تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو -
محترم نواز شریف بھی وہی ہیں , انکے کاسہ لیس
بھی وہی , وزیر اور مشیر بھی وہی , انداز و ناز بھی وہی -
جب یہ اپنی دولت کی بیساکھیوں پر پہلی بار
مسند اقتدار پہ جلوہ افروز ہوۓ , انکے جلو میں اور بھی بہت سارے کہنہ مشق اور
وراثتی سیاستدان بھی تھے - جو دال نہ گلنے پر الگ ہوتے گئے , مگر جن کی امیدیں اور
مفادات پورے ہوتے رہے وہ آج بھی ساتھ ہیں -
ایک خوبصورت خواب دکھایا گیا کہ قوم چندہ دے
تو سارا قرض اتار دیں گے - لوگوں نے حسب عادت جو جو بن پایا دے دیا - پھر کسی کو
یاد ہی نہیں رہا کہ قرضہ اترا کہ نہیں -
ترقی کے خواب , موٹر وے , سڑکیں , پل اور
میٹرو جیسے منصوبے بنتے رہے - قوم سمجھتی رہی کہ ترقی کا آغاز ہو گیا -
صنعتیں , زراعت , تجارت , برآمدات ,تعلیم ,
صحت اور دوست ملکوں سے تعلقات برباد ہوتے رہے , مگر ہم مگن تھے خواب
دیکھنے میں - یہ خیال ہی نہیں آیا کہ یہ بڑے بڑے منصوبے ترقی نہیں تجارت ہو رہی ہے
- ان پر ملنے والا کک بیک اصل ٹارگٹ ہے - یہ ہی وہ پیسہ ہے جس کو آف شور تجارت پہ
لگایا جاتا رہا -
حیرانی اس معصوم صورت حکمرانوں پہ نہیں ,
حیرانی ان سیاستدانوں پہ ہے , ان میڈیا کے بادشاہوں پہ ہے , قومی سلامتی کے حلف
لینے والوں پہ ہے کہ کسی کو خبر ہی نہیں ہوئی , کہ ملک کو ترقی کے نام پہ لوٹا جا
رہا ہے -
اسے قوم کے تمام ذمہ داروں کی بے خبری کہیں ,
حصہ داری کہیں , غفلت کہیں یا وطن سے غداری کہیں -
وطن میں کتنے لوگ ہیں جن کے دلوں کی شریانیں
بند ہیں , ان لوگوں کا وطن میں علاج کبھی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوا - پھر
وطن کے وسائل پہ وزیر محترم کا علاج اور وہ بھی بیرون ملک پورے پروٹوکول سے - کیوں
- کیا یہ آواز کبھی اٹھے گی , کبھی کوئی دیانتدار محتسب , کوئی مسیحا , کوئی لیڈر
, کوئی میڈیا کا بادشاہ , کوئی اسمبلی , کوئی محب وطن پارٹی اس کا احتساب کر سکے
گی -
یقینی طور پہ نہیں -
یہ وہ محاذ ہے جس پر جب تک ہم سب انفرادی طور
پہ بر سر پیکار نہیں ہونگے - جب تک ہم خود سیاسی وابستگیوں سے الگ ہو کر جدوجہد
نہیں کریں گے , کچھ نہیں ہو گا -
ہمیں ووٹ , جسے قومی امانت کہتے ہیں , قومی
مفادات کو سامنے رکھ کر دینا ہو گا - نعرے نہیں کارکردگی دیکھنا ہو گی , کردار
دیکھنا ہو گا , ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے اجتناب کرنا ہو گا - رہبر اور رہزن
میں فرق کرنا ہو گا - اب کی بار پھر کوئی لٹیرا آیا تو شاید ہماری نسلیں بیچ جاے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment