Monday, 9 April 2018

بھوکے کا نوالہ

" بھوکے کا نوالہ  "
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ
" اگر کسی کو بھوکا دیکھو تو یہ نہ سمجھنا کہ اللہ کے رزق میں کمی ہوئی ہے ۔ یہ سمجھنا کہ اسکے حصے کا نوالہ کسی نے چھین لیا ہے "
امیر کی تجوری میں پڑا زر ، زر مردار بن جاتا ہے ۔ یہ وہ زر ہے جو کوئی شخص  معیشت سے الگ  کر کے معیشت کے پہئیے کو روکنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ایسا زر قیامت کے روز ، اس شخص کیلئے عذاب بنے گا ۔ ہم نے تجارت کے جو اصول بنائے کہ اجناس کو ذخیرہ کر لو اور جب طلب بڑھ جائے تو منافع بڑھا دو ، اسلام کے نظام کے مطابق قابل تعزیر جرم ہے ۔ ذخیرہ اندوزی بھی اشیائے ضرورت کو عام انسان سے چھیننے کا عمل ہے ۔ آج دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو پیٹ بھر کے دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں ۔ اور کتنے لوگ ہیں جو اپنے زر کے زور پر ڈھیروں رزق ضائع کرتے ہیں ۔ اگر ہم اپنے قرب و جوار میں دیکھیں تو کتنی دعوتیں ایسی ہوتی ہیں ، جس پر رزق ضائع ہوتا ہے ۔ اور کتنے لوگ قرب و جوار میں ایک وقت کے کھانے کو ترس رہے ہوتے ہیں ۔ سڑکوں پہ مانگتا ایک بھکاری ہم سب کیلئے ایک سوال ہے ۔ اکثر مشاہدہ ہوا ہو گا کہ لوگ کچرا خانوں سے کھانے کی اشیاء تلاش کرتے ہیں ۔ جب اللہ نے انکو پیدا کیا تھا تو انکا رزق بھیجا تھا ۔ اور جب تک زندہ رکھے گا تو انکو رزق کا وعدہ کیا تھا ۔ پھر کیا وجہ کہ یہ کچرے خانوں سے رزق تلاش کریں ، بھوکے سوئیں اور امراء رزق کا ضیاع کریں ۔ گویا امراء چھینا ہوا رزق ضائع کرتے ہیں ۔
باب العلم کے قول سے یہی اگاہی ملتی ہے اور یہی حقیقت ہے ۔ 
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment