یہ صاحب کون ہیں "
میں نے اس خوش پوش کے بارے میں پوچھا -
" میں نہیں جانتی یہ کون ہے - یہ کوئی افسر ہے - جس کا کوئی ماں باپ نہیں - کچھ سال پہلے یہ ہمارا ہی بیٹا تھا - ہم گاؤں کے لوگ سیدھا سادھا لباس پہنتے ہیں - اسے ملنے گئے - یہ اپنے افسر دوستوں کے ساتھ بڑے سے بنگلے میں بیٹھا تھا - ہم نے سنا کہ یہ ان سے کہ رہا تھا , ہم اسکی زمینوں پہ کام کرنے والے ہیں "
اس دن ہم نے اسکی زمینیں چھوڑ دیں اور دوسرے گاؤں میں جا بسے - اس کو پتہ نہیں کس نے بتا دیا کہ اسکا باپ مر گیا ہے - یہ یہاں ہمیں پریشان کرنے آ گیا "
مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہوں -
" چلیں آپ بزرگ ہیں معاف کر دیں "
میں نے مناسب سمجھا کہ ممتا کو آواز دوں -
" نہیں کر سکتی - مرنے والا مجھے حکم دے کر گیا ہے - کہ اس کو میری میت پہ میری چارپائی کو ہاتھ مت لگانے دینا - نہیں لگانے دونگی - کبھی نہیں "
دکھ کی شدت اور دل پہ لگی ہوئی چوٹ بالکل تازہ تھی -
مجھے  احساس ہوا کہ کتنا غریب ہے یہ سٹیٹس کا ڈسا ہوا افسر - کتنا بد قسمت ہے جس کے لئے ممتا بھی سو گئی -
آزاد ہاشمی

بد نصیب اولاد‎



بد نصیب اولاد
میں اسے بہت دیر سے دیکھ رہا تھا , وہ ایک ایک بس کی ہر کھڑکی پہ جا رہا تھا - ہاتھ میں ٹافیوں کا بھرا ہوا پیکٹ ویسا کا ویسا ہی تھا - بڑھاپے اور تھکن کی لکیریں اسکی بے بسی کی مکمل تصویر تھی - یہ مشکل کام مجبوری کا غماز تھا - وہ تھکے تھکے انداز میں میری طرف بڑھا , جس کا مجھے انتظار تھا -
" بابو جی ! بچوں کے لئے کچھ ٹافیاں لے لیں "
" بابا جی ! میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں , اب وہ ٹافیاں نہیں کھاتے " میں نے اسکی مجبور کمر پہ ایک اینٹ اور رکھ دی -
" کوئی بات نہیں بابو جی - الله آپ کے بچوں کو لمبی عمر دے , یہ تو چھوٹے بچوں کے شوق ہیں "
اسکی آنکھیں بوجھل تھیں - ایک آہ نے اسکی امید کے ٹوٹنے کا راز کھول دیا - مگر اسکی ہمت بے مثال تھی - میں نے جیب سے کچھ پیسے نکالے اور اسکے ہاتھ پہ رکھ دئیے - اس نے پیسوں کو دیکھا , مجھے دیکھا اور مسکرایا -
" بیٹا ! یہ پیسے میری اشد ضرورت ہے - میری بڑھیا نے صبح سے کچھ نہیں کھایا - اسکے بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں - اب بھی ان پہ حق جتاتی ہے - پاگل ہے پاگل - بیٹے بڑے  ہو جایئں تو بیویوں کے ہو جاتے ہیں - اب بیٹا ہمارے لئے اپنا گھر تو نہیں اجاڑے  گا "
بابا جی , کی زبان پہ شکایت بھی تھی تو بیوی کی - مگر اسکے اندر کا دکھ بہت گہرا تھا - میں نے سوچا بابا جی کو اپنے گھر لے چلتا ہوں -
" بیٹا ! میرے ہاتھ کو بھیک لینے کی عادت نہیں - یہ پیسے آپ رکھو - اور یہ ساری ٹافیاں اپنے پوتے پوتیوں کے لئے لے جاؤ -بولنا تمہارے دادا نے دی ہیں "
وہ ٹافیوں کا پیکٹ میری طرف بڑھاتے ہوۓ زور زور سے رونے لگا -
" آج بڑھیا کو بتاؤں گا کہ ٹافیاں تیرے پوتے کو دے آیا ہوں - بھوک بھول جاۓگی - اور پھر پوتے کی باتیں پوچھتے پوچھتے سو جاۓگی - کل کا الله مالک "
پیشتر  اسکے کہ میں کچھ کہتا , وہ بھیڑ میں گم ہو گیا - ٹافیاں اور پیسے میرے ہاتھ میں تھے - اور جھوٹی خوشی لے کر وہ اپنی بڑھیا کے پاس چلا گیا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

اسلام یا جمہوریت



اسلام یا جمہوریت
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا
" اگرتم زمین میں بسنے والےلوگوں کی اکثریت کےکہنےپرچلوگےتووہ تمہیں اللہ کےراستےسے بهٹکادینگے.  وہ تومحض گمان پرچلتے اورقیاس آرائیاں کرتےہیں. درحقیقت تمهارا رب بہترجانتاہے کہ کون اسکےراستےسےہٹاہواہےاورکون سیدھی راہ پرہے "
ہم نے آنکھیں بند کر کے سیاسی ملاؤں کی تقلید شروع کر رکھی ہے - کبھی الله تعالی کے احکامات کو نہ خود سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی ملاؤں نے ہمیں سمجھنے دیا - کیا یہ آیت جمہوریت کی مدلل تصویر پیش نہیں کرتی - پھر کیا یہ دین کی خبر رکھنے والوں کی نظر سے نہیں گزری یا انہوں نے کسی ذاتی مصلحت کی بنا پر اسے عوام سے چھپا رکھا ہے - ہم اپنی فرقہ پرستی اور گروہی سوچ کی وجہ سے مذہبی قائدین کی ہر بات سے اتفاق کرنے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں - اور انکے ہر فیصلے کو درست ثابت کرنے کے دلائل ڈھونڈھنے میں لگے رہتے ہیں - حرف آخر ملا نہیں قران ہے اور قران کے احکامات سے کوئی بھی فقہ , کوئی بھی حوالہ , کوئی بھی تفسیر  اگر  متصادم ہے تو یقینی طور پہ فاسق ہے -
کیا جواز ہے مذہبی جماعتوں کے پاس جو سیاست کے میدان میں متحرک ہیں , کہ جمہوریت کے نظام کیلیے جدوجہد کی جاے اور اسلامی نظام کی ثانوی حیثیت تسلیم کر لی جاے - کیا یہ درست نہیں ہو گا کہ مذہبی جماعتوں کے اس دو رخی کردار پر محاسبہ کیا جاے  - کیا اسے اسلام کے نظام کے خلاف محاذ سمجھنا غلط ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی 

کیا یہ اسلامی مملکت ہے



کیا یہ اسلامی مملکت ہے
کیا ہم اسلامی مملکت ہیں - یہ نہایت ہی توجہ طلب مسلہ ہے - کسی بھی مملکت کے اسلامی ہونے کے لئے صرف دستور اور آئین کی کتاب پہ صرف اسلامی لکھ دینا کافی نہیں ہوتا - نظام , قانون , تعلیم , رہن سہن اور تمام امور ریاست اسلام کے احکامات سے مطابقت رکھتے ہوں تو مملکت کو اسلامی مملکت کہا جایگا -
اسلامی نظام میں حکمران کے لئے جو شرائط ہیں ان میں سے کتنی شرائط پہ ہمارے حکمران پورے اترتے ہیں - عدلیہ کے کتنے جج ہیں جو اسلامی شرائط پہ جج ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں - انتظامی ڈھانچہ کی کونسی کل ایسی ہے جو اسلام سے ہم آہنگ ہے - ہماری تعلیم کا نظام بھی مکمل طور پر غیر اسلامی طرز پہ قائم ہے - ہمارا قانون بھی کسی طور بھی اسلامی نہیں - ہمارا  نظام  معیشت  بھی  سود  پر قائم  ہے  -جب یہ سب کچھ غیر اسلامی ہے تو دستور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھ لینے سے کیا حاصل ہے - ہمارے مذہبی رہنما انہی اسمبلیوں میں اسی غیر اسلامی نظام کا حصہ بن کر بیٹھے ہیں - آج تک کس مذہبی لیڈر نے اس نظام پہ تحریک پیش کی , یا کوئی بل سامنے لایا گیا - کسی نے کبھی یہ آواز نہیں اٹھائی کہ سربراہ مملکت کے انتخاب میں اسلامی طریقه اپنایا جاے -دیکھنا صرف یہ ہے کہ کیا ہم اسلامی نظام کے نفاز کیلیے سنجیدہ ہیں یا نہیں - اگر نہیں تو خدا را قوم کو فرقہ پرستی اور گروہی آگ میں نہ گھسیٹیں - کم از کم اخوت اور یگانگت کو زندہ رہنے دیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

Thursday, 12 January 2017

" قانون اور دستور ایک مذاق "


" قانون اور دستور ایک مذاق "
ایک جسٹس صاحب نے فرمایا
"آرٹیکل 62-63 کا اطلاق ہواتوپارلیمنٹ میں سراج الحق کےسواکوئی نہیں بچےگا"
اور پھر معذرت کر لی کہ سچ بولنا انکی غلطی تھی ۔ انہیں شدت سے احساس ہوا کہ جس کرسی پر وہ بیٹھتے ہیں ، وہاں سچ لکھنے ، سوچنے اور بولنے کی روایت نہیں ۔ وہاں وہ بیٹھتے ہیں ، جو عقل و فہم کو گھر چھوڑ کر آتے ہیں کیونکہ فیصلے تو وکیل کی مکاری پر کرنے ہیں ، یا آقاوں کے حکم پر یا پھر دولت کی دیوی کی ایماء پر ۔  کسقدر بھونڈا مذاق ہے اس قوم سے کہ پوری کی پوری اسمبلی اس معیار پر پوری نہیں ، جو قانون اور دستور نے مقرر کر رکھا ہے ۔ جسٹس کے یہ الفاظ ایک فیصلہ ہے ، ایک ججمنٹ ہے جو اس نے اپنی کرسی پر بیٹھ کر دی ۔ قوم کی جہالت کی انتہا ہے کہ اسے محض جسٹس کی دل لگی پر محمول کر دیا ۔ شرم آنی چاہیئے  پوری قوم کو کہ ہم کس نظام کو ، کس قانون کو ، کس دستور کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ، جس میں پوری سیاست اور سیاستدان کی نااہلی پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔  سراج الحق کی اہلیت پر بھی سوال اٹھ گیا کہ وہ جانتے ہوئے بھی اسی گندگی میں کیوں بیٹھے ہیں ۔ انہیں اس تعفن سے بد بو کا احساس کیوں نہیں ہوتا ۔ یا پھر انہیں علم ہی نہیں کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ ہیں ۔ اگر علم ہی نہیں تو یہ انکی سیاسی بصیرت کا فقدان ہے ۔ اگر علم ہے تو اس پر آواز نہ اٹھانا قوم سے دہوکہ ہے ۔ تعجب ہے کہ الیکشن کیشن والے کہاں سوئے بیٹھے ہیں ۔ تعجب ہے کہ جسٹس کے اس بیان پر بھی عدلیہ کے دوسرے تمام کرتے دھرتے خاموش ہیں ۔ چیف جسٹس کو بھی شرم نہیں آئی ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی