عمران خان
عمران خان صاحب نے وطن اور قوم کی خدمت خلوص
نیت سے کی - چونکہ یہ انسانی خدمت کے جذبہ کے ساتھ کی گئی - الله کی قبولیت کا ثمر
ہے کہ بے پناہ عزت اور احترام ملا - قوم مسیحا مان کر اسکے ساتھ بھاگ کر کھڑی ہو
گئی - اور سیاسی میدان میں ہیرو کی شکل میں لا کھڑا کیا -
یہ ایک ایسا راستہ ہے اور ایسا کھیل ہے جہاں
جھوٹ بولنے والوں کا راج ہے - جہاں کیے گئے وعدے محض جوش خطابت ہوتے ہیں ,ان
میں حقیقت نام کوئی چیز نہیں ہوتی - شاید محترم کو بھی یہی روش
اپنانی پڑ جاے - کیونکہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے , ایسے لگتا ہے کہ عمران کی منزل
بھی خدمت نہیں کرسی بن گئی ہے - وہی طرز اختیار کر لینا جو دوسرے پیشہ ور
سیاستدانوں کا ہے , کچھ اچھا شگون نہیں - تبدیلیاں سنجیدہ لوگوں کا کمال بنتی ہیں
, یہ لڑکپن کی حرکتیں , یہ ناچ گانوں کی روش , یہ آزاد خیال بچوں کی لا ابالی سے
ظاہر ہونے لگا ہے کہ اگر حکومت مل بھی گئی تو کچھ نہیں بدل پاے گا - تبدیلی کیلیے
حقیقی دانشوروں کا ساتھ بہت ضروری ہوتا ہے - ایک سنجیدہ ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے -
مگر بد قسمتی سے اگر دیانتداری سے تجزیہ کیا جاے تو محترم کے جلو میں کچھ نہیں -
چند امیر زادے , چند کھیل کے دلدادہ اور چند گلوکار - یہ سب پر کتنی
توقعات کی جا سکتی ہیں - عمران خان کو اپنی کامیابی کی فکر چھوڑ کر نظام میں
تبدیلی لانے کی راہ پہ چلنا چاہیے تھا - اور وہ راہ یہ تھی کہ اس 66 فیصد لوگوں کا
اعتماد بحال کرتا جو انتخابات سے لا تعلق رہتے ہیں - قوم کے مزاج کو پڑھے بغیر
تبدیلی کا سوچنا ایک احمقانہ سوچ کے سوا کچھ نہیں - لیڈر کی نظر اگر صرف اقتدار بن
جاے تو یہ اصل میں عروج نہیں زوال ہے - بھٹو آج تک زندہ کیوں ہے , صرف اسلیے کہ اس
نے قوم کا مزاج پڑھا اور اپنے ساتھ بہترین لوگ متحرک کیے - بنیاد بہت اہم ہوتی ہے
- آج کی سیاست میں تبدیلی لانی ہے تو جوش نہیں ہوش سے کام لینا ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment