نا ہنجار بیٹا
ہسپتال کا عملہ پریشان تھا کہ وہ کیا کریں -
بوڑھی عورت بضد تھی کہ لاش پہ صرف اسی کا حق ہے - خستہ حال میں وہ بار بار ایک ہی
بات کہہ رہی
" ہم دونوں کا کوئی وارث نہیں -
میں اسکی وارث ہوں صرف میں - ہم دونوں کا اس دنیا میں کوئی رشتہ دار نہیں - کوئی
نہیں ہمارا "
ادھر ایک خوش لباس نوجوان بار بار ہسپتال کے
عملے کو دبا رہا تھا کہ کاروائی مکمل کر کے امبولینس اسکے سپرد کی جاے - میں نے
بڑھیا کے قریب جا کر سرگوشی سے پوچھا -
" ماں جی !"
میرے الفاظ منہ سے نکلے تو اس نے میری طرف
کھا جانے والی نظروں سے دیکھا -
" میں کسی کی ماں نہیں ہوں - میرا کوئی
بیٹا نہیں - مجھے اس رشتے سے نفرت ہے , گالی لگتی ہے جب کوئی مجھے ماں کہے "
دکھ کی شدت کا اندازہ نا ممکن تھا - بیچاری
کے پاس کفن دفن کے لئے بھی کچھ نہیں تھا -
" یہ صاحب کون ہیں "
میں نے اس خوش پوش کے بارے میں پوچھا -
" میں نہیں جانتی یہ کون ہے - یہ کوئی
افسر ہے - جس کا کوئی ماں باپ نہیں - کچھ سال پہلے یہ ہمارا ہی بیٹا تھا - ہم گاؤں
کے لوگ سیدھا سادھا لباس پہنتے ہیں - اسے ملنے گئے - یہ اپنے افسر دوستوں کے ساتھ
بڑے سے بنگلے میں بیٹھا تھا - ہم نے سنا کہ یہ ان سے کہ رہا تھا , ہم اسکی زمینوں
پہ کام کرنے والے ہیں "
اس دن ہم نے اسکی زمینیں چھوڑ دیں اور دوسرے
گاؤں میں جا بسے - اس کو پتہ نہیں کس نے بتا دیا کہ اسکا باپ مر گیا ہے - یہ یہاں
ہمیں پریشان کرنے آ گیا "
مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کہوں -
" چلیں آپ بزرگ ہیں معاف کر دیں "
میں نے مناسب سمجھا کہ ممتا کو آواز دوں -
" نہیں کر سکتی - مرنے والا مجھے حکم دے
کر گیا ہے - کہ اس کو میری میت پہ میری چارپائی کو ہاتھ مت لگانے دینا - نہیں
لگانے دونگی - کبھی نہیں "
دکھ کی شدت اور دل پہ لگی ہوئی چوٹ بالکل
تازہ تھی -
مجھے احساس ہوا کہ کتنا غریب ہے یہ
سٹیٹس کا ڈسا ہوا افسر - کتنا بد قسمت ہے جس کے لئے ممتا بھی سو گئی -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment