زکوٰة نظام معیشت
"
بہت ساری بلند و بالا عمارات ، سڑکوں پہ دوڑتی لش پش کاریں ، صاف ستھری لمبی سڑکیں ، سامان آسایش اور بود و باش زندگی کی فراوانی ، کسی قوم کی خوشحالی نہیں کہا جا سکتا ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص قسطوں پر سامان لیکر اپنا گھر سجا لے اور اپنی آمدن کا بیشتر حصہ قرض اور اس پر واجب سود پر ادا کرتا رہے ۔ پھر زندگی کا ایک ایک لمحہ آزار میں گزارے ۔ ہمارے ملک کا حال کچھ اسی طرح سے ہے کہ ہمارے اقتدار سے چپکے ہوئے لوگ ، عوام کا خون نچوڑ نچوڑ کر اپنی آسائشوں کو پورا کر رہے ہیں ۔ ٹیکس سے حاصل کی جانے والے پیسے سے ترقیاتی ضرورتیں پوری کرنے کی بجائے ، قرض لے لے کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے ۔ اگر اسلامی نظام کی بات کی جائے تو جمہوریت کے دیوانے شور مچانے لگتے ہیں ۔ اسلامی نظام خود انحصاری کا واضع راستہ ہے ۔ آپ تھوڑا سا جمع تفریق کر کے دیکھیں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ پاکستان کے دس امیر ترین لوگ ، جن میں نواز شریف اور زرداری بھی شامل ہیں ۔ ان کے اثاثے اٹھارہ کھرب روپے ہیں ۔ ان تمام لوگوں پر کتنی زکوٰة واجب بنتی ہے اور ان لوگوں نے جو ٹیکس دئے وہ کتنے دئے ۔ اب اگر تمام اراکین اسمبلی ، سیاستدانوں ، بیوروکریسی ، جج صاحبان ، فوجی جنرلز ، پولیس افسران وغیرہ وغیرہ پر زکوٰة کا طریقہ لاگو کر دیا جائے تو شاید قرضے ادا کرنے میں دقت نہ ہو ۔ اور عام شہری غربت کی فہرست سے نکل جائے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم نے آسان ترین راستہ چھوڑ کر الجھی ہوئی راہ کیوں اپنا رکھی ہے ۔ چلیں عام فہم آدمی کو ضرب تقسیم نہیں آتی ، یہ بڑے بڑے ماہرین معیشت کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ زکوٰة سے صرف دولت مند متاثر ہو گا ، ارتکاز دولت کم ہو گا ۔ جبکہ ٹیکس کے اثرات صرف غریب پر پڑتے ہیں ۔ اشیائے صرف بڑھ جاتی ہیں ، عام شہری زندگی کی اشد ضروریات کا متحمل نہیں ہو پاتا ۔ سمجھ نہیں آتا ، یہ مذہبی قائدین ، علماء اور دانشور کیوں نہیں سمجھتے ۔ خصوصاً وہ جماعتیں جو سیاست سے بھی چپکی بیٹھی ہیں اور مذہب کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے ۔ ان جماعتوں کے کارکن اپنے قائدین کی توجہ ادھر مبذول کیوں نہیں کراتے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
بہت ساری بلند و بالا عمارات ، سڑکوں پہ دوڑتی لش پش کاریں ، صاف ستھری لمبی سڑکیں ، سامان آسایش اور بود و باش زندگی کی فراوانی ، کسی قوم کی خوشحالی نہیں کہا جا سکتا ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص قسطوں پر سامان لیکر اپنا گھر سجا لے اور اپنی آمدن کا بیشتر حصہ قرض اور اس پر واجب سود پر ادا کرتا رہے ۔ پھر زندگی کا ایک ایک لمحہ آزار میں گزارے ۔ ہمارے ملک کا حال کچھ اسی طرح سے ہے کہ ہمارے اقتدار سے چپکے ہوئے لوگ ، عوام کا خون نچوڑ نچوڑ کر اپنی آسائشوں کو پورا کر رہے ہیں ۔ ٹیکس سے حاصل کی جانے والے پیسے سے ترقیاتی ضرورتیں پوری کرنے کی بجائے ، قرض لے لے کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے ۔ اگر اسلامی نظام کی بات کی جائے تو جمہوریت کے دیوانے شور مچانے لگتے ہیں ۔ اسلامی نظام خود انحصاری کا واضع راستہ ہے ۔ آپ تھوڑا سا جمع تفریق کر کے دیکھیں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ پاکستان کے دس امیر ترین لوگ ، جن میں نواز شریف اور زرداری بھی شامل ہیں ۔ ان کے اثاثے اٹھارہ کھرب روپے ہیں ۔ ان تمام لوگوں پر کتنی زکوٰة واجب بنتی ہے اور ان لوگوں نے جو ٹیکس دئے وہ کتنے دئے ۔ اب اگر تمام اراکین اسمبلی ، سیاستدانوں ، بیوروکریسی ، جج صاحبان ، فوجی جنرلز ، پولیس افسران وغیرہ وغیرہ پر زکوٰة کا طریقہ لاگو کر دیا جائے تو شاید قرضے ادا کرنے میں دقت نہ ہو ۔ اور عام شہری غربت کی فہرست سے نکل جائے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم نے آسان ترین راستہ چھوڑ کر الجھی ہوئی راہ کیوں اپنا رکھی ہے ۔ چلیں عام فہم آدمی کو ضرب تقسیم نہیں آتی ، یہ بڑے بڑے ماہرین معیشت کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ زکوٰة سے صرف دولت مند متاثر ہو گا ، ارتکاز دولت کم ہو گا ۔ جبکہ ٹیکس کے اثرات صرف غریب پر پڑتے ہیں ۔ اشیائے صرف بڑھ جاتی ہیں ، عام شہری زندگی کی اشد ضروریات کا متحمل نہیں ہو پاتا ۔ سمجھ نہیں آتا ، یہ مذہبی قائدین ، علماء اور دانشور کیوں نہیں سمجھتے ۔ خصوصاً وہ جماعتیں جو سیاست سے بھی چپکی بیٹھی ہیں اور مذہب کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے ۔ ان جماعتوں کے کارکن اپنے قائدین کی توجہ ادھر مبذول کیوں نہیں کراتے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment