دوسرا طبقہ
مارے معاشرے کا دوسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے - جو اپنے آپ کو اسلامی
اصول و ضوابط پہ کاربند سمجھتے ہیں - عام شہری کی نظر میں انکا درجہ با عزت اور معتبر
رہتا ہے - یہ وہ طبقہ ہے جس سے امید رکھی جاتی ہے کہ خوف خدا اور اسلامی اقدار سے
مکمل آگاہی کی وجہ سے یہ وہی کہیں گے جو درست اور بالکل رضاۓ ربی ہو گا - اس یقین
کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگ انکی پیروی کرتے ہیں - اور انکے حکم پہ کچھ بھی کر
گزرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں
-
اس طبقے نے اپنے اختیارات اور لوگوں کے اعتماد پر اسلام کی ایسی ایسی راہیں بنا ڈالیں , جس سے باہمی حسن یگانگت ختم ہو گیا اور تفرقات نے جنم لے لیا - بات اگر یہاں تک ہی رک جاتی تو بھی کسی حد تک عافیت باقی تھی - مذہبی رحجانات کو تشدد کی شکل دے دینے کے بعد امن بھی ختم ہو گیا , باہمی محبت مٹ گئی , بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا اور اسلام کا تصور بگاڑ کی صورت اختیار کرنے لگا -
بظاہر یہ تشدد دین کے نام پہ جہاد کہلانے لگا مگر اصل میں دوسرے مذاہب کو اسلام دشمنی میں کامیابی کی راہ مل گئی -
اس طبقے کی بے خبری نے وہ کر ڈالا , جو یہود و ہنود نہ کر سکے -
ایک اور برائی وہاں پیدا ہو گئی , جب یہ مذہبی رہنما سیاسی میدان میں کود پڑے اور وہاں ذاتی مفادات کے حصول میں لگ گئے -
لوگوں کے اعتماد کو غلط راستے پہ ڈال دیا گیا , اپنی اپنی دکان چمکانے کی غرض سے تاویلات کا بھر مار ہوا اور کفر کے فتوے ایک عام سرٹیفکیٹ کی طرح جاری ہونے لگے - آج حالت یہ ہے کہ کوئی فرقہ ایسا نہیں جسے یہ سرٹیفکیٹ نہ مل چکا ہو -
اگر یہ کہا جاے کہ اس طبقے نے نہ صرف قومی مفادات کو زک پہنچائی ہے بلکہ جغرافیائی حدود کو بھی یہ نقصان ہو رہا ہے -
اس کا علاج نہ تو کسی سیاسی پلیٹ فارم پہ ہے , نہ کوئی دوسرا حل ہے - سواۓ اسکے کہ عوام مواخذہ کرے -
آزاد ہاشمی
اس طبقے نے اپنے اختیارات اور لوگوں کے اعتماد پر اسلام کی ایسی ایسی راہیں بنا ڈالیں , جس سے باہمی حسن یگانگت ختم ہو گیا اور تفرقات نے جنم لے لیا - بات اگر یہاں تک ہی رک جاتی تو بھی کسی حد تک عافیت باقی تھی - مذہبی رحجانات کو تشدد کی شکل دے دینے کے بعد امن بھی ختم ہو گیا , باہمی محبت مٹ گئی , بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا اور اسلام کا تصور بگاڑ کی صورت اختیار کرنے لگا -
بظاہر یہ تشدد دین کے نام پہ جہاد کہلانے لگا مگر اصل میں دوسرے مذاہب کو اسلام دشمنی میں کامیابی کی راہ مل گئی -
اس طبقے کی بے خبری نے وہ کر ڈالا , جو یہود و ہنود نہ کر سکے -
ایک اور برائی وہاں پیدا ہو گئی , جب یہ مذہبی رہنما سیاسی میدان میں کود پڑے اور وہاں ذاتی مفادات کے حصول میں لگ گئے -
لوگوں کے اعتماد کو غلط راستے پہ ڈال دیا گیا , اپنی اپنی دکان چمکانے کی غرض سے تاویلات کا بھر مار ہوا اور کفر کے فتوے ایک عام سرٹیفکیٹ کی طرح جاری ہونے لگے - آج حالت یہ ہے کہ کوئی فرقہ ایسا نہیں جسے یہ سرٹیفکیٹ نہ مل چکا ہو -
اگر یہ کہا جاے کہ اس طبقے نے نہ صرف قومی مفادات کو زک پہنچائی ہے بلکہ جغرافیائی حدود کو بھی یہ نقصان ہو رہا ہے -
اس کا علاج نہ تو کسی سیاسی پلیٹ فارم پہ ہے , نہ کوئی دوسرا حل ہے - سواۓ اسکے کہ عوام مواخذہ کرے -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment