بد نصیب اولاد
میں اسے بہت دیر سے دیکھ رہا تھا , وہ ایک
ایک بس کی ہر کھڑکی پہ جا رہا تھا - ہاتھ میں ٹافیوں کا بھرا ہوا پیکٹ ویسا کا
ویسا ہی تھا - بڑھاپے اور تھکن کی لکیریں اسکی بے بسی کی مکمل تصویر تھی - یہ مشکل
کام مجبوری کا غماز تھا - وہ تھکے تھکے انداز میں میری طرف بڑھا , جس کا مجھے
انتظار تھا -
" بابو جی ! بچوں کے لئے کچھ ٹافیاں لے
لیں "
" بابا جی ! میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں ,
اب وہ ٹافیاں نہیں کھاتے " میں نے اسکی مجبور کمر پہ ایک اینٹ اور رکھ دی -
" کوئی بات نہیں بابو جی - الله آپ کے
بچوں کو لمبی عمر دے , یہ تو چھوٹے بچوں کے شوق ہیں "
اسکی آنکھیں بوجھل تھیں - ایک آہ نے اسکی
امید کے ٹوٹنے کا راز کھول دیا - مگر اسکی ہمت بے مثال تھی - میں نے جیب سے کچھ
پیسے نکالے اور اسکے ہاتھ پہ رکھ دئیے - اس نے پیسوں کو دیکھا , مجھے دیکھا اور
مسکرایا -
" بیٹا ! یہ پیسے میری اشد ضرورت ہے -
میری بڑھیا نے صبح سے کچھ نہیں کھایا - اسکے بچے بھی بڑے ہو گئے ہیں - اب بھی ان
پہ حق جتاتی ہے - پاگل ہے پاگل - بیٹے بڑے ہو جایئں تو بیویوں کے ہو جاتے
ہیں - اب بیٹا ہمارے لئے اپنا گھر تو نہیں اجاڑے گا "
بابا جی , کی زبان پہ شکایت بھی تھی تو بیوی
کی - مگر اسکے اندر کا دکھ بہت گہرا تھا - میں نے سوچا بابا جی کو اپنے گھر لے
چلتا ہوں -
" بیٹا ! میرے ہاتھ کو بھیک لینے کی
عادت نہیں - یہ پیسے آپ رکھو - اور یہ ساری ٹافیاں اپنے پوتے پوتیوں کے لئے لے جاؤ
-بولنا تمہارے دادا نے دی ہیں "
وہ ٹافیوں کا پیکٹ میری طرف بڑھاتے ہوۓ زور
زور سے رونے لگا -
" آج بڑھیا کو بتاؤں گا کہ ٹافیاں تیرے
پوتے کو دے آیا ہوں - بھوک بھول جاۓگی - اور پھر پوتے کی باتیں پوچھتے پوچھتے سو
جاۓگی - کل کا الله مالک "
پیشتر اسکے کہ میں کچھ کہتا , وہ بھیڑ
میں گم ہو گیا - ٹافیاں اور پیسے میرے ہاتھ میں تھے - اور جھوٹی خوشی لے کر وہ
اپنی بڑھیا کے پاس چلا گیا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment