" اللہ سے کیسا حساب ؟ "
عجیب سا لگتا ہے جب ہم انگلیوں پر اور کبھی تسبیح کے دانوں پر اللہ کے اسماء حسنہ کا شمار کرتے ہیں ۔ پھر حساب کھول کر سوچتے ہیں کہ ہم نے اللہ کا یہ مبارک نام اتنی بار دہرایا ہے ، اب ہمارا اس اس نعمت اور انعام پر حق ہے ۔ کبھی حساب کرتے ہیں کہ اللہ کے گھر میں ایک نماز پڑھ لی ، اب اتنے ہندسوں کا ثواب جمع ہو گیا ، مسجد نبوی میں نماز پڑھ لی اتنا اتنا ثواب ہو گیا ۔ ہم انسان ہیں ، کوئی عبادت ، کوئی عمل اور کوئی ذکر ثواب کے حساب کے بغیر نہیں کرتے ۔ حساب بھی اس ذات سے جو انسان کو نوازے جاتا ہے اور کبھی حساب نہیں مانگتا کہ میں نے اتنا دیا تو نے کتنی عبادت کی ، کتنی تسبیح گھمائی ۔
چونکہ وہ بے نیاز ہے ، نہ اسے عطا کرنے کیلئے کوئی اجرت چاہئیے ، نہ تسبیح کی ضرورت ہے اور نہ ذکر کی ۔ اسے تو توبہ کا ایک آنسو ، جو روح کی گہرائی سے نکلے ، عطاوں کے خزانے کھول دینے کیلئے کافی ہے ۔ کبھی غور تو کرو کہ جن کو نواز رکھا ہے ، ان میں کتنے مشرک ہیں ، کتنے کافر ہیں ، کتنے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں ، کتنے اسکے وجود سے انکاری ہیں ۔ جو عسرت میں ہیں ان میں کتنے نبی ہیں ، کتنے ولی ہیں ، کتنے زاہد بے ریا ہیں ، کتنے عابد ہیں اور کتنے مجاہد ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالی کی شان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ اپنی مخلوق سے حساب نہ کرے ۔ اگر حساب کر لیا تو اسکی نعمتوں کا حساب تو عبادت و ریاضت سے برابر نہیں ہو گا ۔ دل کو دھڑکتے رکھنے کیلئے کتنی تسبیح کی ضرورت پڑتی ، کون تھا جو پوری کر لیتا ۔ کون تھا جو اسکی رحمتوں کا شمار کر لیتا ۔ روز ایک موت کے بعد صبح کو زندگی کا فجر کی نماز کے دو فرض سے کیسے چکتا ہو جاتا ۔ بینائی کی نعمت کی قیمت کتنے سجدے ہوتے ۔ کیسا حساب ۔ بے حساب دینے والے سے حساب کرنا کچھ سمجھ نہیں آتا ۔ ہاں ایک ایک نعمت پر "شکر" بنتا ہے ۔ غنیمت جانو کہ وہ حساب نہیں کھولتا صرف رحم کرتا ہے ۔ جس دن حساب کر دیا ایک نعمت کے بدلے پوری زندگی کی عبادت بھی کم پڑ جائیگی ۔ اسکی زمین پر چلنے کا حساب ادا نہیں ہو سکے گا ۔ بس اسکی رحمتوں کو یاد کرو اور اسکا شکر کرو ۔ اس سے توفیق مانگو کہ اسکا ذکر کر سکو ۔ وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ تم مانگتے رہو ، اسکے سامنے گڑگڑاتے رہو ۔ اور وہ دیتا رہے ۔ جو دے دے اس پر شکر کرو ، جو نہ دے اسکی شکایت نہ کرو کیونکہ حساب میں میرا اور تمہارا جو حق بنتا ہے اس سے کہیں زیادہ وہ پہلے ہی دے چکا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 11 April 2018
اللہ سے کیسا حساب
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment