بد نصیب ماں
" بچوں کو مارتی نہیں تو کیا کرتی , وہ
تین دن سے بھوکے تھے "
یہ بیان اس بد نصیب ماں کا تھا , جس نے اپنے
تین معصوم بچوں کو اپنے ہاتھوں سے مار دیا - محض اسلیے کہ اسے انکے زندہ
رہنے کے لئے رزق کی امید نہیں رہی تھی - ایسی بے بسی کی کتنی کہانیاں ہمارے ارد
گرد موجود ہیں اور ہم ان سے بے خبر اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں -
ہر پانچ سال بعد انتخابات پہ سیاستدان اربوں
روپے برباد کر دیتے ہیں , کروڑوں روپے ہر ہر شہر اور قصبے میں خوشحال لوگ ہوٹلنگ
میں اڑا دیتے ہیں - بگڑے ہوے امیر زادے روزانہ کروڑوں کی شراب پی جاتے ہیں -
کروڑوں جوۓ اور رنڈی بازی میں لٹ جاتے ہیں - ہمارے حکمرانوں کے کچن میں کروڑوں کی
خاطر مدارات ہو جاتی ہے - شادیوں میں بے دریغ پیسہ بہا دیا جاتا ہے - اگر
اسی پیسے کا کچھ حصہ ایسے ضرورت مندوں کی
فلاح پہ دے دیا جاے تو شائد ایسے
سانحات نہ ہوں-
کبھی غور کریں کہ ایک ماں , ایک مکمل
ذہنی تندرستی کے ساتھ اپنے جگر گوشوں کو موت کی نیند سلا رہی ہو گی , تو وہ کسی
جنگل میں تو نہیں رہتی تھی - جہاں کسی سے فریاد نہیں کر سکی ہو گی - جہاں
کسی کو اپنی مجبوری نہیں بتائی ہو گی - چلیں اسکا کوئی خون کا رشتہ باقی نہیں ہو
گا , مگر انسانیت کا رشتہ تو سب سے تھا -
ہم سب اگر اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس
کریں اور اپنے حلقوں میں مل کر ہر غریب کی اعانت کرنے کا ارادہ کر لیں , تو پھر
کوئی ماں اپنے بچوں کو بھوک سے خوف زدہ ہو کر قتل نہیں کرے گی - یہ کوئی
احسان نہیں , بلکہ انسانی فرض ہے - مذہبی عبادت ہے , ذہنی سکون ہے , اور خدا
کی رضا کا بہترین عمل ہے -
الله کرے ہم سب ملکر ایسے سانحات کو
مزید آگے بڑھنے سے روک سکیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment