Monday, 9 April 2018

مرکزیت اور مسلمان

" مرکزیت اور مسلمان "
اسلام  دشمن قوتوں کا سب سے پہلا اور انتہائی کارگر وار یہ تھا , کہ انہوں نے مسلمانوں سے مرکزیت کا تصور ختم کیا - کسی ایک نظام , قانون اور طرز زندگی کو ختم کرنے کیلیے جو ہراول دستے استعمال کیے گئے , وہ سب مسلمان ہی تھے -
ہماری سوچ علاقائی حدود میں قید ہو گئی مسلمان ہونا ثانوی ہو گیا -
آج بھی مذہبی سوال ایک طرف , جو جو لوگ ایک مرکز کے تحت ہیں , نہایت منظم بھی ہیں اور کامیاب بھی - رنگ , نسل , زبان , ثقافت  , علاقائی  تقسیم, انکے راستوں  کی رکاوٹ نہیں بنتی -
دوسرا وار مسلمانوں میں گروہی رحجان کو پروان چڑھا کر کیا - ہم مسلمان ہونے سے پہلے , شیعہ , سنی , وہابی , دیو بندی وغیرہ وغیرہ  بن جاتے ہیں - اور سازشی  نہایت کامیابی سے اپنے مقاصد حاصل کر لیتے ہیں - کئی اسلامی ممالک اسکی بھینٹ چڑھ گئے , کئی ایک دوسرے کے دشمن بن بیٹھے ہیں اور فوج کشی ہو رہی ہے - حد تو یہ ہے کہ یہی آگ پہلے عام عبادت گاہوں کو جلا رہی تھی , اب حرمین شریفین کی دیواروں تک پہنچ گئی ہے -
اسلام دشمن خوش ہیں اور پر امید ہیں کہ ایک روز مسلمان باہمی خلفشار سے خود بخود اپنی طاقت کھو دینگے -
مجھے اور آپکو اس سازش پر غور کرنا ہو گی اور اسکا آلہ کار بننے سے گریز کرنا ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment