" گود "
خوش پوش ، عمر رسیدہ شخص ، پارک کے ایک کونے میں بیٹھا ، عجیب سی بیتابی سے پہلو پہ پہلو بدل رہا تھا ۔ چند بچے اسکے ارد گرد جمع تھے اور شور کر رہے تھے ۔
" کیوں تنگ کر رہے ہو ، بابا جی کو "
ایک نوجوان بچوں کو ڈانٹتے ہوئے بولا
" انکل ! باباجی رو رہے ہیں ۔ اور کہہ رہے ہیں ماں بہت یاد آ رہی ہے "
ایک بچے نے چہکتے ہوئے نوجوان کو بتایا ۔ تو اس نوجوان کی سنجیدگی مسکراہٹ میں بدل گئی ۔ اب تو یوں سماں تھا جیسے سارے پارک والوں کو کھلونا مل گیا ہو ۔ ایک ایک کرکے ایک ہجوم اس سفید پوش بزرگ کے ارد گرد تھا ۔ وہ بار بار اپنی ٹانگ کو مسلتا اور درد کے عجیب سے شدت کا اظہار کرکے رونے لگتا ۔ تکلیف تو بہرحال تکلیف ہوتی ہے ، اسکی شدت کا اندازہ وہی کر سکتا ہے ، جس پر گذر رہی ہو ۔ مگر ایسا بھی کیا کہ بچوں کیطرح رونا شروع کر دیا جائے ۔ یہ وہ خیال تھا جو سب کو دل لگی پر اکسا رہا تھا ۔
" محترم ! آپ کچھ بتائیں گے کہ آپ کو کیا تکلیف ہے ۔ اور آپ کے رونے کا کیا سبب ہے "
ایک نوجوان نے پوچھا ، بابا جی نے دیکھا اور تڑپنے کے انداز میں بولے ۔
" بیٹا ! آج پندرہ دن سے شدید اذیت میں ہوں ۔ بہت درد ہوتی ہے ۔ میں درد کی شدت سے نہیں رو رہا ۔ بس ایک سال پہلے میری ماں اللہ کے پاس چلی گئی ہیں ۔ جب بھی کوئی تکلیف ہوتی تھی ، ہزاروں میل دور نہ جانے انہیں کیسے پتہ چل جاتا ہے ۔ اگلے ہی دن فون آ جایا کرتا تھا ۔ میں اپنا درد بتا دیا کرتا ۔ بس پتہ نہیں کیوں ، مجھے فوری آرام مل جاتا ۔ "
بابا جی نے کروٹ لی اور ٹانگ کو مسلتے ہوئے ، نہایت گلوگیر آواز میں بولے ۔
" یہ بچے میرا مذاق بنا رہے ہیں ۔ اللہ انکو یونہی مسکراتا رکھے ۔ اللہ انکی ماوں کو سلامت رکھے ۔ وہی بچہ چہکتا ہے جس کی ماں زندہ ہوتی ہے ۔ دوسرا بچہ تو مرجھا جاتا ہے ۔ میری طرح "
بابا جی نے " میری طرح " کہا تو سب لوگ ہنسنے لگے ۔
" بیٹا یقین کرو ، ماں کے جانے کے بعد سے ایسے ہی لگتا ہے کہ میں ایک بے سہارا بچہ ہوں ۔ جب تک ماں زندہ تھیں ، مجھے بچہ ہی بنائے رکھا ۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ میں بھی بڑا ہو گیا ہوں ۔ بوڑھا ہوتا جا رہا ہوں ۔ جب وہ کہا کرتیں " تو کب بڑا ہو گا " تو دل کرتا انکی گود میں سر رکھ کر سو جاوں "
بابا جی نے لمبی سانس لی
" ماں زندہ ہو تو سارے درد قریب نہیں آتے ۔ اب روز کوئی نہ کوئی درد جاگ جاتا ہے "
یہ کہہ کر اٹھے اور پارک کے دروازے کیطرف بڑھ گئے ۔
آزاد ھاشمی
Saturday, 14 April 2018
گود
تیرا گھر آباد ریے
" تیرا گھر آباد رہے "
باپ کی آنکھوں کا سمندر بیٹے کو دکھائی نہیں دے رہا تھا . بیٹا مسلسل اپنے نئے گھر کی تفصیل میں گم تھا.
" ابا یہ کمرہ ہمارا ہے , سارا سامان اٹلی سے منگوایا ہے . یہ دو کمرے بچوں کے , یہ مہمانوں کے لئے , یہ سرونٹ کوارٹر اور ...."
اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب آگئے . چیک کیا اور ایک لمبی لسٹ ادویات کی تھما دی . اس نے لسٹ کو تکئے کے نیچے رکھا اور التجا بھری نظروں سے بیٹے کیطرف دیکھا . نئے گھر کی کہانی ختم تھی . زمانے کی ستم ظریفی , اخراجات کا بوجھ , بچوں کی تعلیم اور مہنگائی کا رونا شروع ہو گیا .
" ابا ! آپ کا وقت ٹھیک تھا , تھوڑی سی تنخواہ میں گذر اوقات ہو جاتی تھی . ہم پڑھ بھی رہے تھے اور آپ ہمیشہ خوش نظر آتے تھے . مگر ہم لوگ تو عذاب میں ہیں . ابھی میں گھر سے نکلا تو مشکل سے گاڑی کے پٹرول کے پیسے تھے . "
باپ کا ضبط برقرار تھا , مگر ماں کی برداشت حد سے تجاوز کر گئی .
" تو کیا سمجھتا ہے , ہم تم سے ادویات کے پیسے مانگیں گے . تیرے آگے ہاتھ پھیلائیں گے . تجھے تیرا گھر مبارک . باپ ایک روز مر جائے گا . دفن کرنے آجانا "
وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی .
" ماں ! یہ ہسپتال ہے لوگ دیکھ رہے ہیں "
بیٹے نے بنچ سے اٹھتے ہوئے کہا
" یہ لوگ تو روز دیکھتے ہیں , جب ڈاکٹر پوچھتا ہے کہ آج پھر دوائی نہیں لی . اور روز یہ ساتھ والا مریض دوائی منگوا دیتا ہے . تم کیسی اولاد ہو . باپ مر رہا ہے تم گھر بنا رہے ہو . حال پوچھنے سے پہلے اپنے گھر کا ذکر سنانے لگتے ہو . جاو اللہ تمہارا بھلا کرے . اب مت آنا , جس دن یہ مر جائے گا اطلاع کر دونگی "
ماں نے منہ دوسری طرف کرتے ہوئے آنسو پونچھے اور بیٹا کمرے سے باہر نکل گیا . باپ کے رکے ہوئے آنسووں کا سیلاب بہہ نکلا .
" اے اللہ تو گواہ ہے ,میں نے تو رزق حلال کھلایا تھا ان کو . اچھی تربیت کی تھی . پھر ایسا کیوں "
باپ کا ضبط ٹوٹا اور سانس اکھڑ گیا .
ازاد ھاشمی
Friday, 13 April 2018
اگر تم کافروں کا کہا مانو گے
" اگر تم کافروں کا کہا مانو گے "
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ "
اگر تم ان کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تمہیں الٹے پاوں پھیر دیں گے ، اور تم گھاٹے میں پڑ جاو گے "
سوال یہ ہے کہ اتنی واضع تنبیہ ، ہمیں کیوں سمجھ نہیں آ رہی ۔ اتنے واضع الفاظ کے بعد بھی ہم کافروں کو اپنا رہبر بنائے بیٹھے ہیں ۔ انکی ماننا تو دور کی بات ہو گئی ہے ۔ ہم تو یہ باور کر چکے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں ۔ ہمارا حکومتی نظام کافروں کا دیا ہوا ،
ہمارا معاشی نظام کافروں کا ، ہمارا عدالتی نظام کافروں کا ، ہمارا معاشرہ کافروں کی طرز پر ، ہمارا تعلیمی نظام کافروں کا عنایت کردہ ۔
ایک ایسا مسلمان ، جو قران کی تعلیمات سے اگاہ نہیں ۔ اسکا عذر تو ہو سکتا ہے کہ مجھے خبر نہیں تھی ۔ مگر ان لوگوں کے پاس کیا عذر باقی ہے ، جو مذہب کی تعلیمات سے بخوبی اگاہ ہیں ۔ ان علماء کے پاس کیا جواب ہے ، جنہوں نے دین کی خدمت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔ انہوں نے اپنے مقلدین کو اللہ کی اس تنبیہ سے اگاہی کیوں نہیں دی ۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں قران پاک کی ہدایت سے سرفراز فرمایا ، ہم نے قران حفظ کر لیا ، تجوید سیکھ لی ، مگر سمجھ نہیں پائے کہ پیغام کیا تھا ۔
ہمیں فلاسفروں کی فلاسفی سمجھ آگئی ، منطق سیکھ لی ، دنیا بھر کے علوم پر دسترس حاصل کر لی ۔ اگر سمجھ نہیں آیا تو قران ۔ ہمیں کچھ مکاتب فکر کے کرتا دھرتا نے ڈرا دیا کہ قران سمجھنا عام ذہن کے بس میں ہی نہیں ۔
یہ ایک سازش تھی کافروں کی ، جو آہستہ آہستہ مسلمانوں کے ذہنوں پہ بٹھا دی گئی ، اور ہمیں الٹے پاوں روشنی چھوڑ کر گمراہی کی طرف موڑ دیا گیا ۔ آج ہم جس مقام پر آچکے ہیں ، اسے روشنی نہیں کہا جا سکتا ۔
یہ سب کافروں کی تقلید کے سبب ہے ۔
ازاد ھاشمی
تم کیوں روتےہو
"تم کیوں روتے ہو؟ "
سوشل میڈیا پر ایک کافر ، جسکا رنگ بھی گورا تھا اور جسکا وطن بھی نہ کشمیر تھا نہ پاکستان ۔ یہ کہتے ہوئے رو پڑا ۔
" کشمیر میں دس ہزار خواتین کی بیحرمتی کی گئی ۔ دس ہزار عورتوں کو بھارتیوں نے بے آبرو کیا "
وہ شخص جذبات سے مغلوب ہے جسکا ان کشمیری خواتین سے کوئی رشتہ نہیں ۔ نہ مذہب کا ، نہ تہذیب کا ، نہ علاقہ ایک ، نہ مزاج ایک ، نہ زبان ایک ۔ میری نظر میں اسکا ایک ایک آنسو مسلمانوں کی حمیت ، غیرت اور خودداری پہ تازیانہ ہے ۔ ہم بے حس قوم ، مردہ انسان ہیں ۔ اپنی بہو بیٹیوں کی حفاظت سے اسقدر غافل ہیں کہ ہماری مسلمان بہنیں اس عذاب سے گذر رہی ہیں ۔ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا ۔ عافیہ صدیقی بھی ہماری ہی ایک بیٹی تھی ۔ کس اذیت سے گذر رہی ہے ۔ ہم بے حس ہیں ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس گورے سے پوچھوں کہ تم کیوں روتے ہو ۔ ہمیں دیکھو ، ہم اپنی زندگی کو اپنی سمجھتے ہیں ۔ دوسروں کا دکھ پالنے والے ہمارے اجداد تھے ، ہم نہیں ۔ تم بھی آنسو پونچھ ڈالو ۔ جن قوموں کی غیرت مر جاتی ہے انکی بیٹیوں کو طاقتور اپنے لئے طوائفیں بنا لیا کرتے ہیں ۔ یہی تاریخ ہے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اسے کہوں ، جاو اپنے گھر آرام کرو ۔ ہمارے سکون کو برباد نہ کرو ۔ ہم ابھی بہت سارے دھندھوں میں الجھے بیٹھے ہیں ۔ ابھی ہم سیاست میں صادق اور امین ڈھونڈھ رہے ہیں ۔ انتخابات کی تیاری ہے ، ابھی ہمارے ضمیروں کی منڈی سجنی ہے ۔ ابھی بہت سارے مسلمانوں کو کافر کہنا ہے ۔ تو کیوں ہلکان ہو رہا ہے ۔ اب تو ہم خود اپنی معصوم بچیوں کو نوچنے کی مشق شروع کر رہے ہیں ۔ ہم نے کتنی محنت سے عدل کو دفن کیا ہے ۔ کتنی جانفشانی سے انصاف کا گلا گھونٹا ہے ۔ ہمیں اپنی غیرت کو قتل کرنے میں بہت مشکل سے گذرنا پڑا ہے ۔ تو پھر سے ہمیں محمد بن قاسم بنانے پہ کیوں تلا بیٹھا ہے ۔ پاگل کہیں کا ۔ سمجھ رہا ہے کہ ہماری رگوں میں ابھی اسلاف کا خون دوڑ رہا ہے ۔ ہم سود کھانے والی قوم بن گئے ہیں ۔ ہم حرام کو کمیشن کہہ کر کھا جاتے ہیں ۔ اب اسلاف والی حریت سے ہمارا کوئی ناطہ نہیں ۔ جا ہماری کشمیری بہنوں کیلئے مت رو ۔ ہم دیکھ لیں گے یہ سارے معاملات ۔ ہم نے ایک بڑے سے پیٹ والا ملا رکھا ہوا ہے ۔ اسے قوم کا خون پلاتے ہیں کہ اس کشمیر کے ظلم پر کچھ کرے ۔ وہ ابھی مصروف ہے ، اسے سب ڈھونگ آتے ہیں ۔ تو جا گورے بابا ۔ جا ہمارے لئے مت رو ۔
آزاد ھاشمی
بنیادی حقوق سے محرومی
" بنیادی حقوق کی محرومی "
پاکستانی سیاست کا المیہ ہے کہ سیاستدان شعور سے عاری ہیں ۔ انسانی ہمدردی نام کا شائبہ تک انکے دلوں میں موجود نہیں ۔ نمود و نمائش ، جھوٹی تسلیاں اور باہمی اختلافات سے سیاسی مفادات حاصل کرنا انکی سیاست کے اہم گر ہیں ۔ انکی نظر میں کچھ مخصوص علاقوں کو مراعات سے نواز دینا ، ترقی ہے ۔ یہ جانتے ہی نہیں کہ بنیادی حقوق اولیت رکھتے ہیں اور ہر بنیادی حق ہر شہری اور دیہاتی کا مساوی ہے ۔ شہروں کی جگمگاتی روشنیوں کا قطعی مطلب نہیں کہ پسماندہ علاقے اندھیروں میں ڈوبے رہیں ۔ شہروں اور چند مخصوص علاقوں کو جنت بنانے کے ارادے اور بہت سارے علاقوں سے بنیادی سہولتوں کے فقدان نے احساس محرومی کو جنم دیا ۔ کیسے ممکن ہے کہ جن کے سامنے لوگ ہر سامان آسائش سے مستفید ہو رہے ہوں اور وہ پینے کے پانی کیلئے میلوں سفر کریں ۔ تو ان لوگوں سے وطن کی محبت کیسے توقع کی جا سکتی ہے ۔ جسکا بچہ علاج سے محرومی کے باعث اسکے ہاتھوں میں تڑپ تڑپ کر مرے گا ،اس سے حب الوطنی کا سوچنا بھی حماقت نہیں تو کیا ہے ۔ تھر کے لوگ ، کس کسمپرسی کے عالم میں ہیں ، کیا حکمرانوں کو علم نہیں ۔ پنجاب کے کتنے علاقے اپنے حقوق سے محروم ہیں ، کیا لاہور کی تزئین و آرائش والوں کو علم نہیں ۔ بلوچستان کے لوگوں کی ضروریات زندگی کے فقدان سے کونسا سیاستدان اگاہ نہیں ، پختونخواہ میں کتنے لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہیں ، کون نہیں جانتا ۔ دنیا بھر سے جو ترقیاتی امداد ان علاقوں کیلئے ملتی ہے وہ ان پر خرچ کیوں نہیں ہوتی ۔ ہم شور مچاتے ہیں کہ بھارت ، امریکہ ، برطانیہ ، اسرائیل ہمارے اندر اختلافات پیدا کرتے ہیں ۔ ہمارے لوگوں کو بغاوت پر اکساتے ہیں ۔ کیا بنیادی حقوق کی محرومی اصل وجہ نہیں ۔ اگر ہر پاکستانی کو مساوی وسائل مل جائیں تو بغاوت کی چنگاری کبھی نہیں سلگے گی ۔ جو حق مانگتا ہیں ہمارے سیاستدان اسے غدار قرار دے دیتے ہیں ۔ کالا باغ ڈیم بنے گا تو پانی کا مسئلہ حل ہوگا ۔ ارے اگر کچھ لوگوں کے تحفظات ہیں ، اس سے فساد کی راہ نکلتی ہے تو چھوڑو ، دوسرے ڈیم بنا لو ۔ بہانے کیوں تلاش کرتے ہو ۔ سرائکی بولنے والے اپنے نام سے صوبہ چاہتے ہیں تو بنا دینے میں ملک اور قوم کا کیا نقصان ہے ۔ انتظامی یونٹ جتنا چھوٹا ہو گا اتنا ہی انتظام و انصرام آسان ہو گا ۔ ضد کس بات کی ۔ میری نظر میں غدار نہ مہاجر ہیں ، نہ پٹھان ، نہ بلوچ ، نہ سندھی اور نہ ہی پنجابی غاصب ہیں ۔ غدار سیاستدان ہیں ، بیورو کریٹ ہیں ، جج ہیں ، حکمران ہیں اور ہر وہ ادارہ ہے جو اپنے فرائض کو چھوڑ کر اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہیں ۔ وسائل عوام مہیا کرتے ہیں ، ان وسائل کو عوام پر خرچ کیا جائے تو کبھی غداری نہیں ہوگی ۔ جب کسی علاقے کو بنیادی حقوق سے مسلسل محروم رکھا جائے گا تو بین الاقوامی ادارے متحرک بھی ہونگے اور مداخلت کا امکان بھی پیدا ہو گا ۔ اسطرف خصوصی توجہ کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستانی کو پہلے بنیادی حقوق مہیا کئے جائیں ، پھر شہروں کو دلہن بنایا جائے ۔
آزاد ھاشمی
شب معراج
" شب معراج "
بہت سوچ رہا تھا کہ پوری کائنات کے ہادیؐ کی ذات پر اللہ تعالیٰ کے اس خصوصی انعام پر کچھ لکھوں ۔ اور آپؐ کے حضور کسی کونے میں جگہ پا لوں ۔ لفظوں کی تلاش نے ارادے کی تکمیل میں پورا دن گذار دیا ۔ معلوم نہیں کہ اس مہمان داری کیلئے کونسے الفاظ ہونگے ، جس میں ساری کائنات کے خالق نے سواری بھیجی کہ میرے حبیبؐ کو لیکر آو ۔ ایسی دعوت بلانے والے کی محبت کی حد ہے اور بلائے جانے والے کی شان کا ایک نشان ۔ کیسی مہمان داری کہ اللہ اور اللہ کےحبیبؐ کےسواکوئی دوسرا نہیں ۔ کیوں بلایا ، کیا کہا ، کیا سنا ، کیا عطا کیا ، کیا ضیافت کی ، کون جان سکتا ہے اور کون اندازہ لگا سکتا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ رات معراج کی رات تھی ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ جس رات رب العلمین بلائے اور رحمتہ العلمین جائے ، اس کیلئے معراج بہت چھوٹا لفظ ہے ۔ معراج کی بھی کوئی حد ہو گی ، مگر یہ تو معراج سے بہت آگے کا مقام لگتا ہے ۔
لوگ کہتے ہیں کہ اس رات پوری کائنات رک گئی تھی ، وقت ٹھہر گیا تھا ، مدینہ سے بیت المقدس ، بیت المقدس سے عرش بریں اور پھر ملاقات ، پھر واپسی ، وقت رکا ہی ہو گا تو اس ضیافت کی تکمیل ہوئی ہو گی ۔ کون جانے یہ ملاقات ایک رات کی تھی یا ایک صدی کی ۔ وقت رک جائے تو دن رات کا پیمانہ بھی رک جاتا ہے ۔
لوگ کہتے ہیں کہ اس رات اللہ نے آپ کو بہت سارے انعامات سے نوازا ۔ میں سوچتا ہوں کہ جس کیلئے کائنات تخلیق کی ، اس کیلئے کیا انعامات باقی تھے جو دینے کیلئے بلایا ۔ نبوت تو گھر بھیج دی تھی ۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ ملاقات کا اذن تھا ۔ اللہ اپنے حبیبؐ کو وہ بھی دکھانا چاہتا تھا جو اسوقت تک اوجھل تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اسے آپؐ کی معراج کیوں کہتے ہیں ۔ یہ تو اس رات کی معراج ہے ، یہ عروج تو اس رات کو نصیب ہوا کہ اللہ کے حبیبؐ کو اللہ نے مہمان بنا کر دعوت دی ۔
کوئی حد ہے انکے عروج کی
کہ سوئے منتہا وہ چلے نبیؐ
آزاد ھاشمی
اصل نا اہل کون
" اصل نا اہل کون ؟ "
آج پوری قوم تقسیم ہو رہی ہے ۔ کچھ بہت خوش ہیں کہ نواز شریف کو تا عمر نا اہل قرار دے دیا گیا ۔ کچھ خفا ہیں کہ اسے کیوں نا اہل قرار دیا ۔ دونوں غلط انداز سے سوچ رہے ہیں ۔ یہ وہ آئینہ ہے جو قوم کو دکھایا گیا ، جو دانشوروں کو دکھایا گیا ، جو جمہوریت کے دیوانوں کو دکھایا گیا ، جو ملکی حفاظت کے ذمہ داروں کو دکھایا گیا ، جو تمام سیاسی لیڈروں کو دکھایا گیا ، جو تیس پینتیس سال اسمبلی میں بیٹھے ممبران کو دکھایا گیا ۔ کہ تم سب نا اہل ہو ۔ تم نا اہلوں کو تیس پینتیس سال پتہ ہی نہیں چلا کہ تم سب نا اہل شخص کے ساتھ چلتے رہے ہو ۔ یہ آئینہ ہے جو ضیاءالحق کو دکھایا گیا کہ تم کسقدر نا اہل تھے جو اس شخص کو قوم کی تقدیر سونپ کر چلے گئے ۔ یہ آئینہ زرداری کو بھی دکھایا گیا کہ تم نے کس شخص سے مفاہمت کئے رکھی ۔ پاکستان کی سب سے زیادہ منظم جماعت ، جماعت اسلامی کو بھی دکھایا گیا ، کہ تمہاری سیاسی بسیرت کتنی سطحی ہے ۔ ملکی حفاظت کی ذمہ دار ایجینسیوں کو دکھایا گیا کہ تم کسقدر احمق تھے کہ اس نا اہل کو سلیوٹ کرتے رہے ۔ ووٹروں کو دکھایا گیا کہ یہ ہے تمہارا شعور ۔ جمہوریت کو ننگا کیا گیا کہ یہ ہے جمہوریت کی اصل ۔ دانشوروں کو دکھایا گیا کہ یہ تھی تمہاری دانش ۔
شرمندگی اور ندامت ، دراصل ان سب کیلئے ہے جو جمہوریت پر مرنے کو شہادت سمجھ لیتے ہیں ۔ یہ ہے جمہوریت کہ ملک کی نا اہل اکثریت نے مل کر نا اہل کے ہاتھوں ملک کی تقدیر لکھ دی ۔
تصویر کا دوسرا رخ ہے کہ عدلیہ نے ملکر سازش کی ، اور ایک موثر سیاستدان کو اٹھا کر میدان سے باہر پھینک دیا ۔ اسے بھی قوم کی نا اہلی کہا جائے گا کہ سسٹم میں اسقدر گندگی بھر گئی کہ جو اختیارات میں آئے ، ملک کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لے ۔ اور قوم ماٹی کا مادھو بن کر دیکھتی رہے ۔
جس دن ہمیں یہ سمجھ آگئی کہ جس نظام سے ہم جڑے بیٹھے ہیں ، اس سے کبھی کوئی اہل شخص کرسی پر نہیں بیٹھ پائے گا ۔ ایک نااہل کے بعد دوسرا ، تیسرا اور چوتھا سب نا اہل ہی آئیں گے ۔ کیونکہ منتخب کرنے والوں میں کتنے ہیں جن کو وطن کی اصل ضرورت کا احساس ہے ۔ کتنے ہیں جو خوف سے ووٹ ڈالتے ہیں ۔ کتنے ہیں جو بدمعاش رشتے دار کیساتھ رشتہ داری نبھاتے ہیں ۔ کتنے ہیں جو ووٹ کو وطن کی امانت سمجھتے ہیں اور کتنے ہیں جو برادری کا حق سمجھتے ہیں ۔
ہمیں یقین کر لینا چاہئیے کہ ہمارا موجودہ نظام نا اہل ہے ۔ اسکی جگہ کوئی اہل نظام لانا ہو گا ۔ وگرنہ نا اہل آتے رہیں گے ۔ ایک اور بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئیے کہ کوئی بھی شخص نا اہل ہے تو شروع سے ہی نا اہل ہے ۔ کیونکہ اہل شخص کبھی نا اہل نہیں ہوتا ۔
آزاد ہاشمی
اللہ اور رسول کا حکم مانو
" اللہ اور رسول کا حکم مانو "
اللہ تعالیٰ نے اپنی مبین و بلیغ کتاب میں واضع اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ اللہ اور رسول کا حکم مانو ، اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔
کیا یہ سمجھنا آسان نہیں ہو گیا کہ ہماری ساری رسوائی ، ساری بد امنی ، دعاؤں کی قبولیت میں رکاوٹ ، افلاس ، باہمی چپلقش اور ہر میدان میں پسپائی کیوں ہے ۔
جب اللہ کے رحمت والے ہاتھ اٹھ جائیں ، تو شیطان کی گرفت مضبوط ہو جاتی ہے ۔ اور شیطان کا انتقام یہی ہے کہ ابن آدم رسوائی کا شکار رہے ، گناہوں سے گھرا رہے ، بے سکون اور خوف کے عالم میں رہے ۔ باہمی منافرت پھیلے اور ایک دوسرے کا خون بہائیں ۔ گمراہوں اور مغضوبوں کی پیروی کی جائے ۔ یہ انتقام ہے شیطان کا ۔ اور ہم شیطان کے انتقام کا شکار اسلئے ہیں کہ ہم نے اللہ کے احکامات ماننا ، اللہ اور رسول کی اطاعت کرنا چھوڑ دیا ۔
اللہ نے حکم دیا کہ میری رسی تھام لو ، ہم نے جمہوریت کی رسی پکڑ لی ۔ اللہ نے حکم دیا تفرقہ بندی نہ کرو ، ہم نے مسالک ، سیاست ، لسانیت اور علاقائی گروہ بنا لئے ۔
اللہ نے کہا سود حرام ہے ، میرے ساتھ جنگ ہے ، ہم نے اپنی معیشت کی بنیاد سود پر رکھ دی ۔ اللہ نے کہا بے حیائی مت کرو ، ہم نے ثقافت کے نام پر ناچ گانا شروع کر دیا ۔ اللہ نے کہا جوا ، پانسے شیطان کے کھیل ہیں ، ہم نے جوے کے کئی راستے کھول لئے ۔
رحمان کی رحمت کی شرط اطاعت ، حکم کی تعمیل اور اسکے راستے پر چلنا ہے ۔
سنجیدگی سے سوچنا اور عمل کرنا ہو گا ۔
ازاد ھاشمی
Wednesday, 11 April 2018
باب العلم
" باب العلم علی کرم اللہ وجہہ "
اللہ تعالیٰ سے شیطان مردود ، بضد تھا کہ آدم کی تخلیق زمین پر فساد کا باعث ہو گی ۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کی فوقیت کیلئے کچھ علم سکھا دیا ، جو فرشتے نہیں جانتے تھے ۔ گویا علم انسان کی معراج کا ثبوت ہوا کرتا ہے ۔ اسی علم کی بنا پر انبیاء کی فضیلت مقدم ہوتی ہے اور وہ عام انسانوں سے بلند مقام پر فائز ہوتے ہیں ۔ اللہ نے اپنے تمام علوم کا کمال قران کو بنایا اور یہ قران اپنے حبیب پر نازل فرما دیا ۔ علم اللہ کی امانت ، قران اللہ کی امانت ، کائنات کے امین کے سپرد کر دی ۔ ایسی ہستی ، جس کی امانت داری کے دشمن بھی معترف تھے ۔ امانت داری کی معراج کی گواہی ، وہ شب ہے جب اللہ کے نبی کے پاس ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہیں اور وقت بھی نہیں کہ لوگوں کی امانتیں واپس کی جا سکیں ۔ حکم ربی بھی ہے کہ ہجرت کی جائے ، امانت داری کا تقاضا بھی کہ امانتیں واپس لوٹائے بغیر نہ نکلا جائے ۔ ایسے میں ایک ایسے امین کی تلاش ، جو نبی کی امانت داری کا امین ہو ۔ نبی کے بستر مبارک کے تقدس کا اہل ہو ، جسے نبی پاک جان سے زیادہ عزیز ہو ، جس کی فراست نبی پاک کی فراست کے قریب تر ہو ، جس پر نبی کا اعتماد کامل ہو ، جس کے تقرر پر اللہ کی تائید حاصل ہو ۔
وہ باب العلم علی کرم اللہ وجہہ تھے ، جنہیں علم کی وہ میراث بھی نصیب تھی ، کہ اللہ کے حبیب نے اعلان فرمایا
انا مدینتہ العلم و علی بابہا
آج اسی ہستی کا یوم پیدائش ۔ اسی جگہ جہاں پاکیزگی اور طہارت کا تصور اپنی پوری معراج پر ہے ۔ اللہ کے گھر میں ، کائنات کے امین کے امین کی آمد کا دن ۔ مبارک دن ہر اس کے لئے ، جسے رسول خدا سے محبت ہے اسے اس مولود کعبہ سے بھی محبت کا ہونا لازم ٹھہرا ۔
ازاد ہاشمی
شہروں کے نام
*```"شہروں کے نام کیسے پڑے"```*
. _اپنے وطن سے محبت ہو تو اس کے شہروں سے محبت ہونا فطری بات ہے۔ پاکستان کے سارے شہر ہمارے لیے اتنے ہی پیارے اور محترم ہیں جتنا کہ ہمیں اپنا شہر۔ ان شہروں کے نام کیسے رکھے گئے۔ اس حوالے سے ایک معلوماتی مضمون پیشِ خدمت ہے۔_
*```اسلام آباد```*
۱۹۵۹ء میں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مسلمانانِ پاکستان کے مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔
*```راولپنڈی```*
یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔
*```کراچی```*
تقریباً ۲۲۰ سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اِس کا نام کلاچی پڑ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ ۱۹۲۵ء میں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۹ء تک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔
*```حیدرآباد```*
اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدرآباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے ۱۷۶۸ء میں رکھی۔ ۱۸۴۳ء میں انگریزوں نے شہر پر قبضہ کرلیا۔ اسے ۱۹۳۵ء میں ضلع کا درجہ ملا۔
*```پشاور```*
پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑ گیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔
*```کوئٹہ```*
لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔
*```ٹوبہ ٹیک سنگھ```*
اس شہر کا نام ایک سکھ "ٹیکو سنگھ" کے نام پہ ہے "ٹوبہ" تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" بھی اسی شہر سے منسوب ہے
*```سرگودھا```*
یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ ۱۹۰۳ء میں باقاعدہ آباد ہوا۔
*```بہاولپور```*
نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔
*```ملتان```*
کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ ۴ ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ’’کیساپور‘‘ بتایا جاتا ہے۔
*```فیصل آباد```*
اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اُس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔
*```رحیم یار خاں```*
بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔
*```عبدالحکیم```*
جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے۔
*```ساہیوال```*
یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ’’منٹگمری‘‘ کہلایا۔ نومبر ۱۹۶۶ء صدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا ۔
*```سیالکوٹ```*
۲ ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔
*```گوجرانوالہ```*
ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے ۱۳۶۵ء میں آباد کیا اور اس کا نام ’’خان پور‘‘ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر گوجرانوالہ رکھ دیا۔
*```شیخوپورہ```*
مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ’’شیخو‘‘ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔
*```ہڑپہ```*
یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے ۱۲ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو ۵ ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ’’ہری روپا‘‘ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ’’ہری روپا‘‘ کو ہڑپہ بنا دیا۔
*```ٹیکسلا```*
گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے ۲۲ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ۳۲۶ قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا تھا۔
*```بہاول نگر```*
ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔
*```مظفر گڑھ```*
والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ ۱۸۸۰ء تک اس کا نام ’’خان گڑھ‘‘ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔
*```میانوالی```*
ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ’’میانوالی‘‘ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔
*```ڈیرہ غازی خان```*
پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔
*```جھنگ```*
یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ’’جھگی سیال‘‘ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔