Tuesday, 10 January 2017

معصوم سا بچہ



معصوم سا بچہ
معصوم سا بچہ مسجد ایک طرف بیٹھا پورے انہماک سے ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے نہ جانے کیا مانگ رہا تھا - یہ خشوع تو عمر کے آخری حصے میں بھی کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے جو الله نے اسکی جھولی میں ابھی سے ڈال دیا تھا - لباس پیوند زدہ تھا مگر نہایت صاف ستھرا - اسکے ننھے ننھے سے گال آنسووں سے بھیگ چکے تھے - بہت لوگ اسکی طرف متوجہ تھے اور وہ بالکل  بے خبر اپنے رب سے باتوں میں لگا ہوا تھا - جیسے ہی وہ اٹھا , میں نے بڑھ کے اسکا ننھا سا ہاتھ پکڑا -
"
کیا کیا مانگا الله سے "
میں نے پوچھا
"
میرے ابا فوت ہو گئے ہیں انکے لئے جنت , میری ماں روتی رہتی ہے انکے لئے صبر , میری بہن ماں سے چیزیں مانگتی ہے اسکے لئے پیسے "
"
تم سکول جاتے ہو " میرا سوال ایک فطری سا سوال تھا -
"
ہاں جاتا ہوں "
"
کس کلاس میں پڑھتے ہو "
"
نہیں انکل پڑھنے نہیں جاتا , ماں چنے دیتی ہے وہ سکول کے بچوں کو بیچتا ہوں - بہت سارے بچے مجھ سے چنے خریدتے ہیں - ہمارا یہی کام دھندہ ہے "  بچے کا ایک ایک لفظ میری روح میں اتر رہا تھا -
"
تمہارا کوئی رشتہ دار "
میں  نہ چاہتے ہوے بھی پوچھ بیٹھا
"
پتہ نہیں - ماں کہتی ہے غریب کا کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا - ماں  جھوٹ نہیں بولتی  نا انکل - پر مجھے لگتا ہے میری ماں کبھی کبھی جھوٹ بولتی ہے - جب ہم کھانا کھاتے ہیں ہمیں دیکھتی رہتی ہے - جب کہتا ہوں ماں آپ بھی کھاؤ , تو کہتی ہے میں نے کھا لیا تھا - اسوقت لگتا ہے جھوٹ بولتی ہے "
"
بیٹا اگر تمھارے گھر کا خرچہ مل جاے تو پڑھو گے "
"
نہیں بالکل نہیں "
"
کیوں"
"
پڑھنے والے غریبوں سے نفرت کرتے ہیں انکل - ہمیں کسی پڑھے ہوۓ نے  کبھی نہیں پوچھا - قریب سے گزر جاتے ہیں  "
میں حیران بھی تھا اور شرمندہ بھی -
"
روز اسی مسجد میں آتا ہوں , کبھی کسی نے نہیں پوچھا - یہ سب نماز پڑھنے والے میرے ابا کو جانتے تھے - مگر ہمیں کوئی نہیں جانتا - "
بچہ زار و قطار رونے لگا
"
انکل جب باپ مر جاتا ہے تو سب اجنبی کیوں ہو جاتے ہیں "
میرے پاس بچے کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا - ایسے کتنے معصوم ہونگے جو حسرتوں سے زخمی ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment