مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان صاحب نے ہم خیال اور اپنے
مقلدین کے اجتماع میں ایک خوشخبری کہیں یا تنبیہ , فرمایا کہ کسی میں اتنی جرات
نہیں کہ وہ مذہبی مدرسوں کو بند کر سکے - بہت جرات کی بات ہے اور بہت ایمانی
جذبہ کا اظہار ہے - ہمارا یقین ہے کہ الله اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے اور کرتا رہے
گا - ایک بات حضرت کو باور کرانے کی جسارت کر رہا ہوں , یہ جانتے ہوے
کہ حضرت کے مقلدین کو یہ جسارت گستاخی لگے گی - مگر سچ یہ ہے کہ اگر مذہبی قائدین
کی یہی روش رہی جو آج کل ہے , اور بالخصوص جس سیاسی سوجھ بوجھ کا حضرت خود مظاہرہ
کر رہے ہیں - کسی بھی طاقت کو مذہبی مدرسوں کے بند کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی -
ان مدرسوں کی افادیت تو ان رہنماؤں کے کردار کی وجہ سے پہلے ہی انتہائی حد تک گر
گئی ہے - رہا سہا احترام حضرت کی سیاسی بصیرت کہیں , ذاتی مفادات کہیں یا کوئی بھی
نام دیں , ہر برائی کے ساتھ کھڑے ہو جانا , ہر سیکولر اور لبرل حکمران کی
کاسہ لیسی کر کے کوئی نہ کوئی وزارت لے لینا , کونسی اسلام کی خدمت ہے -
دیانتداری سے دیکھا جاے تو مدرسوں کے تقدس کو جتنا نقصان سیاسی ملاؤں نے پہنچایا
ہے , اسکا عشر عشیر بھی لبرل اور سیکولر نہیں پہنچا سکے - وہ احترام جو مذہبی
قائدین کیلیے ہوا کرتا تھا , اب صرف مقلدین تک محدود ہے - مدرسوں کو چندہ اور
بیرونی امداد کا ذریعہ بنا لیا گیا - مذھب کے نام پر دہشتگردی کے گروپ بن گئے -
کیا یہ سب مدرسوں کے وقار کے خاتمے کی طرف تیزی سے بڑھتا ہوا سیلاب نہیں - ایسی
سنگینی میں بھی آپ سیاست کی اکھاڑ پچھاڑ میں لگے ہیں - جمہوریت کی دیوی ایسی صورت
میں بھی آپ کے دلوں میں سمائی بیٹھی ہے -
معذرت کے ساتھ اگر یہی حال رہا تو مدرسوں کو
کوئی دوسرا نہیں آپ خود ختم کرو گے - علماء کی جو قدر و منزلت چند سال پہلے تھی وہ
آج نہیں اور آنے والا کل اس سے زیادہ برا دکھائی دے رہا ہے - اس ساری تضحیک کے ذمہ
دار بذات خود سیاسی میدان کے سارے پہلوان ملا ہونگے - خدا را اس وقار کو قائم رہنے
دیں - یہ ہو گی دین کی اور دینی درس گاہوں کی خدمت -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment