" زکوٰة، اللہ کا نظام معیشت "
ہم کتنے بھی سرکش ہو جائیں ، یہ انکار نہیں کر سکتے کہ ہمارا تمام فہم وفراست
، قوت و توانائی ، اسباب و وسائل ، مالک کل
کی عطا ہے ۔ اور یہ اسکااحسان ہے ، ہمارا حق نہیں ۔
اللہ نے ہمارے لئے کچھ راہیں متعین کر دی ہیں ۔ ان میں سے ایک زکٰوة ہے ۔ خوشحال معاشرتی اور معاشی نظام کیلئے ایک بہترین حل ۔ مگر ہم نے اس کو اپنانے کی بجائے انگریز کا نظام ٹیکس اختیار کر لیا ۔ نتیجہ سامنے
ہے کہ نہ معیشت بہتر ہوئی ، نہ عوام کو سہولت ملی ، نہ غربت کا جن قابو آیا ۔
نظام زکٰوة کے اطلاق میں عذر یہ رہتا ہے
کہ کچھ مسالک کے فقہی اصول آپس میں مطابقت نہیں رکھتے ۔ اسکا حل شائد اتنا مشکل نہیں
، جتنا نیت کی خرابی کا دخل ہے ۔
تعجب کی بات ہے کہ محترم وزیر اعظم پاکستان
ایک سو چوالیس ارب کے اثاثوں کے مالک ہیں ،
اور انہوں کتنا ٹیکس دیا ہو گا ، اگر زکوٰة کا نظام لاگو ہوتا تو انہیں کتنی
زکوٰة دینا پڑتی ۔ ایک حسابدان کےلیے جواب قطعی مشکل نہیں ۔
ایسے کتنے سرمایہ دار ، سیاستدان ، تاجر
، مذہبی رہنما ، بیورو کریٹس ، جنرل، جج اور صنعتکار ہونگے ، جو ٹیکس کی مد میں اپنے
اثاثوں کے تناسب سے ادائیگی کرتے ہونگے ۔
ایک اور بات جو قابل فکر ہے کہ ٹیکس سے
عموماً اشیائے صرف متاثر ہوتی ھیں اور ٹیکس
ہمیشہ صارف ادا کرتا ہے ۔ الفاظ دیگر میں ٹیکس کا اطلاق غریب کی جیب پر ہوتا ہے امیر
کی تجوری پر نہیں۔ ایک اور خرابی یہ بھی ہے
کہ ٹیکس اس سرمایہ کو متاثر کرتا ہے جو سرمایہ گردش میں ہوتا ہے ۔ جبکہ زکوٰة کا اثر براہ راست سرمایہ دار کی تجوری
اور اثاثوں پر ہوتا ہے ، جس اشیائے صرف متاثر بھی نہیں ہوتیں اور مردہ زر بھی گردش
میں آنے لگتا ہے ۔
اگر غور کریں تو اس حقیقت سے انکار ممکن
ہی نہیں کہ زکٰوة ، عشر اور خمس ، کوئی بھی فقہی طریقہ اختیار کیا جائے ۔ ٹیکس سے ہر صورت بہتر ہے ۔
کیونکہ اللہ کے نظام معیشت اور انسان کے
اختراعی نظام کو کبھی متوازن نہیں پایا جا سکتا ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
No comments:
Post a Comment