Tuesday, 10 January 2017

ایک طبقہ



ایک طبقہ
 ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے , جن کو الله  نے مالی آسائشوں سے نواز رکھا ہے - جو یہ سمجھتے ہیں کہ شعور اور عقل کے جس مقام پہ وہ کھڑے ہیں , کسی دوسرے کی اس تک رسائی ہی نہیں - بدیسی زبانوں پہ عبور , مشکل بدیسی کہاوتیں , ترقی یافتہ لوگوں کی لمحہ با لمحہ خبریں , ایجادات کی خبر , اس طبقے کو عام معاشرہ سے الگ کر دیتی ہے - رھن سہن , خورد و نوش , گفتگو اور اظہار خیال سے یہ ایک منفرد معاشرہ بن چکے ہیں - انکو پرانے لوگ احمق نظر آتے ہیں - الله اور الله کے رسول کے نظام کی باتیں فرسودہ ذہنیت لگتی ہے -
یہ وہ طبقہ جن کو ترقی یافتہ لوگوں کا ہر فیصلہ اٹل اور حقائق کے قریب ترین لگتا ہے - مسلمانوں کے ہر کام میں قدامت پرستی نظر آتی ہے -
دنیا بھر میں جو سلوک یہ ترقی  یافتہ  ممالک کر رہے ہیں , اس میں بھی  یہ بہتری دیکھتے ہیں - اگر کوئی مسلمان اپنے حقوق کی بات کرتا ہے تو اسے دہشتگرد اور فسادی کے القاب دینا بھی جائز ہے - ترقی یافتہ قومیں اپنے پالتو کتوں کے مرنے پہ بھی احتجاج کر لیتی ہیں اور مفلوک الحال قومیں اپنے لاکھوں انسانوں پہ نہیں بول سکتیں -
یہی طبقہ اقتدار کی کرسیوں پہ براجمان ہے - یہی وجہ ہے کہ انہیں حقوق نام کے کسی لفظ سے آشنائی نہیں -
بہت سارے مسلمان رہنماؤں کو جس غیر انسانی طریقے سے ختم کیا گیا , اور جس وحشیانہ تشدد سے جگہ جگہ مسلمانوں کو مارا جا رہا - اس پر بات کرنے کو اس طبقے میں انتہائی نا پسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے - اور اگر کسی جگہ مسلمانوں کا رد عمل ہو تو اس طبقہ کی بحث کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے - اور تمام خرابیاں مسلمانوں ہی میں نظر آتی ہیں -
کیا ایسا نہیں -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment