" شب معراج "
بہت سوچ رہا تھا کہ پوری کائنات کے ہادیؐ کی ذات پر اللہ تعالیٰ کے اس خصوصی انعام پر کچھ لکھوں ۔ اور آپؐ کے حضور کسی کونے میں جگہ پا لوں ۔ لفظوں کی تلاش نے ارادے کی تکمیل میں پورا دن گذار دیا ۔ معلوم نہیں کہ اس مہمان داری کیلئے کونسے الفاظ ہونگے ، جس میں ساری کائنات کے خالق نے سواری بھیجی کہ میرے حبیبؐ کو لیکر آو ۔ ایسی دعوت بلانے والے کی محبت کی حد ہے اور بلائے جانے والے کی شان کا ایک نشان ۔ کیسی مہمان داری کہ اللہ اور اللہ کےحبیبؐ کےسواکوئی دوسرا نہیں ۔ کیوں بلایا ، کیا کہا ، کیا سنا ، کیا عطا کیا ، کیا ضیافت کی ، کون جان سکتا ہے اور کون اندازہ لگا سکتا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ رات معراج کی رات تھی ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ جس رات رب العلمین بلائے اور رحمتہ العلمین جائے ، اس کیلئے معراج بہت چھوٹا لفظ ہے ۔ معراج کی بھی کوئی حد ہو گی ، مگر یہ تو معراج سے بہت آگے کا مقام لگتا ہے ۔
لوگ کہتے ہیں کہ اس رات پوری کائنات رک گئی تھی ، وقت ٹھہر گیا تھا ، مدینہ سے بیت المقدس ، بیت المقدس سے عرش بریں اور پھر ملاقات ، پھر واپسی ، وقت رکا ہی ہو گا تو اس ضیافت کی تکمیل ہوئی ہو گی ۔ کون جانے یہ ملاقات ایک رات کی تھی یا ایک صدی کی ۔ وقت رک جائے تو دن رات کا پیمانہ بھی رک جاتا ہے ۔
لوگ کہتے ہیں کہ اس رات اللہ نے آپ کو بہت سارے انعامات سے نوازا ۔ میں سوچتا ہوں کہ جس کیلئے کائنات تخلیق کی ، اس کیلئے کیا انعامات باقی تھے جو دینے کیلئے بلایا ۔ نبوت تو گھر بھیج دی تھی ۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ ملاقات کا اذن تھا ۔ اللہ اپنے حبیبؐ کو وہ بھی دکھانا چاہتا تھا جو اسوقت تک اوجھل تھا ۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اسے آپؐ کی معراج کیوں کہتے ہیں ۔ یہ تو اس رات کی معراج ہے ، یہ عروج تو اس رات کو نصیب ہوا کہ اللہ کے حبیبؐ کو اللہ نے مہمان بنا کر دعوت دی ۔
کوئی حد ہے انکے عروج کی
کہ سوئے منتہا وہ چلے نبیؐ
آزاد ھاشمی
Friday, 13 April 2018
شب معراج
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment