" ماں ! مت رویا کر "
بچہ پھٹے پرانے کپڑوں , مٹی سے لتھڑے ہوۓ ہاتھ پاؤں , اداس اداس چہرے کے ساتھ , اپنی جھونپڑی کے باہر کھڑا , سکول جاتے بچوں کو دیکھے جا رہا تھا -
اسکی کی معصوم سی سوچوں میں بھی خواب ہوں گے - کہ ایک دن وہ بھی سکول جایا کرے گا - کیونکہ وہ جب بھی ماں سے پوچھتا - ماں میں کب سکول جاؤں گا - ماں ہمیشہ یہی کہتی , اب کے بیگار ملے گی تو سکول بھیجا کروں گی - اسے کبھی سمجھ نہیں آیا کہ ماں وعدہ کرنے کے بعد رونے کیوں لگتی ہے - آج اس نے ماں یہ سوال نہیں دہرایا , بلکہ سوچ کر خود ہی رونے لگا - ماں تو ماں ہوتی ہے - اولاد کا درد تو ہمیشہ اسکے اپنے سینے میں ہوتا ہے -
" ماں ! تو مت رویا کر - میں سمجھ گیا ہوں کہ ہمارے پاس پیسے نہیں - آج کے بعد کبھی سکول کا نام نہیں لوں گا - بھائی کی طرح تیرا اور ابا کا ہاتھ بٹایا کروں گا - ماں پتہ ہے عید پر سب ایک دوسرے کے گلے مل رہے تھے - ابا سے کسی نے بھی ہاتھ بھی نہیں ملایا - یہ سب لوگ ہم سے ناراض کیوں ہیں "
" اب چپ بھی کرو گے یا ماں کا جنازہ اٹھانا چاہتے ہو "
ماں معصوم بچے کو بانہوں میں سمیٹ کر رو رہی تھی - اور کر بھی کیا سکتی تھی - یہ آنسو ہی تو ہیں جو غریب کے پاس فراوانی سے ہوتے ہیں -
آزاد ہاشمی
Monday, 9 April 2018
ماں مت رویا کر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment