" اصل نا اہل کون ؟ "
آج پوری قوم تقسیم ہو رہی ہے ۔ کچھ بہت خوش ہیں کہ نواز شریف کو تا عمر نا اہل قرار دے دیا گیا ۔ کچھ خفا ہیں کہ اسے کیوں نا اہل قرار دیا ۔ دونوں غلط انداز سے سوچ رہے ہیں ۔ یہ وہ آئینہ ہے جو قوم کو دکھایا گیا ، جو دانشوروں کو دکھایا گیا ، جو جمہوریت کے دیوانوں کو دکھایا گیا ، جو ملکی حفاظت کے ذمہ داروں کو دکھایا گیا ، جو تمام سیاسی لیڈروں کو دکھایا گیا ، جو تیس پینتیس سال اسمبلی میں بیٹھے ممبران کو دکھایا گیا ۔ کہ تم سب نا اہل ہو ۔ تم نا اہلوں کو تیس پینتیس سال پتہ ہی نہیں چلا کہ تم سب نا اہل شخص کے ساتھ چلتے رہے ہو ۔ یہ آئینہ ہے جو ضیاءالحق کو دکھایا گیا کہ تم کسقدر نا اہل تھے جو اس شخص کو قوم کی تقدیر سونپ کر چلے گئے ۔ یہ آئینہ زرداری کو بھی دکھایا گیا کہ تم نے کس شخص سے مفاہمت کئے رکھی ۔ پاکستان کی سب سے زیادہ منظم جماعت ، جماعت اسلامی کو بھی دکھایا گیا ، کہ تمہاری سیاسی بسیرت کتنی سطحی ہے ۔ ملکی حفاظت کی ذمہ دار ایجینسیوں کو دکھایا گیا کہ تم کسقدر احمق تھے کہ اس نا اہل کو سلیوٹ کرتے رہے ۔ ووٹروں کو دکھایا گیا کہ یہ ہے تمہارا شعور ۔ جمہوریت کو ننگا کیا گیا کہ یہ ہے جمہوریت کی اصل ۔ دانشوروں کو دکھایا گیا کہ یہ تھی تمہاری دانش ۔
شرمندگی اور ندامت ، دراصل ان سب کیلئے ہے جو جمہوریت پر مرنے کو شہادت سمجھ لیتے ہیں ۔ یہ ہے جمہوریت کہ ملک کی نا اہل اکثریت نے مل کر نا اہل کے ہاتھوں ملک کی تقدیر لکھ دی ۔
تصویر کا دوسرا رخ ہے کہ عدلیہ نے ملکر سازش کی ، اور ایک موثر سیاستدان کو اٹھا کر میدان سے باہر پھینک دیا ۔ اسے بھی قوم کی نا اہلی کہا جائے گا کہ سسٹم میں اسقدر گندگی بھر گئی کہ جو اختیارات میں آئے ، ملک کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھ لے ۔ اور قوم ماٹی کا مادھو بن کر دیکھتی رہے ۔
جس دن ہمیں یہ سمجھ آگئی کہ جس نظام سے ہم جڑے بیٹھے ہیں ، اس سے کبھی کوئی اہل شخص کرسی پر نہیں بیٹھ پائے گا ۔ ایک نااہل کے بعد دوسرا ، تیسرا اور چوتھا سب نا اہل ہی آئیں گے ۔ کیونکہ منتخب کرنے والوں میں کتنے ہیں جن کو وطن کی اصل ضرورت کا احساس ہے ۔ کتنے ہیں جو خوف سے ووٹ ڈالتے ہیں ۔ کتنے ہیں جو بدمعاش رشتے دار کیساتھ رشتہ داری نبھاتے ہیں ۔ کتنے ہیں جو ووٹ کو وطن کی امانت سمجھتے ہیں اور کتنے ہیں جو برادری کا حق سمجھتے ہیں ۔
ہمیں یقین کر لینا چاہئیے کہ ہمارا موجودہ نظام نا اہل ہے ۔ اسکی جگہ کوئی اہل نظام لانا ہو گا ۔ وگرنہ نا اہل آتے رہیں گے ۔ ایک اور بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئیے کہ کوئی بھی شخص نا اہل ہے تو شروع سے ہی نا اہل ہے ۔ کیونکہ اہل شخص کبھی نا اہل نہیں ہوتا ۔
آزاد ہاشمی
Friday, 13 April 2018
اصل نا اہل کون
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment