اسلام یا جمہوریت
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا
" اگرتم زمین میں بسنے والےلوگوں کی
اکثریت کےکہنےپرچلوگےتووہ تمہیں اللہ کےراستےسے بهٹکادینگے. وہ تومحض گمان
پرچلتے اورقیاس آرائیاں کرتےہیں. درحقیقت تمهارا رب بہترجانتاہے کہ کون
اسکےراستےسےہٹاہواہےاورکون سیدھی راہ پرہے "
ہم نے آنکھیں بند کر کے سیاسی ملاؤں کی تقلید
شروع کر رکھی ہے - کبھی الله تعالی کے احکامات کو نہ خود سمجھنے کی کوشش کی اور نہ
ہی ملاؤں نے ہمیں سمجھنے دیا - کیا یہ آیت جمہوریت کی مدلل تصویر پیش نہیں کرتی -
پھر کیا یہ دین کی خبر رکھنے والوں کی نظر سے نہیں گزری یا انہوں نے کسی ذاتی
مصلحت کی بنا پر اسے عوام سے چھپا رکھا ہے - ہم اپنی فرقہ پرستی اور گروہی سوچ کی
وجہ سے مذہبی قائدین کی ہر بات سے اتفاق کرنے کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں -
اور انکے ہر فیصلے کو درست ثابت کرنے کے دلائل ڈھونڈھنے میں لگے رہتے ہیں - حرف
آخر ملا نہیں قران ہے اور قران کے احکامات سے کوئی بھی فقہ , کوئی بھی حوالہ ,
کوئی بھی تفسیر اگر متصادم ہے تو یقینی طور پہ فاسق ہے -
کیا جواز ہے مذہبی جماعتوں کے پاس جو سیاست کے
میدان میں متحرک ہیں , کہ جمہوریت کے نظام کیلیے جدوجہد کی جاے اور اسلامی نظام کی
ثانوی حیثیت تسلیم کر لی جاے - کیا یہ درست نہیں ہو گا کہ مذہبی جماعتوں کے اس دو
رخی کردار پر محاسبہ کیا جاے - کیا اسے اسلام کے نظام کے خلاف محاذ سمجھنا
غلط ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment