" قانون اور دستور ایک مذاق "
ایک جسٹس صاحب نے فرمایا
"آرٹیکل 62-63 کا اطلاق ہواتوپارلیمنٹ میں سراج الحق کےسواکوئی نہیں بچےگا"
اور پھر معذرت کر لی کہ سچ بولنا انکی غلطی تھی ۔ انہیں شدت سے احساس ہوا کہ جس کرسی پر وہ بیٹھتے ہیں ، وہاں سچ لکھنے ، سوچنے اور بولنے کی روایت نہیں ۔ وہاں وہ بیٹھتے ہیں ، جو عقل و فہم کو گھر چھوڑ کر آتے ہیں کیونکہ فیصلے تو وکیل کی مکاری پر کرنے ہیں ، یا آقاوں کے حکم پر یا پھر دولت کی دیوی کی ایماء پر ۔ کسقدر بھونڈا مذاق ہے اس قوم سے کہ پوری کی پوری اسمبلی اس معیار پر پوری نہیں ، جو قانون اور دستور نے مقرر کر رکھا ہے ۔ جسٹس کے یہ الفاظ ایک فیصلہ ہے ، ایک ججمنٹ ہے جو اس نے اپنی کرسی پر بیٹھ کر دی ۔ قوم کی جہالت کی انتہا ہے کہ اسے محض جسٹس کی دل لگی پر محمول کر دیا ۔ شرم آنی چاہیئے پوری قوم کو کہ ہم کس نظام کو ، کس قانون کو ، کس دستور کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ، جس میں پوری سیاست اور سیاستدان کی نااہلی پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔ سراج الحق کی اہلیت پر بھی سوال اٹھ گیا کہ وہ جانتے ہوئے بھی اسی گندگی میں کیوں بیٹھے ہیں ۔ انہیں اس تعفن سے بد بو کا احساس کیوں نہیں ہوتا ۔ یا پھر انہیں علم ہی نہیں کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ ہیں ۔ اگر علم ہی نہیں تو یہ انکی سیاسی بصیرت کا فقدان ہے ۔ اگر علم ہے تو اس پر آواز نہ اٹھانا قوم سے دہوکہ ہے ۔ تعجب ہے کہ الیکشن کیشن والے کہاں سوئے بیٹھے ہیں ۔ تعجب ہے کہ جسٹس کے اس بیان پر بھی عدلیہ کے دوسرے تمام کرتے دھرتے خاموش ہیں ۔ چیف جسٹس کو بھی شرم نہیں آئی ۔
شکریہ آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment