" رسولؐ کو تکلیف پہنچانا "
اللہ علیم و حکیم نے سورہ احزاب ٥٧ میں فرمایا ہے کہ
" جو لوگ اللہ اور رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں ۔ اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور انکے لئے وہ عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا "
شیطان مردود نے تخلیق آدمؑ پر حکم ربی سے سرتابی بھی کی اور تکبر میں اعلان بھی کیا کہ وہ نسل آدم کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ یہ ایک ایسا چیلنج تھا جو قادر مطلق کے غضب کیلئے کافی تھا ۔ مخلوق میں وہ مجال کہاں کہ خالق سے ٹکراو کرے ۔ اللہ نے اس مردود کو وقت دیا اور فرمایا کہ تو میرے بندوں کو نہیں بہکا سکے گا ۔ اللہ کی تخلیق ہو کر جب کوئی شیطان کی طرف کھڑا ہو جاتا ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بہت ناگوار لگتا ہے ۔ پھر اللہ کیطرف کھڑے بندوں کو شیطان کے بندے تکلیف دیتے ہیں تو رحمت باری تعالیٰ کی ناگواری کا بڑھنا لازم ہے ۔ گویا شیطان کی کھلی حمایت، اللہ کی کھلی نافرمانی ہے ۔ ایسی کیفیت اسوقت بھی ہو جاتی ہے جب رسولؐ کو اذیت دینے والا عمل کیا جائے ۔ رسولؐ کی رسالت اور مقام پر عام فرد جیسا تاثر یقینی طور پر رسولؐ کو ایذا پہنچانا ہے ۔ جس بات یا عمل کی آپؐ نے تلقین فرمائی اس پر عمل کرنے کی بجائے اس کے الٹ کیا جائے تو یہ بھی ایذا ہی کہلائے گا ۔ جو رسولؐ نے نہیں کہا ، آپ سے منسوب کیا جائے یہ بھی ایذا ہی ہے ۔ جس سے رسولؐ محبت کرے اسے دکھ دیا جائے ، یہ بھی ایذا ہے ۔ فطری عمل ہے ہر انسان اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد سے بے پناہ محبت کرتا ہے ۔ اپنے دکھ اور درد سے زیادہ اولاد کا درد تکلیف دیتا ہے ۔ اس پر کھلے لفظوں میں آپؐ نے اعلان بھی فرمایا کہ جس نے میرے حسنؑ اور حسینؑ کو دکھ دیا اس نے مجھے دکھ دیا ۔ اب ایسے دکھ دینے والوں کو ، خواہ کوئی بھی ہو ، اللہ کا فیصلہ ہے کہ اسکے لئے ذلت والا عذاب تیار ہے ، اس پر اللہ کی اس جہاں میں بھی لعنت ہے اور اگلے جہاں میں بھی ۔ حیرانی ہے کہ قران کے اتنے واضع حکم کے باوجود یزید کی طرفداری کی جسارت کی جاتی ہے ۔ اور اسے اللہ کے رسولؐ سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ کئی احادیث دلائل کیلئے پیش کی جاتی ہیں ۔ جبکہ قران کے واضع فیصلے کے بعد کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔
آزاد ھاشمی
Tuesday, 10 April 2018
رسولؐ کو ایذا دینا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment